Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, مئی 18, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاکستان کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے براکہ نیوکلیئر پلانٹ پر ڈرون حملے کی شدید مذمت
    • جون میں بجلی کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا، پاور ڈویژن
    • نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے سعودی سفیر کی ملاقات، خطے کی تازہ صورت حال پر تبادلہ خیال
    • وفاقی حکومت کی جانب سے کاروباری اوقات کار سے متعلق پابندیوں میں عارضی نرمی
    • ملک کے 79 مخصوص اضلاع میں انسدادِ پولیو کی خصوصی مہم کا آغاز ہوگیا
    • حج 2026: پاکستانی حجاج کو بہترین سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے، سردار محمد یوسف
    • وزیراعظم کی زیر صدارت ترقیاتی بجٹ اور پی ایس ڈی پی منصوبوں کا جائزہ
    • خیبر ٹیلی ویژن کی 22ویں سالگرہ اور عید اسپیشل شو کی ریکارڈنگ، گل سانگہ سمیت نامور فنکاروں کی شاندار شرکت
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » کیا ایک شخص کی رہائی دہشتگردی کیخلاف جنگ جیتنے سے زیادہ اہم ہو سکتی ہے ؟
    بلاگ

    کیا ایک شخص کی رہائی دہشتگردی کیخلاف جنگ جیتنے سے زیادہ اہم ہو سکتی ہے ؟

    فروری 2, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Can the release of one person be more important than winning the war on terror?
    دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف پوری قوم کی جنگ ہے جبکہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی پوری قوم کا نہیں صرف پی ٹی آئی کا معاملہ ہے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان آج ایک بہت سنگین دور سے گزر رہا ہے، ایک طرف ہمارے بہادر جوان دن رات دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں تاکہ عوام کا امن اور سکون بحال ہو، تو دوسری طرف تحریک انصاف کی جانب سے  ایک ایسی بحث چل پڑی ہے جس میں عمران خان کی رہائی کو ملک کے بڑے مسائل سے جوڑا جا رہا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ایک شخص کی رہائی ملک میں جاری دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنےسے زیادہ اہم ہو سکتی ہے؟

    اس سوال کی اہمیت اپنی جگہ  مگر حقیقت میں ہمیں اسے صاف اور سادہ انداز میں سمجھنے کی ضرورت ہے ۔

    اس میں شک  نہیں کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ  قومی سلامتی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ، قومی سلامتی کا تعلق براہ راست  ملک کے ہر شخص سے ہے ، جب تک اس کو اہم ترین مسئلہ نہیں سمجھا جائے گا تب تک ملک کی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ۔

    پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشتگردی کے خلاف سخت جنگ لڑ رہا ہے۔،بلوچستان اور خیبر پختونخوا سمیت مختلف علاقوں میں دہشتگرد گروہ مسلسل حملے کر رہے ہیں، ان حملوں میں نہ صرف سیکیورٹی اہلکار بلکہ عام شہری بھی شہید  ہو رہے ہیں۔ گزشتہ 4 روز کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ایک ہی وقت میں بڑے پیمانے پر دہشتگرد حملے ہوئے جن میں بچوں، خواتین اور شہریوں سمیت 49 افراد شہید ہو گئے جن میں 16 سیکیورٹی اہلکار اور 33 عام شہری شامل ہیں  اور سیکیورٹی فورسز نے 177 دہشتگردوں کو ہلاک کیا جو ان حملوں میں ملوث تھے ۔

    یہ حملے صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک گہری اور پیچیدہ جنگ کا حصہ ہیں۔ دہشتگرد ایک منظم انداز میں ریاست اور عوام کو نشانہ بنا رہے ہیں  اس لیے فوج اور سیکیورٹی ادارے نہ صرف جوابی کارروائیاں کر رہے ہیں بلکہ بڑے پیمانے پر کلئیرنس آپریشنز اور انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں تاکہ دشمن کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے ۔

    یہ وہ جنگ ہے جس کا تعلق ہر گھر، ہر سکول، ہر خاندان کی سلامتی سے ہے۔ خدانخواستہ دہشتگردی ختم نہ ہوئی تو ہر پاکستانی کی زندگی خطرے میں رہے گی۔ تعلیم، معیشت، روزگار سب کچھ دہشتگردانہ خوف کے سائے میں دب جائے گا۔ اسی لیے یہ جنگ ہر پاکستانی کے لیے اولین ترجیح بننی چاہیے ۔

    دہشتگردی  کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ پوری قوم کا مسئلہ ہے۔ جب کسی علاقے میں دہشتگردی ہوتی ہے تو لوگ بے گھر ہوتے ہیں، کاروبار تباہ ہوتا ہے، بچے سکول نہیں جا سکتے اور معاشی ترقی رک جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امن و استحکام قائم کرنا ہر شہری کی خواہش ہونی چاہیے ۔

    دہشتگردی صرف بلوچستان میں نہیں ،خیبر پختونخوا میں بھی دہشتگردی کی  لہر میں اضافہ ہو رہا ہے، جس میں ہزاروں حملے ہوئے اور سیکورٹی فورسز نے ہزاروں دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دشمن نے ہماری ریاست کو کمزور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے، مگر سیکیورٹی اداروں نے سخت محنت سے ان خطرات کا مقابلہ کیا ہے اور کر رہے ہیں ۔

