اسلام آباد/کابل – 10 مارچ 2026 (خصوصی رپورٹ): افغانستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ کابل میں ایک معتبر ذریعے نے بتایا ہے کہ آج اسلام آباد سے ایک تین رکنی غیر سرکاری وفد کابل پہنچا ہے۔ اس وفد کا مقصد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان موجود تنازعات کو کم کرنا اور امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔ یہ وفد پاکستان کی طرف سے ایک غیر رسمی کوشش کا حصہ ہے جو سرحدی تنازعات، تجارت اور سیکیورٹی مسائل پر توجہ مرکوز کرے گا۔
ایک اور سفارتی ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے بھی پاکستان کو ایک پیغام بھیجا ہے جس میں علاقائی صورتحال کے پیش نظر افغانستان کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کو غیر دانشمندانہ قرار دیا گیا ہے۔ ذریعے کے مطابق، امریکہ کا خیال ہے کہ موجودہ علاقائی حالات میں تنازعات کا تسلسل کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ یہ پیغام پاکستان کی خارجہ پالیسی پر ایک دباؤ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر جبکہ خطے میں جیو پولیٹیکل تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں۔
وفد کی قیادت مولانا فضل الرحمٰن خلیل کر رہے ہیں، جو ایک معروف مذہبی اور سیاسی شخصیت ہیں۔ مولانا خلیل کی تنظیم "حرکت الجہاد” نے 1994 سے 2001 تک کے عرصے میں طالبان کی حمایت میں سینکڑوں جہادیوں کو افغانستان بھیجا تھا۔ اس دوران، ان کی تنظیم نے کابل کے شمال میں احمد شاہ مسعود کی افواج کے خلاف ایک بڑی محاذ قائم کی تھی۔ یہ تاریخی پس منظر مولانا خلیل کو ایک ایسا کردار بناتا ہے جو طالبان حکومت کے ساتھ قریبی روابط رکھتے ہیں، جو موجودہ بحران کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
افغانستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کی بنیادی وجوہات میں سرحدی جھڑپیں، دہشت گردی کے الزامات اور تجارتی رکاوٹیں شامل ہیں۔ گزشتہ چند ماہ میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے ہیں، جس سے علاقائی استحکام کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ اس وفد کی آمد کو ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ غیر سرکاری سطح پر بات چیت اکثر سرکاری مذاکرات کی راہ ہموار کرتی ہے۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ کوششیں کامیاب ہوئیں تو یہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گی۔ امریکہ کا پیغام بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بین الاقوامی برادری اس بحران کو مزید بڑھنے سے روکنا چاہتی ہے۔ مولانا خلیل کی قیادت میں یہ وفد ممکنہ طور پر طالبان قیادت سے ملاقاتیں کرے گا اور مشترکہ لائحہ عمل تیار کرے گا۔
تاہم، کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ غیر سرکاری وفد کی کامیابی محدود ہو سکتی ہے اگر سرکاری سطح پر حمایت نہ ملے۔ پھر بھی، یہ اقدام امید کی ایک کرن ہے جو کشیدگی کو کم کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ مزید تفصیلات کا انتظار ہے جبکہ دونوں ممالک کی حکومتیں اس پر خاموش ہیں۔

