Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, جون 18, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبرپختونخوا حکومت: 19 جون کو مکمل سالانہ بجٹ پیش کرنےکا فیصلہ
    • ناپاک بھارتی کردار واضح، فتنہ الہندوستان بلوچستان کے امن و استحکام کا دشمن
    • بی ایل اے کی دہشت گردی علاقائی رابطوں اور عالمی تجارت کیلئے خطرہ قرار
    • پاکستانی تاجروں کے لیے خوشخبری، تفتان بارڈر پر پاک ایران تجارتی ویزا بحال
    • کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ دھرنا بری طرح فلاپ، باشعور عوامی مخالفت کا واضح ثبوت
    • زرعی اور صنعتی شعبوں کی پائیدار ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، وزیر خزانہ
    • وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیرِ صدارت اجلاس، محرم جلوسوں اور مجالس کی سکیورٹی کا جائزہ
    • اسماعیل بقائی نے ایران امریکا معاہدے کی تصدیق کر دی، عمل درآمد کے لیے فوری مذاکرات کا اعلان
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » قانون کی تعلیم کی بہتری کیلئے قومی کانفرنس کا انعقاد، جدید اصلاحات اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر اتفاق
    اہم خبریں

    قانون کی تعلیم کی بہتری کیلئے قومی کانفرنس کا انعقاد، جدید اصلاحات اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر اتفاق

    فروری 3, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    National conference to improve legal education and professional standards, agrees on modern reforms and use of technology
    جدید چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدت اور ٹیکنالوجی کا ذمہ دارانہ استعمال ناگزیر ہے، وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک
    Share
    Facebook Twitter Email

    ریسرچ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لا (RSIL) نے پاکستان بار کونسل کی ڈائریکٹوریٹ آف لیگل ایجوکیشن (PBC-DLE) کے اشتراک سے “پاکستان میں قانونی تعلیم اور پیشہ ورانہ عمل کا مستقبل: جدت، معیار اور اثرات” کے عنوان سے ایک قومی کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں ملک بھر سے قانون کے شعبے سے وابستہ 200 سے زائد افراد نے شرکت کی، جن میں عدالتی اکیڈمیوں کے نمائندے، سابق جج صاحبان، بار کونسل کے ارکان، سینئر و جونیئر وکلاء، ماہرینِ قانونی اصلاحات، اساتذہ، طلبہ اور لیگل ٹیکنالوجی سے وابستہ افراد شامل تھے ۔

    اسلام آباد: کانفرنس میں تین بنیادی موضوعات پر غور کیا گیا: قانون کے طلبہ کی تربیت میں بہتری، وکلاء اور ججوں کے لیے مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کو مضبوط بنانا اور موجودہ دور کے چیلنجز جیسے قانونی اخلاقیات، عدالتی آداب، کام کی جگہ پر ہراسانی، اور ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کا جائزہ ۔

    پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین، پیر مسعود چشتی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے قانونی تعلیم کے ارتقا پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ماضی کے دو سالہ انگریزی ایل ایل بی پروگرام محدود وسائل کے باوجود قابل وکلاء تیار کرتے تھے، تاہم بعد میں تین اور پانچ سالہ پروگرامز، نجی شعبے میں تیز رفتار توسیع اور الحاق شدہ لاء کالجز کے باعث معیار میں کمی واقع ہوئی ۔

    انہوں نے کہا کہ حالیہ اصلاحات، جن میں نئے کالجز پر پابندیاں اور چار سالہ ایل ایل بی پروگرام شامل ہیں، معیار اور استطاعت دونوں کو بہتر بنانے کی کوشش ہیں۔

    اس موقع پر انہوں نے مضبوط نصاب، پیشہ ورانہ تربیت، قانونی اخلاقیات، فیس کے نظام کی نگرانی اور نوجوان وکلاء کی رہنمائی پر زور دیا ۔

    افتتاحی اجلاس میں مختلف اداروں کے مابین تعاون کے ذریعے پیشہ ورانہ معیار بلند کرنے پر گفتگو ہوئی، اس پینل میں جج نوید احمد سومرو (ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج و سینئر فیکلٹی ممبر سندھ جوڈیشل اکیڈمی)، عامر سعید راون (ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، رکن پاکستان بار کونسل)، اسد رحیم خان (ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، پارٹنر اشتر علی اینڈ رحیم ایل ایل پی) اور سحر بندیال (ایڈووکیٹ ہائی کورٹ) شامل تھے ۔

