Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, اپریل 28, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خون کا دامن اور زندگی کی امانت
    • پاکستان کا مقامی طور پر تیار کردہ فتح II میزائل کا کامیاب تجربہ
    • پاکستان یورپی یونین کے ساتھ تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا، وزیراعظم محمد شہباز شریف
    • وزیراعظم شہباز شریف اور نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلۂ خیال
    • حکومت معاشی شعبے میں ادارہ جاتی اصلاحات پر عمل پیرا، ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
    • مہنگائی کا طوفان: عوامی زندگی پر بڑھتا دباؤ اور ممکنہ حل، تحریر: ثمن سرفراز
    • پاکستان اسٹاک مارکیٹ مندی کا شکار، ہنڈرڈ انڈیکس 817 پوائنٹس گر گیا
    • پشاور میں سرکاری رہائشگاہوں پر ریٹائرڈ افسران کے قبضے، قوانین کی خلاف ورزی کے انکشافات
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » خون کا دامن اور زندگی کی امانت
    بلاگ

    خون کا دامن اور زندگی کی امانت

    اپریل 28, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    The blood of the deceased and the trust of life
    آج ہم کہاں ہیں؟ ذرا سی تکبر، ذرا سی بے عزتی، ذرا سی زمین یا جانور پر ایک فائر، اور پھر خون کا سیلاب رواں ہو جاتا ہے۔ کیا یہ اسلامی تعلیم ہے؟
    Share
    Facebook Twitter Email
    رحیم شامزئی کی خصوصی تحریر: ۔

    مردان کے دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں میں جہاں کبھی پشتونوں کی غیرت و وفاداری کی داستانیں سنی جاتی تھیں، آج وہیں فائرنگ کے بھیانک واقعات اور خودکشی کے افسوسناک حادثے معاشرے کے وجود کو کرید رہے ہیں، حالیہ دنوں میں ایک ایسے دلخراش واقعے نے ہر باشعور انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے جب ایک 22 سالہ خوش شکل، خوش لباس، خوش اخلاق، اور خوش گفتار وحسین نوجوان نے اپنے ہی گھر والوں کو بے بسی اور دہشت کے عالم میں چھوڑ کر خودکشی جیسے مہلک قدم سے دنیائے فانی سے رخصتی اختیار کی، یہ وہی نوجوان تھا جس کے چہرے پر زندگی کی روشنی جھلکتی تھی، لیکن اندر کی تاریکی نے اسے وجود کے سہارے سے محروم کر دیا ۔

    اس سے پہلے گزشتہ عید الفطر کے موقع پر بھی ایک اور حسین و جمیل نوجوان، جو دشمنی کے پہاڑوں میں دب کر رہ گیا تھا، اس دارِ فانی سے کوچ کر گیا تھا، سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سے عناصر ہیں جو اس خطے کے باسیوں کو یا تو دشمنی کے دلدل میں دھکیل رہے ہیں یا پھر انہیں خودکشی جیسے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر رہے ہیں؟

    میں اس پختون ریجن کے تمام لوگوں سے، خاص طور پر ان سے جو عقل و فہم کے خاوند اور شعور کے ساتھی ہیں، پوچھنا چاہتا ہوں، کہ کیا آپ اپنے فرائض منصبی سے آشنا ہیں؟ کیا آپ اس قسم کے واقعات کو روکنے میں کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں؟

    خون کا دریا اور ہماری بھولی ہوئی امانتیں: ۔

    آج میں اسی تلخ حقیقت کو مزید گہرائی سے پیش کرنا چاہتا ہوں، خاص طور پر اس ایک پہلو پر  کہ ایک دوسرے کا خون بہانا کس قدر عظیم گناہ ہے، اور ہم مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کس تاریک راہ پر گامزن ہو چکے ہیں ۔

