محکمہ خزانہ خیبر پختونخوا نے محکمۂ جنگلات سوات میں کروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف کرتے ہوئے ڈویژنل اکاؤنٹنٹ سلمان نامی اہلکار کے خلاف باضابطہ کارروائی شروع کر دی ہے۔
محکمہ خزانہ کے مطابق ملزم نے سرکاری چیکوں میں ردوبدل کر کے 6 کروڑ 66 لاکھ روپے خرد برد کیے، جبکہ 9 کروڑ روپے سے زائد سرکاری فنڈز مبینہ طور پر اپنے ذاتی بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیے۔ حکام کا کہنا ہے کہ غیر مجاز رقوم کی منتقلی اور چیکوں میں ہندسوں کی تبدیلی کے معاملے پر سخت کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔
محکمہ خزانہ کے مطابق یہ بے ضابطگیاں اندرونی مالیاتی نظام کی جانچ اور تفصیلی آڈٹ کے دوران سامنے آئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزم پہلے بینک چیک کا بیلنس تصدیق کرتا، کلیئرنس کے بعد چیک میں ہندسوں میں ردوبدل کرتا اور بعد ازاں انہیں نیشنل بینک آف پاکستان، مین برانچ سیدو شریف سے کلیئر کرواتا تھا۔
رپورٹ کے مطابق یہ مبینہ عمل گزشتہ چھ سے سات سال سے جاری تھا۔ کارروائی کے دوران ملزم سے 93 لاکھ روپے بھی برآمد کر لیے گئے ہیں، جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔ محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ سرکاری خزانے کے تحفظ کے لیے ذمہ داران کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔

