Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, فروری 21, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • غربت کی نئی لہر اور معیشت کا کڑا امتحان
    • ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سپر 8: پاکستان اور نیوزی لینڈ کا میچ مسلسل بارش کے باعث منسوخ
    • کوئی عدالت شناختی کو بلاک نہیں کر سکتی، سپریم کورٹ نے حکم جاری کردیا
    • ریاستی اداروں پر الزامات کے کیس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم
    • ڈی آئی خان میں سی ٹی ڈی کی کامیاب کارروائی، خاتون خودکش حملہ آور گرفتار
    • بنوں میں ایف سی لائن دریوبہ پر دہشت گردوں کا ڈرون حملہ، 8 اہلکار زخمی
    • بنوں میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر فتنہ الخوارج کا حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی شہید
    • پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » غربت کی نئی لہر اور معیشت کا کڑا امتحان
    بلاگ

    غربت کی نئی لہر اور معیشت کا کڑا امتحان

    فروری 21, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    A new wave of poverty and a severe test of the economy
    غربت کی شرح 28.9 فیصد تک پہنچ چکی ہے، 7 کروڑ افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزارے پر مجبور ہیں ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان میں معاشی استحکام کے سرکاری دعوؤں کے باوجود زمینی حقائق ایک سنگین تصویر پیش کر رہے ہیں، مالی سال 2024-2025 کی ابتدائی غربت تخمینہ رپورٹ کے مطابق ملک میں غربت کی شرح 28.9 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو گزشتہ گیارہ برس کی بلند ترین سطح ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ تقریباً 7 کروڑ افراد ماہانہ 8 ہزار 484 روپے کی مقررہ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ وہ کم از کم اخراجاتی حد ہے جس میں ایک فرد اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکتا ہے، اگر اسے سادہ الفاظ میں بیان کیا جائے تو ہر تین میں سے ایک شہری غربت کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے ۔

    اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2019 میں غربت کی شرح 21.9 فیصد تھی، جو اب بڑھ کر 28.9 فیصد ہو چکی ہے، یعنی سات برس میں تقریباً 32 فیصد اضافہ، یہ اضافہ کسی ایک واقعے یا ایک سال کی پالیسی کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلسل معاشی دباؤ، بلند مہنگائی، توانائی کی قیمتوں میں اضافے، روپے کی قدر میں کمی اور بالواسطہ ٹیکسوں کے بوجھ کا مجموعی اثر ہے، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے خود اعتراف کیا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سبسڈی کے خاتمے اور مالیاتی سختی کے اقدامات نے غربت میں اضافے میں کردار ادا کیا، اگرچہ ان کے بقول یہ اقدامات معاشی استحکام کے لیے ناگزیر تھے ۔

    صوبائی سطح پر صورتحال مزید تشویشناک دکھائی دیتی ہے، پنجاب میں غربت 16.5 فیصد سے بڑھ کر 23.3 فیصد ہو گئی، سندھ میں 24.5 فیصد سے بڑھ کر 32.6 فیصد، خیبر پختونخوا میں 28.7 فیصد سے بڑھ کر 35.3 فیصد جبکہ بلوچستان میں یہ شرح 42 فیصد سے بڑھ کر 47 فیصد تک جا پہنچی ہے، بلوچستان میں تقریباً ہر دوسرا فرد غربت کا شکار ہے، دیہی علاقوں میں غربت 36.2 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 17.4 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ زرعی معیشت اور دیہی روزگار سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ۔