    یہ جنگ جیتنا آسان نہیں ہے۔ یہ ایک طویل اور مشکل مرحلہ ہے جس میں ہر شہری، ہر ادارہ اور ہر لیڈر کا مثبت کردار ضروری ہے ۔

    بدقسمتی مگر یہ ہے کہ آج ملک بھر کی تمام سیاسی جماعتیں سیکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں خود تحریک انصاف بھی اس بات کی حمایتی ہے کہ ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ضروری ہے ، تحریک انصاف یہ تو تسلیم کرتی ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنا ملک و قوم کیلئے ضروری ہے ، لیکن جب دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کی بات آتی ہے تو پی ٹی آئی حسب سابق یوٹرن لیتی ہے اور پھر آپریشن کی مخالفت کی جاتی ہے ، سوال یہ ہے کہ دہشتگردی کا خاتمہ پھر کیسے ممکن ہوگا؟

    پی ٹی آئی جہاں ایک طرف خیبر پختونخوا میں آپریشن کی مخالفت کرتی ہے وہاں ان کو محسوس ہو رہا ہے کہ ملک و قوم کو دہشتگردی کی لعنت سے بچانے کیلئے    عمران خان کی رہائی ضروری ہے ، پی ٹی آئی کو سوچنا چاہیے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی  ایک سیاسی اور قانونی مسئلہ ہے ،یہ معاملہ اہم  ضرور ہوگا لیکن صرف پی ٹی آئی کیلئے ۔ مل بھر کے تمام لوگ  پی ٹی آئی کیساتھ نہیں ہیں ۔ لیکن پی ٹی آئی کو یہ غلط فہمی ہے اور اس غلط فہمی سے پی ٹی آئی کو نکلنا ہوگا ۔

    حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ سیاسی اور قانونی دائرے میں آتا ہے  یعنی جمہوری عمل، عدالتی نظام اور سیاسی پارٹیوں کی بحث۔ اس کا دہشتگردی کی جنگ سے براہِ راست تعلق نہیں ہے ۔

    اگر ہم سینہ سپر ہو کر سوچیں تو جواب بہت سادہ ہے،امن اور سلامتی ہر شہری کا بنیادی حق ہے ۔
    جب تک دہشتگردی نہیں رکے گی، لوگ آزادانہ زندگی نہیں گزار سکتے، بچے سکول نہیں جائیں گے، کاروبار نہیں ہوگا اور ملک ترقی نہیں کر سکے گا۔

    ایک سیاسی رہائی، چاہے وہ جتنا بھی دل کو عزیز ہو، اس صورتِ حال میں ملک کی بقاء اور عوام کی حفاظت سے زیادہ اہم نہیں ہو سکتی۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنا ہر پاکستانی کی امنگ اور قومی مفاد کا معاملہ ہے ۔

    یہ کہنا کہعمران خان کی رہائی دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنے سے زیادہ اہم ہےحقیقت پسندانہ اور منطقی نہیں ہے ۔ یہ دونوں موضوعات مختلف دائرے میں آتے ہیں، ایک قوم کی حفاظت سے منسلک ہے اور دوسرا سیاسی اور قانونی استدلال سے متعلق ہے۔دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف فوج کی جنگ نہیں ہے  یہ قوم کی جنگ ہے، جبکہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی پوری قوم کا نہیں صرف پی ٹی آئی کا معاملہ  ہے ۔سیاسی اختلافات ہونا فطری ہے، مگر اگر ملک کی سالمیت خطرے میں ہو تو سب کو اپنے اختلافات ایک طرف رکھ کر امن اور سلامتی کو ترجیح دینی چاہیے ۔

    ایک مضبوط، پرامن اور مستحکم پاکستان ہر پاکستانی کا حق ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر پاکستانی پہلے اپنی ملکی و قومی  ترجیحات کو مقدم رکھے ، عمران خان سمیت کوئی بھی ایک شخص ملک کی سلامتی ،ترقی اور خوشحالی سے زیادہ اہم ہے اور نہ ہو سکتا ہے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleشہید پولیس اہلکار توصیف خان کی نماز جنازہ پولیس لائن خیبر شاکس میں ادا، سرکاری اعزاز کیساتھ سپردِ خاک
    Next Article ڈیرہ اسماعیل خان میں نیشنل بینک پر مسلح افراد کا حملہ، 4 پولیس اہلکار زخمی
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    ہم نے ایک آفتاب کھو دیا!

    مئی 6, 2026

    آٹے کے صندوق میں بند دو کلیاں

    مئی 5, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاکستان کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے براکہ نیوکلیئر پلانٹ پر ڈرون حملے کی شدید مذمت

    مئی 18, 2026

    جون میں بجلی کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا، پاور ڈویژن

    مئی 18, 2026

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے سعودی سفیر کی ملاقات، خطے کی تازہ صورت حال پر تبادلہ خیال

    مئی 18, 2026

    وفاقی حکومت کی جانب سے کاروباری اوقات کار سے متعلق پابندیوں میں عارضی نرمی

    مئی 18, 2026

    ملک کے 79 مخصوص اضلاع میں انسدادِ پولیو کی خصوصی مہم کا آغاز ہوگیا

    مئی 18, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.