    ہم فخر سے کہتے ہیں: "لا الہ الا اللہ، محمد رسول اللہ” لیکن ہمارے اعمال اس قول کی نفی کرتے ہیں، کیا صحابہ کرامؓ نے کبھی ذاتی دشمنی کی بنیاد پر ایک دوسرے کا خون بہایا؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی انتقام کی آگ میں اپنے کسی ساتھی کو نشانہ بنایا؟ آپؐ کی زندگی عفو و درگزر، بردباری اور اخوت کی زندہ مثال تھی، آپؐ نے فتح مکہ کے دن فرمایا: "اِذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ” (جاؤ، تم سب آزاد ہو)  جبکہ وہی لوگ آپؐ کے دشمن تھے ۔

    آج ہم کہاں ہیں؟ ذرا سی تکبر، ذرا سی بے عزتی، ذرا سی زمین یا جانور پر ایک فائر، اور پھر خون کا سیلاب رواں ہو جاتا ہے۔ کیا یہ اسلامی تعلیم ہے؟ ہرگز نہیں ۔

    اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا لقب دیا، فرشتوں کو اس کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا، اسے عقل و شعور سے نوازا، تو کیا اشرف المخلوقات کا کام یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑائے، گھروں کو تباہ کرے، بچوں کو یتیم کرے، بیواؤں کو بے سہارا چھوڑے؟ یہ حرکت جانوروں کی ہے اور جانور بھی درندہ صفت ۔

    غور کریں: ایک شیر صرف بھوک کی صورت میں شکار کرتا ہے، انتقام کے لیے نہیں، لیکن ہم انسان، جو عقل کے دعویدار ہیں، بغیر کسی شرعی اور اخلاقی جواز کے ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں، کیا یہ حیا کا مقام ہے؟

    اسلام میں خون بہانے کی اجازت صرف دو صورتوں میں دی گئی ہے: قصاص (مناسب طریقے سے، عدالت کے ذریعے) اور جہاد فی سبیل اللہ (اسلام کی بقا اور سربلندی کے لیے، واضح ضوابط کے ساتھ) لیکن جو خون آج میرے علاقے پختونخوا کی ان جنت نظیر وادیوں میں بہہ رہا ہے، وہ نہ قصاص ہے، نہ جہاد،  وہ محض زیادتی، ناانصافی، جہالت، اور خوں خواری کے سوا کچھ نہیں ۔

    یہ وہی خون ہے جس کے بارے میں قرآن فرماتا ہے:
    "مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا”
    (جس نے کسی انسان کو بلا وجہ قتل کیا، گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا (سورہ مائدہ، آیت 32)

    کیا ہم اس آیت سے غافل ہیں؟ کیا ہمارے بزرگ، ہمارے مولوی، ہمارے مشران اس حقیقت کو کبھی ہمارے دلوں میں اتارتے ہیں؟

    اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس ناسور کے خلاف کھڑے ہوں: ۔

    مجھے اس خطے کے ہر باشعور افراد سے پوچھنا ہے: کیا ہم خاموش تماشائی بن کر رہ جائیں گے؟ کیا ہم صرف یہ کہہ کر ہاتھ دھو بیٹھیں گے کہ ”یہ تو روایتی دشمنی ہے”؟

    نہیں! ہمیں مل کر ہر اس شخص کے پاؤں پڑنے ہوں گے جو دوسرے کے خون کا پیاسا بن چکا ہے، ہمیں اٹھنا ہوگا، آواز اٹھانی ہوگی، اور ہر اس عنصر کو معاشرے سے بیخ کن کرنا ہوگا جو ناحق خون بہانے کو اپنی غیرت سمجھتا ہے ۔

    ہمیں گاؤں گاؤں، قبیلہ قبیلہ جا کر یہ پیغام پہنچانا ہوگا:

    · خون کا بدلہ خون نہیں، معافی اور عدل ہے ۔
    · دشمنی کو ختم کرنا سب سے بڑی غیرت ہے ۔
    · مسلمان کا مسلمان پر ہاتھ اٹھانا اپنے ہی دل پر تلوار چلانا ہے ۔

    اس جنت نظیر وادی کی خوبصورتی کو دوبالا کریں: ۔

    سنگاؤ کی وادیاں ، یہ علاقے جنت کے ٹکڑے لگتے ہیں، سرسبز پہاڑ، صاف پانی، مہمان نواز لوگ، لیکن افسوس! خون کی بو نے ان کی خوشبو چھین لی ہے، ہم اس خوبصورتی کو لوٹ سکتے ہیں، صرف اس شرط پر کہ ہم اپنی تلواروں کو نیام میں ڈال دیں، اپنی زبانوں سے درگزر سیکھیں، اور اپنے دلوں سے نفرت نکال باہر پھینکیں ۔

    اللہ نے یہ زمین ہمیں امانت دی ہے، ہم اسے جہنم نہیں، جنت بنائیں گے ۔

     آخری پیغام

    اے میرے پختون بھائیو! اے سنگاؤ کے رہنے والو! اے سبھی جو اس مٹی سے محبت رکھتے ہو!
    خون کا ہر قطرہ جو بے جا بہتا ہے، ہماری قبروں میں عذاب بن کر آئے گا، اپنے بیٹوں کو بتاؤ کہ بندوق عزت نہیں پہنچاتی، بندوق رسوائی لاتی ہے، اپنی بیٹیوں کو سکھاؤ کہ وہ امن کی سفیر بنیں، اپنے بزرگوں سے کہو کہ وہ پرانی دشمنیوں کو دفن کریں ۔

    اور سب سے بڑھ کر ، اس خطے کے ہر مولوی، ہر عالم، ہر دانشور سے التماس ہے کہ وہ منبروں اور چبوتروں پر خون ناحق کی حرمت کو اس طرح بیان کریں جیسے کوئی ماں اپنے بچے کو سمجھاتی ہے ۔

    میں ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے دوستوں سے اپیل کرتا ہوں کہ آئیے مل کر اس معاشرے میں بیداری پیدا کریں، آئیے لوگوں کو عدم تشدد، اسلامی ضابطۂ حیات، اور تصورِ عفو و درگزر کے مطابق زندگی گزارنے کی تلقین کریں، اگر ہمارا کوئی ساتھی، کوئی ذاتی دوست، یا کوئی مسلمان بھائی زندگی سے تنگ آ کر خودکشی کی راہ پر گامزن ہو رہا ہے تو آئیے ہم اس کی راہنمائی کریں، اسے زندگی کی قدر و قیمت یاد دلاتے ہوئے اس کی بے راہ روی کو ختم کرنے میں مدد فراہم کریں ۔

    دعا ہے کہ ہمارے گاؤں، شہر اور پورے خطے میں یہ آخری المیہ ہو، اللہ کرے کہ آئندہ کبھی کوئی نوجوان مایوسی یا دشمنی کی نذر نہ ہو، اللہ جل شانہ ہمیں، آپ کو اور ہمارے پورے پشتون معاشرے کو اپنی حفظ و امان میں رکھے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاکستان کا مقامی طور پر تیار کردہ فتح II میزائل کا کامیاب تجربہ
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    مہنگائی کا طوفان: عوامی زندگی پر بڑھتا دباؤ اور ممکنہ حل، تحریر: ثمن سرفراز

    اپریل 28, 2026

    ایران بمقابلہ امریکہ و اسرائیل: نتیجہ کیوں نہیں؟ ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    اپریل 28, 2026

    پاکستان کی ترقی کا بنیادی ستون خواتین کی بااختیاری – تحریر: راشد پختون

    اپریل 15, 2026

    Comments are closed.

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خون کا دامن اور زندگی کی امانت

    اپریل 28, 2026

    پاکستان کا مقامی طور پر تیار کردہ فتح II میزائل کا کامیاب تجربہ

    اپریل 28, 2026

    پاکستان یورپی یونین کے ساتھ تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا، وزیراعظم محمد شہباز شریف

    اپریل 28, 2026

    وزیراعظم شہباز شریف اور نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلۂ خیال

    اپریل 28, 2026

    حکومت معاشی شعبے میں ادارہ جاتی اصلاحات پر عمل پیرا، ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

    اپریل 28, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.