Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, اگست 29, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • فیلڈ مارشل عاصم منیر سے سعودی وزیر ماحولیات کی اہم ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال
    • جنوبی وزیرستان کے بازار میں دھماکہ، امن کمیٹی کا رکن جاں بحق، 8 افراد زخمی
    • بیرسٹر افتخار گیلانی نے آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا
    • ہاکی ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ کو ہرا کر پاکستان نے 11ویں پوزیشن حاصل کرلی
    • لیگی رہنما بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوگئے
    • سی ٹی ڈی پشاور ریجن کی قبرستان مہر گل کلے، میراکچوڑی میں کامیاب کارروائی، 4 دہشت گرد ہلاک
    • کویت کے وزیرِ دفاع کی راولپنڈی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اہم ملاقات
    • پاکستان کی مسلح افواج کویتی فوج کی تربیت و سرحدی دفاع میں معاونت کیلئے معاہدے پر دستخط
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » باجوڑ حملہ، سفارتی احتجاج اور پاک افغان تعلقات کا نیا موڑ۔۔۔۔
    بلاگ فروری 19, 2026

    باجوڑ حملہ، سفارتی احتجاج اور پاک افغان تعلقات کا نیا موڑ۔۔۔۔

    Facebook Twitter Email
    Bajaur attack, diplomatic protest and a new turn in Pak-Afghan relations
    دلچسپ امر یہ ہے کہ کشیدگی سے قبل دونوں ممالک کے درمیان حالات میں بہتری کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی تھیں ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    حالیہ دنوں باجوڑ میں ہونے والے حملے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ایک بار پھر کشیدگی کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں، حملے میں جانی نقصان پر پاکستان نے افغان عبوری حکومت کے سامنے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا اور اسلام آباد میں تعینات افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے باضابطہ احتجاج کیا گیا، ساتھ ہی یہ واضح پیغام دیا گیا کہ کالعدم تنظیموں اور ان کے سہولت کاروں کو جہاں بھی پایا گیا، ٹارگٹ کیا جا سکتا ہے ۔

    سیکیورٹی خدشات اور سخت مؤقف: ۔
    پاکستان کا مؤقف یہ رہا ہے کہ سرحد پار موجود عناصر پاکستانی علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں، ماضی میں بھی تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حوالے سے ایسے خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ انہیں افغان سرزمین سے سہولت ملتی ہے، جس کی کابل حکومت تردید کرتی رہی ہے، باجوڑ واقعے کے بعد اسلام آباد کا لہجہ مزید سخت دکھائی دے رہا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ سیکیورٹی معاملات پر کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی ۔

    مثبت پیش رفت اور ثالثی کی کوششیں: ۔
    دلچسپ امر یہ ہے کہ کشیدگی سے قبل دونوں ممالک کے درمیان حالات میں بہتری کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی تھیں، رمضان کے مقدس مہینے میں پاک افغان سرحد پر سکون ماحول اور طویل عرصے سے بند سرحدی راستوں کو کھولنے کے حوالے سے بریک تھرو کی امید پیدا ہو رہی تھی ۔

    اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کی ثالثی کے نتیجے میں افغان طالبان کی تحویل میں موجود پاکستان کے تین سیکیورٹی اہلکاروں کی رہائی ممکن ہوئی، یہ پیش رفت اعتماد سازی کے ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی تھی، مزید یہ کہ سعودی حکام دونوں فریقین کے درمیان تجارت کی بحالی اور سرحدی آمدورفت کھولنے کے لیے بھی سرگرم تھے ۔

    سرحدی تجارت اور عوامی اثرات: ۔
    پاک افغان سرحد کی بندش کا سب سے زیادہ اثر سرحدی علاقوں کے عوام اور تاجروں پر پڑتا ہے، طورخم اور چمن جیسے اہم راستوں کی بندش سے روزگار، اشیائے خوردونوش کی ترسیل اور دوطرفہ تجارت متاثر ہوتی ہے، رمضان میں سرحد کھولنے کی اطلاعات نے کاروباری حلقوں میں امید پیدا کی تھی کہ معاشی سرگرمیاں بحال ہوں گی اور دونوں ممالک کے عوام کو ریلیف ملے گا ۔

    بڑھتی کشیدگی کے خدشات: ۔
    تاہم باجوڑ حملے اور اس کے بعد سفارتی سطح پر سخت ردعمل نے ان مثبت پیش رفتوں کو غیر یقینی بنا دیا ہے، افغان ناظم الامور کی طلبی اور سخت وارننگ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اگر سرحد پار دہشت گردی کے واقعات نہ رکے تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں ۔

    دوسری جانب، خطے کی مجموعی صورتحال بھی نازک ہے، پاکستان پہلے ہی داخلی سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹ رہا ہے، جبکہ افغانستان کی عبوری حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے اور معاشی دباؤ کا سامنا ہے، ایسے میں کسی بھی نئی کشیدگی کا نقصان دونوں ممالک کو ہو سکتا ہے ۔

    آگے کا راستہ: ۔
    موجودہ حالات میں سب سے اہم ضرورت سفارتی رابطوں کے تسلسل اور مؤثر بارڈر مینجمنٹ کی ہے۔ اگر ثالثی کے ذریعے اعتماد سازی کے اقدامات جاری رکھے جائیں، مشترکہ سیکیورٹی میکانزم فعال کیا جائے اور کالعدم تنظیموں کے خلاف واضح اور عملی اقدامات ہوں، تو نہ صرف سرحدی تجارت بحال ہو سکتی ہے بلکہ خطے میں استحکام کی امید بھی بڑھ سکتی ہے ۔

    باجوڑ واقعہ ایک آزمائش ہے ،یہ دیکھنا ہوگا کہ دونوں ہمسایہ ممالک اسے مزید تصادم کا ذریعہ بناتے ہیں یا اسے سنجیدہ مذاکرات اور عملی تعاون کی طرف ایک موڑ کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: زمبابوے نے آسٹریلیا کے بعد سری لنکا کو بھی ہرادیا
    Next Article سیکیورٹی فورسز کی لکی مروت میں کامیاب کارروائی، 4 دہشت گرد ہلاک
    Fayaz
    • Website

    Related Posts

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے سعودی وزیر ماحولیات کی اہم ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال

    اگست 28, 2026

    جنوبی وزیرستان کے بازار میں دھماکہ، امن کمیٹی کا رکن جاں بحق، 8 افراد زخمی

    اگست 28, 2026

    بیرسٹر افتخار گیلانی نے آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    اگست 28, 2026

    ہاکی ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ کو ہرا کر پاکستان نے 11ویں پوزیشن حاصل کرلی

    اگست 28, 2026

    لیگی رہنما بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوگئے

    اگست 28, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.