خلیج کی سیاست کو عموماً ایران اور سعودی عرب کی روایتی رقابت کہہ کر نمٹا دیا جاتا ہے۔ مگر یہ بات پوری سچائی نہیں بتاتی۔ اصل مسئلہ دو ملکوں کی معمول کی چپقلش نہیں، بلکہ ایک بڑے جنگی اور سیاسی بندوبست کا ہے۔ ایک طرف ایران ہے، جو یہ کہتا ہے کہ اس کے سیاسی اور دفاعی فیصلے نہ واشنگٹن میں ہوں گے، نہ تل ابیب میں۔ دوسری طرف ایک ایسا خلیجی نظم ہے جو برسوں سے امریکی طاقت کے سائے میں پروان چڑھا ہے، اور جسے اب اسرائیلی حکمتِ عملی سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ اسی حقیقت کو سمجھے بغیر خلیج کے بحران کو سمجھنا ممکن نہیں۔
ایران کے معاملے کو اکثر صرف اس کے ردِ عمل سے جانچا جاتا ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ ردِ عمل سے پہلے کیا ہو رہا ہے۔ اگر ایک خود مختار ریاست پر بیرونی دباؤ مسلسل بڑھایا جائے، اگر اس کی سرحدوں کے گرد عسکری گھیرا تنگ کیا جائے، اگر اس کے خلاف حملوں کا ماحول بنایا جائے، اور اگر اس کی شہری آبادی بھی محفوظ نہ رہے، تو پھر معاملہ صرف سفارت کاری کا نہیں رہتا۔ وہ جارحیت کا سوال بن جاتا ہے۔ ایران کا مؤقف یہی ہے کہ اس کے خلاف امریکہ اور اسرائیل نے، بعض خلیجی ریاستوں کے تعاون سے، ایک ایسا جنگی ماحول کھڑا کیا ہے جس میں اس کی خود مختاری، اس کی سلامتی، اور اس کے شہریوں کی جانیں سب خطرے میں ڈال دی گئی ہیں۔
یہاں اصل نکتہ نہایت واضح ہے: اگر رہائشی عمارتیں، اسپتال، اسکول، اور عام شہری نشانہ بن رہے ہوں، تو اسے کسی صورت معمول کا سیکورٹی آپریشن نہیں کہا جا سکتا۔ یہ بین الاقوامی قانون کی روح کے خلاف ہے۔ جنگ کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔ شہری آبادی کو نشانہ بنانا، غیر عسکری تنصیبات کو تباہ کرنا، اور ایک ریاست کی روزمرہ زندگی کو مفلوج کرنا کسی بھی قانونی اور اخلاقی معیار سے جائز نہیں بنتا۔ اگر یہ سب کچھ ایران میں ہو رہا ہے، تو پھر ایران کے ردِ عمل کو صرف “کشیدگی” یا “خطرہ” کہہ کر ٹال دینا حقیقت سے فرار ہے۔
ایران عرصے سے ایک بات دہراتا رہا ہے: خلیجی ممالک اپنی زمین کو اس کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔ یہ کوئی مبہم جملہ نہیں، بلکہ ایک براہِ راست تزویراتی انتباہ ہے۔ اس کا مطلب صاف ہے۔ اگر امریکی اڈے، عسکری سہولتیں، یا خلیجی سرزمین ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہوں گے، تو ایران جواب انہی مراکز کو دے گا جہاں سے اس کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ اس منطق کو نظر انداز کر کے بعد میں صرف یہ پوچھنا کہ ایران جواب کیوں دے رہا ہے، دراصل آدھی کہانی سننا ہے۔ پہلے یہ پوچھنا چاہیے کہ حملہ کہاں سے ممکن بنایا گیا، اور کس نے اپنی زمین اس مقصد کے لیے فراہم کی۔
یہی مقام ہے جہاں بعض خلیجی ریاستوں کی غیر جانب داری کا دعویٰ سوال کے گھیرے میں آتا ہے۔ کوئی ملک اگر اپنی سرزمین، فضائی حدود، بندرگاہیں، یا عسکری ڈھانچہ ایک بڑی طاقت کو دے دے، اور وہی طاقت اس سہولت کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرے، تو پھر غیر جانب داری صرف ایک لفظ رہ جاتی ہے، حقیقت نہیں۔ جنگ میں صرف وہی شریک نہیں ہوتا جو بٹن دباتا ہے؛ وہ بھی شریک ہوتا ہے جو لانچنگ گراؤنڈ، راستہ، یا پناہ گاہ مہیا کرتا ہے۔ خلیج کی موجودہ سیاست کا سب سے بڑا تضاد یہی ہے کہ کچھ ریاستیں عملاً جنگی بندوبست کا حصہ ہیں، مگر زبان میں خود کو امن کا نگہبان کہتی ہیں۔
