ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں مزید شدت آ گئی ہے اور اکیسویں روز بھی دونوں ممالک کے درمیان حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایران نے پہلی بار ملٹی وار ہیڈ میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے اسرائیل کے شہر حیفہ میں واقع آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا، جس کے باعث قریبی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر بھی ڈرون اور میزائل حملے کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب سعودی عرب کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرقی علاقے میں ایران کے مزید دو ڈرونز کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے ایک امریکی ایف-35 طیارہ مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے اور اس کی ویڈیو جاری کرنے کا کہا گیا ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔ ادھر امریکی سینٹ کام کے مطابق تہران میں کارروائی کے دوران زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل بنانے والی ایک فیکٹری کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس جاری جنگ کے دوران ایران میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 3200 تک پہنچ چکی ہے، جس سے انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایک بار پھر ایران اور اسرائیل سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ خلیجی ممالک پر حملے بند کرے تاکہ خطے میں کشیدگی کم ہو اور مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

