اسلام آباد: ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے 1 ارب ڈالر کے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) فنڈ کے قیام کو ماہرین کی جانب سے مستقبل کی معیشت کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
حکومتِ پاکستان اور اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) ملک میں ڈیجیٹل شعبے کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ حال ہی میں حکومت کی جانب سے 1 ارب ڈالر کی اے آئی فنڈنگ کا اعلان کیا گیا، جس کا مقصد ملک میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور نوجوانوں کو بااختیار بنانا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم جاوید نے وفاقی حکومت کے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے بروقت اور دور اندیش فیصلہ قرار دیا۔
ڈاکٹر ندیم جاوید کے مطابق اس منصوبے کے تحت ملک بھر کے اسکولوں میں اے آئی نصاب متعارف کرایا جائے گا تاکہ ایک مضبوط اے آئی ایکو سسٹم قائم کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2030 تک طلبہ کے لیے ایک ہزار مکمل فنڈڈ اسکالرشپس فراہم کی جائیں گی جبکہ 10 لاکھ غیر آئی ٹی افراد کو اے آئی کی تربیت دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی فنڈ نوجوانوں کے لیے اسٹارٹ اپس، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور مائیکرو انٹرپرائزز کے قیام کے نئے مواقع پیدا کرے گا، جس سے ملک میں جدت اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدامات پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کے قیام اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ تربیت اور جدید مہارتوں کے حصول کے ذریعے نوجوان ملکی معیشت میں مؤثر کردار ادا کر سکیں گے۔
حکومتِ پاکستان کا 1 ارب ڈالر اے آئی فنڈ، ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read