    آمدنی میں عدم مساوات بھی 32.7 کی سطح تک پہنچ گئی ہے، جو 27 برس کی بلند ترین سطح ہے۔ بے روزگاری کی شرح 7.1 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، جو گزشتہ دو دہائیوں کی بلند ترین سطحوں میں شمار ہوتی ہے، اعداد و شمار کے مطابق 2019 میں حقیقی ماہانہ گھریلو آمدنی 35 ہزار 454 روپے تھی، جو کم ہو کر 31 ہزار 127 روپے رہ گئی، یعنی تقریباً 12 فیصد کمی، اسی طرح حقیقی ماہانہ اخراجات 31 ہزار 711 روپے سے کم ہو کر 29 ہزار 980 روپے ہو گئے، اس کا مطلب یہ ہے کہ آمدنی میں برائے نام اضافہ بھی مہنگائی کی رفتار کے سامنے بے اثر ثابت ہوا اور قوتِ خرید مسلسل کم ہوتی گئی ۔

    معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پالستان کی حالیہ نمو زیادہ تر پیداوار پر مبنی رہی، روزگار پیدا کرنے والی نہیں، صنعتیں کورونا سے پہلے کی سطح تک مکمل بحال نہ ہو سکیں، جبکہ توانائی لاگت اور مالیاتی دباؤ نے کاروباری سرگرمیوں کو محدود رکھا، نتیجتاً عام شہری کی زندگی میں بہتری کے آثار نمایاں نہیں ہو سکے، اگرچہ حکومت کا مؤقف ہے کہ استحکام کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد ترقی کی رفتار تیز ہو گی اور غربت میں کمی آئے گی، تاہم زمینی حقائق اس وقت سخت معاشی دباؤ کی نشاندہی کر رہے ہیں ۔

    اصل سوال یہ ہے کہ کیا محض مالیاتی استحکام کافی ہے، یا پالیسیوں کا محور عام آدمی کی آمدنی اور روزگار ہونا چاہیے؟ نقد امدادی پروگرام وقتی سہارا فراہم کر سکتے ہیں، مگر پائیدار حل صنعت کاری، زرعی اصلاحات، برآمدات میں اضافہ اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری سے ہی ممکن ہے، جب تک معاشی ترقی کا فائدہ براہِ راست گھرانوں کی حقیقی آمدنی میں اضافے کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتا، غربت کے یہ اعداد و شمار محض رپورٹس تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ معاشرتی بے چینی اور عدم استحکام کو بھی جنم دیتے رہیں گے ۔

    پالستان اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں پالیسی کا ہر فیصلہ کروڑوں افراد کی زندگی پر اثر انداز ہو رہا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشی اصلاحات کو انسانی پہلو سے جوڑا جائے، تاکہ استحکام کے ثمرات محض گراف اور اشاریوں تک محدود نہ رہیں بلکہ عام شہری کے دسترخوان تک پہنچ سکیں ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سپر 8: پاکستان اور نیوزی لینڈ کا میچ مسلسل بارش کے باعث منسوخ
    Afzal Yousafzai
    • Website

    لکھاری صحافی اور مصنف ہیں ان کا ای میل ایڈریس afzalshahmian@gmail.comہے

    Related Posts

    رہائی فورس کا اعلان،سیاسی وفاداری یا تصادم کا حتمی فیصلہ ؟

    فروری 20, 2026

    باجوڑ حملہ، سفارتی احتجاج اور پاک افغان تعلقات کا نیا موڑ۔۔۔۔

    فروری 19, 2026

    خان کی صحت ،پی ٹی آئی قیادت کنفیوژن کا شکار؟؟؟؟؟

    فروری 18, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    غربت کی نئی لہر اور معیشت کا کڑا امتحان

    فروری 21, 2026

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سپر 8: پاکستان اور نیوزی لینڈ کا میچ مسلسل بارش کے باعث منسوخ

    فروری 21, 2026

    کوئی عدالت شناختی کو بلاک نہیں کر سکتی، سپریم کورٹ نے حکم جاری کردیا

    فروری 21, 2026

    ریاستی اداروں پر الزامات کے کیس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

    فروری 21, 2026

    ڈی آئی خان میں سی ٹی ڈی کی کامیاب کارروائی، خاتون خودکش حملہ آور گرفتار

    فروری 21, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.