خیبر پختونخوا کے عوام آج جس کربناک صورتحال سے گزر رہے ہیں، وہ محض عارضی انتظامی کمزوریوں یا اتفاقیہ بحرانوں کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک گہرے اور مسلسل سیاسی و ریاستی بگاڑ کی عکاس ہے۔ پاکستان کا وفاقی ڈھانچہ ایک ایسے عمرانی معاہدے پر استوار ہے جہاں تمام اکائیاں برابر کی شراکت دار تصور کی جاتی ہیں، لیکن جب ہم خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال کا نقشہ کھینچتے ہیں تو یہ تصویر وفاقی ہم آہنگی کے بجائے ایک سنگین معاشی استحصال کی عکاسی کرتی نظر آتی ہے۔
ایک طرف صوبے میں پی ٹی آئی کی سیاسی قیادت، اس کی ترجیحات اور اندازِ حکمرانی ابہام کا شکار ہیں، تو دوسری جانب وفاقی نظام کی عملی ناکامی نے اس بحران کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ نتیجتاً ایک ایسا صوبہ جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، اپنی بنیادی ضروریات اور آئینی حقوق کے لیے بھی ترس رہا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام دوہری ناانصافی کا شکار ہیں۔ ان کے اپنے منتخب نمائندے اکثر و بیشتر محض کھوکھلے سیاسی بیانات اور نعروں تک محدود رہتے ہیں، اور جب وسائل کی تقسیم اور آئینی حقوق کی بات آتی ہے تو وفاق کے سامنے اعدادوشمار اور ٹھوس دلائل کے ساتھ صوبے کا مقدمہ لڑنے کے بجائے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس غیر سنجیدہ رویے کے نتیجے میں نہ صرف صوبے کی معاشی مشکلات بڑھی ہیں بلکہ عوام کے ریاستی ڈھانچے پر اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
اس ناانصافی کی پہلی داستان پانی کی تقسیم سے شروع ہوتی ہے۔ خیبر پختونخوا کا تقریباً 3.1 ملین ایکڑ فٹ پانی دیگر صوبے دہائیوں سے استعمال کر رہے ہیں، مگر اس کے عوض صوبے کو کوئی معاوضہ نہیں ملتا۔ 1991 کے پانی کے معاہدے کے تحت صوبوں کے حصے تو مقرر کر دیے گئے، لیکن ضروری انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی اور وفاقی عدم توجہی کی وجہ سے خیبر پختونخوا اپنے حصے کا پانی استعمال کرنے سے قاصر ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر خیبر پختونخوا اپنے آبی وسائل دوسروں کے ساتھ بانٹ رہا ہے، تو کیا اسے اس کا جائز حق نہیں ملنا چاہیے؟
توانائی کے شعبے میں بھی خیبر پختونخوا کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کسی المیے سے کم نہیں ہے۔ صوبہ 6,734 میگاواٹ سستی پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، مگر اسے نیشنل گرڈ سے صرف 1,700 میگاواٹ فراہم کی جاتی ہے، جو اس کی ضروریات سے کہیں کم ہے۔ یہ ایک ایسا تضاد ہے جو کسی بھی منصفانہ نظام میں قابل قبول نہیں ہو سکتا کہ جو خطہ خود توانائی پیدا کر رہا ہو، وہی اندھیروں میں ڈوبا رہے۔ یہ سوال صرف معاشی نہیں بلکہ اخلاقی بھی ہے، کیونکہ وسائل کی یہ غیر منصفانہ تقسیم عوام میں محرومی اور احساسِ بیگانگی کو جنم دیتی ہے، جو کسی بھی وفاقی ریاست کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو سکتی ہے۔
قدرتی وسائل کی بات کی جائے تو خیبر پختونخوا کی اہمیت مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔ صوبائی حکومت کے جاری کردہ 2025 کے ترقیاتی اعدادوشمار کے مطابق، خیبر پختونخوا ملک کی مجموعی خام تیل کی پیداوار کا 41.5 فیصد پیدا کرتا ہے، جبکہ اس کا اپنا استعمال صرف 9.75 فیصد ہے۔ اسی طرح قدرتی گیس کی پیداوار میں صوبے کا حصہ 12.79 فیصد ہے، جبکہ استعمال صرف 5.61 فیصد ہے۔ یہ اعدادوشمار اس مفروضے کو غلط ثابت کرتے ہیں کہ یہ صوبہ وفاق پر بوجھ ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ خیبر پختونخوا اپنے وسائل کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو سہارا دے رہا ہے۔
مگر اس کے باوجود صوبے کو اس کا آئینی حق دینے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ خصوصاً گیس کے معاملے میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، جہاں وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کے سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی فراہمی معطل کرنے کا فیصلہ نہ صرف معاشی سرگرمیوں کو مفلوج کر رہا ہے بلکہ سینکڑوں کاروباروں کو تباہی کے دہانے پر لے آیا ہے۔ تقریباً 600 سی این جی اسٹیشنز بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے روزگار ہو سکتے ہیں۔ یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 158 کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو واضح طور پر یہ کہتا ہے کہ جس صوبے میں قدرتی گیس پیدا ہوتی ہے، اسے اس کے استعمال میں ترجیح حاصل ہوگی۔ مگر عملی طور پر اس اصول کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، جو وفاقی ڈھانچے کی ساکھ کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔
خیبر پختونخوا میں گندم کا بحران اس تصویر کا ایک اور سیاہ پہلو ہے۔ صوبہ ملک کی مجموعی گندم پیداوار کا صرف 4.75 فیصد پیدا کرتا ہے اور اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے پنجاب پر انحصار کرتا ہے۔ مگر ہر سال جب گندم کی قلت بڑھتی ہے تو بین الصوبائی سرحدوں پر ناکہ بندی کر کے گندم کی ترسیل پر غیر اعلانیہ پابندی یا سختیاں عائد کر دی جاتی ہیں۔ یہ اقدام براہ راست وفاقی روح کے منافی ہے، کیونکہ اگر پاکستان ایک ملک ہے تو ایک اکائی سے دوسری اکائی تک اشیائے خوردونوش کی ترسیل میں رکاوٹ کیوں؟
اس کے نتیجے میں خیبر پختونخوا میں آٹے کی قیمتیں کئی گنا بڑھ جاتی ہیں اور عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ اس سال صورتحال مزید سنگین ہو چکی ہے، اور خیبر پختونخوا کے آٹا مل مالکان نے پنجاب سے گندم کی ترسیل پر عائد غیر آئینی پابندی کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔ مل مالکان کا موقف ہے کہ یہ پابندی آئین کے آرٹیکل 151 کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو ملک بھر میں آزادانہ تجارت کی ضمانت دیتا ہے۔ پنجاب اور سندھ سے نئی فصل آنے کے بعد، جب کہ گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں، پنجاب کی اوپن مارکیٹ سے خریداری پر قدغن لگانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اگر گندم کی ترسیل فوری بحال نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا میں آٹا ملیں بند ہو سکتی ہیں، جس سے سینکڑوں مزدوروں کا چولہا ٹھنڈا ہو جائے گا۔
یہ تمام مسائل ایک بڑی تصویر کا حصہ ہیں، جہاں خیبر پختونخوا کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صوبائی حکومت بھی اپنے عوام کے حقوق کے تحفظ میں مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ صوبے کے معاشی حقوق کے لیے سیاسی بیانیے اور نعروں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کی ضرورت ہے، جو بدقسمتی سے مفقود ہیں۔ جب تک صوبائی قیادت اپنے وسائل اور حقوق کے لیے سنجیدگی اور دلائل کے ساتھ آواز نہیں اٹھائے گی، تب تک یہ ناانصافیاں جاری رہیں گی۔
اس کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ ایک مضبوط وفاق اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب تمام اکائیوں کو برابر کے حقوق اور مواقع فراہم کیے جائیں۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم نہ صرف آئینی تقاضا ہے بلکہ قومی یکجہتی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی اور احساسِ محرومی و عدم اعتماد کی اس آگ کو ٹھنڈا نہ کیا گیا، تو اس کے نتائج نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے ملک کے استحکام کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ ریاست کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کی خوشحالی اس کی اکائیوں کی خوشحالی میں پنہاں ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام اب مزید وعدوں اور لالی پاپ کے متحمل نہیں ہو سکتے، انہیں ان کے وسائل کا جائز حق دیا جائے اور ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جو نہ صرف وفاقی اصولوں کی عکاسی کرے بلکہ واقعی ان پر عملدرآمد بھی یقینی بنائے۔ خیبر پختونخوا کو اس کے وسائل کا مالک بنایا جائے، اسے خیرات خور نہیں بلکہ ایک خوددار شراکت دار کے طور پر تسلیم کیا جائے، کیونکہ یہ صرف خیبر پختونخوا کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے وفاقی مستقبل کا سوال ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

