طورخم سرحدی گزرگاہ کی بندش کے باعث افغانستان میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ خیبر پختونخوا سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً چالیس پاکستانی طلبہ کو طورخم کے راستے افغانستان جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
متاثرہ طلبہ کے مطابق وہ تعطیلات کے دوران پاکستان آئے تھے اور چھٹیاں ختم ہونے پر واپس اپنی تعلیمی اداروں میں جانے کے لیے طورخم پہنچے، تاہم پاکستانی حکام نے انہیں سرحد عبور کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے شہری ہیں لیکن افغانستان میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اس لیے انہیں زمینی راستے سے واپسی کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ فضائی سفر کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے، جس کی وجہ سے ان کی تعلیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
طلبہ نے حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے طورخم کے راستے افغانستان جانے کی خصوصی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔

