اسلام آباد میں منعقدہ ایران امریکا مذاکرات کا پہلا دور اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ ان مذاکرات کی اہم بات یہ رہی کہ پاکستان نے انتہائی بھرپور، مخلصانہ اور نہایت پیشہ ورانہ کوششیں کیں۔ پاکستان نے جنگ بندی ممکن بنائی اور دونوں فریقین کو دہائیوں بعد ایک میز پر بٹھایا۔
نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ کی قیادت میں یہ سفارتی کوششیں ہوئیں، جب کہ وزیرِ خارجہ کے ثالثی کردار کو دونوں فریقین نے تسلیم کیا۔
31 گھنٹے تک مسلسل سفارتکاری جاری رہی، جس میں متعدد نشستیں شامل تھیں۔ ان مزاکرات میں کئی مثبت پہلو سامنے آئے، تاہم یہ ایک پیچیدہ اور طویل تنازع ہے جس میں کئی اختلافات اور بیرونی عناصر و رکاوٹیں بھی شامل ہیں۔
جو کچھ حاصل ہوا یا نہ ہو سکا، وہ دونوں فریقین کے باہمی معاملات اور ان کے داخلی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ پاکستان نے عالمی و علاقائی امن کے لیے ایک غیر معمولی کردار ادا کیا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے بیان میں بھی امید کی جھلک موجود ہے، جہاں انہوں نے ثالثی کے دوران دی گئی پیشکش کا ذکر کیا۔
دونوں فریقین اب ایک دوسرے کے مؤقف کو بہتر طور پر سمجھ چکے ہیں، اور اب آگے کا راستہ اسی بنیاد پر طے ہونا چاہیے۔ مذاکرات کی تفصیلات پر بات کرنا پاکستان کا کام نہیں، کیوں کہ یہ معاملہ رازداری سے جڑا ہے اور پاکستان کا کردار صرف ثالثی تک محدود تھا۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان نے ایک شاندار اور تاریخی سفارتی کردار ادا کیا ہے۔
جمعرات, جون 11, 2026
بریکنگ نیوز
- معروف جریدے "پالیسی جنرل” نے بھارت افغانستان گٹھ جوڑ کا بھانڈا پھوڑ دیا
- مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثہ: شہداء کی نمازِ جنازہ ادا، جسدِ خاکی آبائی علاقوں کو روانہ
- فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں سے اہلخانہ کا اظہارِ لاتعلقی
- پانی کو سیاسی دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں،دفترِ خارجہ
- شفافیت اور مؤثر حکمرانی کی جانب اہم پیش رفت، پاور سیکٹر میں جدید ڈیٹا گورننس کونسل کا قیام
- فتنہ الخوارج اور افغانستان کے درمیان روابط، مہمند میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی
- وزیراعظم شہبازشریف کے حکم پر خیبرپختونخوا کو گندم کی فراہمی کی ہدایت
- عیدالاضحیٰ کے بعد بھی افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل دوبارہ شروع نہ ہو سکا