    جج نوید احمد سومرو نے قانونی تعلیم اور جدید عدالتی تقاضوں کے درمیان خلا کی نشاندہی کرتے ہوئے عملی تربیت، تحقیق اور تخصص پر زور دیا، عامر سعید راون نے منظم اپرنٹس شپ، پیشہ ورانہ معیار کے مؤثر نفاذ اور مسلسل قانونی تعلیم کی توسیع کی ضرورت پر روشنی ڈالی، سحر بندیال نے مصنوعی ذہانت کے اخلاقی پہلوؤں اور خواتین وکلاء کو درپیش رکاوٹوں پر بات کی، جبکہ اسد رحیم خان نے قانونی تعلیم، رہنمائی اور معاشی رسائی میں کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے لا-گیٹ کو مضبوط بنانے اور جونیئر وکلاء کے لیے کم از کم وظیفے کی تجویز دی ۔

    کانفرنس کی ایک نمایاں سرگرمی قانون اور ٹیکنالوجی پر مبنی نمائش تھی، جہاں وزارتِ قانون و انصاف اور لیگل ٹیکنالوجی کمپنیوں نے جدید ڈیجیٹل اور اے آئی ٹولز پیش کیے، وزارت نے پاکستان کوڈ اور ڈاکومنٹ ریٹریول سسٹم متعارف کرایا، جبکہ اینیبلفائی اے آئی کے بانی شہزار الٰہی نے وکلاء کے لیے اے آئی کے عملی استعمال پر روشنی ڈالی۔ ڈیجی لاویئر، اے آئی اٹارنی اور پاکستان لا بوٹ نے براہِ راست مظاہرے پیش کیے ۔

    شرکاء نے گروپ مباحثوں کے ذریعے لاء اسکول کے نصاب کی جدید کاری، بار ووکیشنل کورسز اور مسلسل قانونی تعلیم میں بہتری، اور ججز کے لیے خصوصی و ٹیکنالوجی پر مبنی تربیت سے متعلق قابلِ عمل تجاویز تیار کیں، جنہیں متعلقہ اداروں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا ۔

    وفاقی سیکریٹری وزارتِ قانون و انصاف راجہ نعیم اکبر نے عدالتی نظام کی ڈیجیٹائزیشن سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی، جن میں ڈیجیٹل رپورٹنگ سسٹم اور پاکستان کوڈ شامل ہیں، جو اردو سمیت تازہ قوانین تک آسان رسائی فراہم کرتے ہیں ۔

    اختتامی اجلاس میں احمر بلال صوفی، عاصمہ حمید، منیر احمد ملک اور راجہ نعیم اکبر نے اصلاحات پر عمل درآمد، ٹیکنالوجی کے استعمال اور شمولیتی نظام کی ضرورت پر زور دیا ۔

    وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے اختتامی کلمات میں کہا کہ قانونی پیشہ مسلسل ارتقا پذیر ہے اور جدید چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدت اور ٹیکنالوجی کا ذمہ دارانہ استعمال ناگزیر ہے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleقازقستان کے صدر قاسم جومارت دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے
    Next Article انڈر 19 ورلڈ کے پہلے سیمی فائنل میں آسٹریلیا کو شکست، انگلینڈ نے فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    خیبرپختونخوا حکومت: 19 جون کو مکمل سالانہ بجٹ پیش کرنےکا فیصلہ

    جون 18, 2026

    ناپاک بھارتی کردار واضح، فتنہ الہندوستان بلوچستان کے امن و استحکام کا دشمن

    جون 18, 2026

    بی ایل اے کی دہشت گردی علاقائی رابطوں اور عالمی تجارت کیلئے خطرہ قرار

    جون 18, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبرپختونخوا حکومت: 19 جون کو مکمل سالانہ بجٹ پیش کرنےکا فیصلہ

    جون 18, 2026

    ناپاک بھارتی کردار واضح، فتنہ الہندوستان بلوچستان کے امن و استحکام کا دشمن

    جون 18, 2026

    بی ایل اے کی دہشت گردی علاقائی رابطوں اور عالمی تجارت کیلئے خطرہ قرار

    جون 18, 2026

    پاکستانی تاجروں کے لیے خوشخبری، تفتان بارڈر پر پاک ایران تجارتی ویزا بحال

    جون 18, 2026

    کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ دھرنا بری طرح فلاپ، باشعور عوامی مخالفت کا واضح ثبوت

    جون 18, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.