سعودی عرب اس پورے منظرنامے میں مرکزی مقام رکھتا ہے۔ وہ خود کو استحکام، اعتدال، اور امن کا علم بردار بنا کر پیش کرتا ہے، لیکن اس کی ریاستی حقیقت ایک اور تصویر دکھاتی ہے۔ دہائیوں سے اس کی سلامتی امریکی عسکری ڈھانچے، مغربی اسلحے، اور واشنگٹن کی تزویراتی سرپرستی سے جڑی رہی ہے۔ اب مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ریاض امریکہ کا اتحادی ہے؛ مسئلہ یہ ہے کہ یہ اتحاد خطے میں کس کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔ اگر ایک ریاست ایک ایسے بندوبست کا حصہ بن جائے جس کا عملی نتیجہ ایران پر دباؤ، عسکری خطرہ، اور جنگی محاصرہ ہو، تو پھر اسے صرف “استحکام” کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ یہ حکمتِ عملی ہے، اور اس حکمتِ عملی کا ہدف بھی واضح ہے۔
بین الاقوامی قانون کی سادہ زبان میں بات کی جائے تو ہر ریاست کو اپنی سرزمین، اپنی آبادی، اور اپنی سیاسی آزادی کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔ اقوام متحدہ کے منشور کی بنیاد ہی اسی اصول پر رکھی گئی ہے کہ طاقت کے زور پر کسی ریاست پر اپنی مرضی مسلط نہیں کی جا سکتی۔ عدم مداخلت، خود مختاری، علاقائی سالمیت، اور دفاعِ نفس کا حق—یہ سب محض کتابی اصطلاحیں نہیں، بلکہ عالمی نظم کے بنیادی ستون ہیں۔ اگر کسی ریاست پر بیرونی طاقتوں کے ذریعے حملہ ہو، اگر اس کی آبادی نشانہ بنے، اگر اس کی سیاسی آزادی کو دباؤ سے محدود کرنے کی کوشش کی جائے، تو وہ اپنے دفاع کا حق رکھتی ہے۔ ایران اسی اصول کی زبان بولتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس پر جنگ مسلط کی جا رہی ہے، اور وہ جواب دے رہا ہے۔
اصل خرابی یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ ایک ہی عمل کو دو مختلف نام دیے جاتے ہیں۔ جب امریکہ، اسرائیل، اور ان کے علاقائی شراکت دار ایران پر دباؤ بڑھاتے ہیں، تو اسے “سلامتی”، “بازدارندگی”، اور “نظم” کہا جاتا ہے۔ لیکن جب ایران انہی حملوں کے ذرائع، راستوں، یا اڈوں کو نشانہ بنانے کی بات کرتا ہے، تو اسے “عدم استحکام” اور “جارحیت” قرار دیا جاتا ہے۔ یہی دہرا معیار خلیج کی سیاست کو مسخ کرتا ہے۔ اگر حملہ ایک طرف سے ہو اور جواب دوسری طرف سے، تو صرف جواب کو دیکھنا انصاف نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ آغاز کس نے کیا، ماحول کس نے بنایا، اور جنگی سہولت کس نے فراہم کی۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ خلیج کے بارے میں رائج سیاسی لغت خود طاقت کی سیاست کا ہتھیار بن چکی ہے۔ “امن” کا مطلب اکثر یہ لیا جاتا ہے کہ ایران خاموش رہے، چاہے اس پر دباؤ بڑھتا رہے۔ “استحکام” کا مطلب یہ بنا دیا گیا ہے کہ امریکی عسکری ڈھانچہ خطے میں قائم رہے اور اس پر کسی کو اعتراض نہ ہو۔ “اعتدال” کا مطلب وہ رویہ سمجھا جاتا ہے جو واشنگٹن کے لیے قابلِ قبول ہو۔ اور “خطرہ” کا لیبل اس ریاست کو دیا جاتا ہے جو اس پورے بندوبست کے سامنے سر جھکانے سے انکار کرے۔ یہ زبان بظاہر شائستہ ہے، مگر اس کے پیچھے طاقت کا ننگا عدم توازن چھپا ہوتا ہے۔
