امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ جلد اپنے منطقی انجام کو پہنچنے والی ہے اور اس میں امریکا کو کامیابی حاصل ہوگی۔
ریاست نیواڈا کے شہر لاس ویگاس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے تھے، تاہم ایران کے جوہری پروگرام کے باعث امریکا کو یہ اقدام اٹھانا پڑا۔ انہوں نے ایران کو ایک مشکل اور ذہین ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام مضبوط اور بہترین لڑاکا صلاحیت رکھتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی بحریہ کو شدید نقصان پہنچا اور متعدد جہاز تباہ کیے گئے۔ ان کے مطابق امریکا کے پاس دنیا کی جدید ترین فوجی طاقت موجود ہے اور امریکی افواج نے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو بھی مؤثر انداز میں ناکام بنایا۔
انہوں نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے حوالے سے کہا کہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ خام تیل کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ جائیں گی، تاہم موجودہ صورتحال اس کے برعکس ہے۔
اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے داخلی امور پر بھی گفتگو کی اور انعامی رقوم (ٹپس) پر عائد ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ مڈٹرم انتخابات میں کامیابی حاصل نہ ہوئی تو ٹیکسوں میں اضافہ ممکن ہے۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر حزب اللہ نے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا تو صورتحال میں بہتری آ سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں جانی نقصان سے بچنا چاہیے اور بالآخر امن کا قیام ضروری ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ویتنام اور افغانستان کی جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا طویل جنگوں کے نقصانات دیکھ چکی ہے، اس لیے موجودہ تنازعات کا جلد خاتمہ ضروری ہے۔

