پشاور (حسن علی شاہ سے): خیبر پختونخوا، بالخصوص پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی سیاسی شناخت اور قوت کا مرکز طویل عرصے تک بلور برادران رہے۔ باچا خان اور خان عبدالولی خان کے نظریے کے پیروکاروں میں حاجی غلام احمد بلور، الیاس بلور اور بعد ازاں بشیر احمد بلور نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔
بشیر احمد بلور نے جنرل ضیاء الحق کے بعد گیارہ برس کے طویل وقفے کے بعد ہونے والے عام انتخابات میں عملی سیاست میں قدم رکھا۔ انہوں نے صوبائی اسمبلی کے حلقے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ایوب شاہ کے مقابلے میں الیکشن لڑا تاہم کامیاب نہ ہو سکے۔ بعد ازاں وہ اسی حلقے سے دو مرتبہ کامیاب ہوئے اور امیر حیدر خان ہوتی کی کابینہ میں سینئر وزیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اسی دوران پشاور کے قصہ خوانی بازار کے قریب ایک محلے میں دہشت گردی کا نشانہ بنے اور جامِ شہادت نوش کیا۔
دوسری جانب حاجی غلام احمد بلور نے قومی اسمبلی کے انتخابات میں دو مرتبہ کامیابی حاصل کی اور میاں نواز شریف کی وفاقی کابینہ میں وزیر کے طور پر بھی فرائض انجام دیے۔ بشیر بلور کی شہادت کے بعد ان کے صاحبزادے ہارون بلور نے ضمنی انتخابات میں حصہ لیا، تاہم وہ رابطہ عوام مہم کے دوران دہشت گردی کا نشانہ بن گئے۔
ہارون بلور کی شہادت کے بعد ان کی اہلیہ ثمر بلور نے الیکشن میں کامیابی حاصل کی، مگر چند ماہ بعد عوامی نیشنل پارٹی کو خیرباد کہہ کر پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کر لی، جہاں وہ اس وقت سینیٹر کے منصب پر فائز ہیں۔
واضح رہے کہ سال 2025 میں الیاس بلور بھی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔
چند روز قبل حاجی غلام احمد بلور نے پشاور میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیاست سے کنارہ کشی اور اسلام آباد منتقل ہونے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر انہوں نے شکوہ کیا کہ انہیں ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت انتخابی عمل میں شکست دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پشاور چھوڑنے کا دکھ ضرور ہے، تاہم عمر اور صحت اب مزید فعال سیاست کی اجازت نہیں دیتی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پشاور میں اے این پی کی عوامی مقبولیت کا گراف طویل عرصے تک بلور خاندان کے گرد گھومتا رہا، جو بشیر بلور کی شہادت کے بعد تیزی سے نیچے آیا۔ اب آنے والے متوقع انتخابات میں یہ بات واضح ہو جائے گی کہ بلور برادران کے بغیر پشاور میں اے این پی کس حد تک اپنی سیاسی حیثیت برقرار رکھ پاتی ہے۔