سعودی عرب اور بعض دیگر خلیجی حکومتوں کے لیے اصل امتحان یہی ہے۔ اگر وہ واقعی امن چاہتی ہیں، تو پہلا قدم یہی ہونا چاہیے کہ ان کی سرزمین کسی بیرونی طاقت کے ہاتھوں ایران کے خلاف استعمال نہ ہو۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتیں، تو پھر ایران کی تنبیہ کو محض دھمکی نہیں کہا جا سکتا۔ وہ ایک دفاعی منطق ہے۔ ریاستیں عموماً وہاں جواب دیتی ہیں جہاں سے حملہ آ رہا ہو یا جہاں سے حملہ ممکن بنایا جا رہا ہو۔ اگر امریکی اڈے خلیج میں موجود ہیں، اگر وہی حملوں کے مرکز بن رہے ہیں، اور اگر ایران پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اپنی زمین استعمال نہ ہونے دو، تو پھر بعد میں حیرت ظاہر کرنا سیاسی منافقت کے سوا کچھ نہیں۔
اس تمام بحران کی سب سے بھاری قیمت عام لوگ ادا کرتے ہیں۔ ایران کے شہری، عام خاندان، بیمار، بچے، اور وہ لوگ جو نہ جنگ چاہتے ہیں، نہ اس کے فیصلوں میں شریک ہیں، اگر حملوں کی زد میں آتے ہیں تو یہ صرف ایک جغرافیائی تنازع نہیں رہتا۔ یہ انسانیت کا سوال بن جاتا ہے۔ رہائشی عمارتیں، اسپتال، اور اسکول جنگ کے جائز اہداف نہیں ہو سکتے۔ اگر وہ تباہ ہو رہے ہیں، تو پھر خاموشی اختیار کرنا ظلم کو معمول بنانا ہے۔ ایسے میں ایران کے ردِ عمل کو سمجھنے کے لیے پہلے اس انسانی نقصان کو سمجھنا لازم ہے جو اس پر مسلط کیا جا رہا ہے۔
خلیج کی اصل کشمکش، اس لیے، ایران اور سعودی عرب کے درمیان مساوی رقابت نہیں۔ یہ ایک خود مختار ریاست اور ایک ایسے خارجی جنگی و سیاسی ڈھانچے کے درمیان تصادم ہے جو امریکہ اور اسرائیل کی قیادت میں، بعض خلیجی ریاستوں کے تعاون سے، ایران پر اپنی شرائط مسلط کرنا چاہتا ہے۔ ایران اس بندوبست کو ماننے سے انکار کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس کی خود مختاری ناقابلِ سودا ہے، اور اگر اس کے خلاف جنگی کارروائیاں خلیجی سرزمین، امریکی اڈوں، یا بیرونی عسکری تعاون سے ہوں گی، تو جواب بھی وہیں جائے گا جہاں سے حملہ ممکن بنایا گیا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کون امن کی بات کرتا ہے، کیونکہ امن کا لفظ سبھی کی زبان پر ہوتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کون جنگی بندوبست کا حصہ ہے، کون اپنی زمین حملوں کے لیے مہیا کرتا ہے، اور کون اپنی خود مختاری کے دفاع میں کھڑا ہے۔ خلیج میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب بیرونی طاقتوں کی جنگی مداخلت رکے، خلیجی سرزمین کو حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے، اور ہر ریاست کے حقِ خود مختاری کو برابر تسلیم کیا جائے۔ اس کے بغیر “امن” کا ہر دعویٰ ایک سیاسی نعرہ رہے گا، حقیقت نہیں۔
اور حقیقت یہی ہے: ایران پر دباؤ ڈالنے والا بندوبست اگر جنگ کو جنم دے رہا ہے، تو صرف ایران کے جواب کو بحران کا نام دینا تاریخ، قانون، اور اخلاق—تینوں سے ناانصافی ہے۔ خلیج میں اصل مسئلہ ایران کا وجود نہیں؛ اصل مسئلہ وہ طاقت کا نظام ہے جو ایران کو جھکانا چاہتا ہے، اور پھر اس مزاحمت کو ہی خطرہ بنا کر پیش کرتا ہے۔

