پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ضبط کیے گئے جہاز توسکا کا عملہ اعتماد سازی کے لیے ہمارے حوالے کر دیا ہے، جہاز ضروری مرمت کے بعد مالکان کو واپس کیا جائے گا۔
امریکہ کے سینٹکام ترجمان کیپٹن ٹام ہاکنز نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ 19 اپریل کو ضبط کیے گئے ایرانی جہاز توسکا اور عملہ کے 22 ارکان کو پاکستان کے حوالے کیا جا رہا ہے جو ایران کو واپس بھیجے جائیں گے۔
دفتر خارجہ کے مطابق ایرانی جہاز توسکا کے عملے کے 22 ارکان گزشتہ شب پاکستان پہنچ گئے تھے، انہیں آج ایرانی حکام کے حوالے کیا جائے گا، ایرانی جہاز کو بھی ضروری مرمت کے بعد اس کے اصل مالکان کو واپس کیا جائے گا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے مزید کہا گیا کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے جاری ثالثی کوششوں کو جاری رکھے گا، ہم مکالمے اور سفارت کاری کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
قبل ازیں امریکی ٹی وی نے سینٹ کام ترجمان کیپٹن ٹام ہاکنز کے حوالے سے رپورٹ دی کہ ایرانی بحری جہاز ایم وی توسکا ضبط کیے جانے کے بعد عملے کے 22 ارکان سمیت پاکستان منتقل کر دیا گیا۔
سینٹکام ترجمان ٹام ہاکنز نے بتایا کہ ایران کے بحری جہاز کو پاکستان منتقل کرنے کا مقصد ایران واپس بھیجنا ہے، اس سلسلے میں تمام اقدامات آج مکمل کر لیے گئے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق یہ جہاز 19 اپریل کو امریکی فورسز نے قبضے میں لیا تھا، اسے خلیجِ عمان میں ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کے قریب روکا گیا تھا، پچھلے ہفتے عملے کے 6 افراد کو پہلے ہی واپسی کے لیے خطے کے ایک ملک کے حوالے کیا گیا تھا۔

