پی ٹی آئی مخالفین کے مطابق پی ٹی آئی میں سب کچھ عمران خان کے گرد گھومتا ہے، فیصلے، نعرے، احتجاج سب ان کی شخصیت سے جڑے ہیں، پارٹی کا ڈھانچہ مضبوط نہیں، کیونکہ قیادت کا انحصار ایک شخص پر ہے ۔
بہت سے غیر جانبدار مبصرین بھی یہ مانتے ہیں کہ پی ٹی آئی میں پرسنلٹی کلٹ (شخصیت پرستی) موجود ہے،جہاں لیڈر کی بات کو ناقابل سوال سمجھا جاتا ہےاور اختلاف کو غداری قرار دیا جاتا ہے ۔
پی ٹی آئی کے حق میں دلائل دوسری طرف، پی ٹی آئی کے حامی اسے مکمل سیاسی جماعت قرار دیتے ہیں، انکے مطابق
یہ نوجوانوں، دیہی علاقوں اور شہری طبقے کو جوڑنے والی واحد بڑی جماعت ہے،سخت کریک ڈاؤن، گرفتاریاں، اور انتخابی نشان چھیننے کے باوجود پارٹی سڑکوں پر یہ کوئی عام فین کلب نہیں کر سکتا،سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کی طاقت، احتجاج، اور منظم مظاہرے یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ ایک سیاسی تحریک ہے ۔
حقائق ۔۔۔۔۔
پی ٹی آئی نہ خالص فین کلب اور نہ ہی مکمل سیاسی پارٹی، یہ ایک تحریک ہے جو عمران خان کی شخصیت سے شروع ہوئی، اور اب سیاسی جدوجہد کی شکل اختیار کر چکی ہے ۔
اگر پارٹی مستقبل میں زندہ رہنی ہے تو اسے عمران خان سے آگے بڑھ کر مضبوط تنظیم، واضح پالیسیاں اور اندرونی جمہوریت بنانا ہو گی، ورنہ الزام درست ثابت ہو گا کہ یہ صرف ایک عظیم لیڈر کا فین کلب ہے، نہ کہ ایک پائیدار سیاسی قوت ۔
کوئی شک نہیں عمران خان نے ایک پوری نسل کو سیاست اور ملکی امور میں دلچسپی لینے سے آشنا کیا ہے ،یہ بڑی بدقسمتی ہوگی کہ حقیقی تبدیلی کے برعکس نوجوانوں کی یہ طاقت مایوس اور قصہ پارینہ بن جائے ۔۔۔۔

