پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان اب سہولت کار (Facilitator) سے ثالث (Mediator) کا کردار اختیار کر چکا ہے، ایرانی وزیر خارجہ جمعرات کو دوبارہ پاکستان آ سکتے ہیں اور اسلام آباد میں ایک بڑی پیشرفت کی توقع ہے ۔
ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی کا دورۂ پاکستان گزشتہ روز مکمل ہوا، جس میں انہوں نے تہران کا نکتہ نظر پاکستانی قیادت تک پہنچایا ۔
ذرائع کے مطابق عباس عراقچی اگلے ہفتے ماسکو اور مسقط کے دورے کے بعد جمعرات کو دوبارہ پاکستان آ سکتے ہیں، جہاں ممکنہ طور پر کسی بڑی پیش رفت کی توقع ہے ۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان میں موجود ہیں، مسقط کا یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اگر کوئی معاہدہ طے پایا تو آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) ایران اور عمان کے مشترکہ کنٹرول میں آ جائے گی، بعد ازاں، روس کے دورے میں افزودہ یورینیم کے مسئلے پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے ۔
ان دوروں کے بعد عباس عراقچی تہران واپس جائیں گے جہاں وہ اپنی قیادت کو تینوں ممالک کے دوروں پر بریفنگ دیں گے اور حتمی فیصلے کی صورت میں دوبارہ پاکستان آئیں گے ۔
امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ممکنہ کنٹرول اور محصولاتی نظام (Toll System) پر موقف واضح ہے،صدر ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں ایران کے ساتھ ایک مشترکہ ’تجارتی منصوبے‘ (Joint Venture) اور محصولاتی پروگرام کا ذکر کیا ہے، جو نہ صرف بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو محفوظ بنائے گا بلکہ ایران کی تعمیرِ نو کے لیے مالی وسائل بھی فراہم کر سکے گا۔ اس آمدنی کا کچھ حصہ عمان کو بھی دیا جائے گا ۔
واشنگٹن کا موقف ہے کہ ایران کی جانب سے یکطرفہ طور پر وصول کیا جانے والا ٹیکس ’بھتہ خوری‘ (Extortion) کے زمرے میں آتا ہے، تاہم ایک مشترکہ نظام کے ذریعے علاقائی استحکام ممکن ہے ۔

