فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران نے مبینہ طور پر چین میں تیار کردہ ایک جدید جاسوس سیٹلائٹ کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے لیے انٹیلی جنس حاصل کی۔ لیک شدہ ایرانی عسکری دستاویزات کے مطابق یہ نظام 2024 کے آخر میں پاسداران انقلاب اسلامی کی ایرو اسپیس فورس نے حاصل کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ سیٹلائٹ چین سے خلا میں بھیجنے کے بعد ایک نجی کمپنی کے ذریعے ایران کے کنٹرول میں آیا۔ یہ سیٹلائٹ تقریباً آدھے میٹر ریزولوشن کی تصاویر لینے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو ایران کے اپنے موجودہ سیٹلائٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ جدید ہے۔
دستاویزات کے مطابق ایرانی عسکری کمانڈروں نے مارچ کے دوران اس سیٹلائٹ کے ذریعے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی نگرانی کی۔ ان میں پرنس سلطان ایئر بیس اور دیگر اہم عسکری تنصیبات شامل ہیں، جہاں حالیہ کشیدگی کے دوران حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
سیٹلائٹ سروس فراہم کرنے والی چینی کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا نظام صرف زرعی، سمندری اور شہری منصوبہ بندی کے لیے ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا فوجی استعمال بھی ممکن ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایران نے اس منصوبے کے لیے کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی اور اسے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت حاصل کیا گیا۔
امریکا اور خطے کے دیگر ممالک اس پیش رفت پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق چین کی بعض کمپنیوں اور ایران کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔
چین کی وزارت خارجہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تنازعات میں اضافے کے بجائے امن اور مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔

