اسلام آباد (مبارک علی)۔ پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ اور ایران اعلیٰ سطحی مذاکرات بغیر کسی حتمی معاہدے کے ختم ہو گئے ہیں۔ تاہم ان مذاکرات کی ناکامی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ دونوں ممالک مسلح تنازع کی طرف لوٹ جائیں گے، بلکہ دونوں ممالک کے درمیان حالات جمود یعنی (new status quo) میں چلے گئے ہیں جو بغیر کسی معاہدے کے قائم رہ سکتے ہے۔
تین روز تک جاری رہنے والے ان مذاکرات میں امریکہ اور ایران نے اپنے اپنے تحفظات اور مطالبات پیش کیے اور پاکستان نے میزبان کے طور پر دونوں وفود کے درمیان رابطہ کاری کا اہم کردار ادا کیا۔ تاہم حتمی طور پر کوئی باہمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔
حالیہ مذاکرات کی ناکامی کے باوجود دونوں ملکوں کے مابین غیر رسمی طور پر ایک نئی توازن کی صورتِ حال ابھر سکتی ہے۔
ایران کی طرف سے خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے اور امریکہ کی طرف سے علاقائی سلامتی کے تحفظ کی کوششوں کے درمیان ایک ’’غیر اعلانیہ سمجھوتہ‘‘ ممکن ہے۔
اس جمود سے علاقائی استحکام ممکن ہے اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں بھی شدید اتار چڑھاؤ کا خاتمہ ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ’’پاکستان دونوں فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور جنگ بندی کی موجودہ صورتِ حال کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ سفارت کاری کا عمل کبھی ایک نشست تک محدود نہیں ہوتا۔
یہ ناکامی دراصل ایک ’’اسٹریٹجک وقفہ‘‘ ہے جس کے ذریعے دونوں ممالک اپنے اندرونی اور علاقائی دباؤ کو سنبھال سکیں گے۔ اگر دونوں فریق ایک نئی حیثیتِ قبول کر لیں تو مشرقِ وسطیٰ میں طویل مدت تک تناؤ کم ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی بھی اسی سمت میں فعال رہے گی تاکہ خطے کا امن برقرار رہے۔
پاکستان میں امریکہ-ایران مذاکرات ناکام نہیں بلکہ ایک تزویراتی وقفے کا شکار ہوئے ہیں
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read

