پشاور (خصوصی رپورٹر) ممتاز عالم دین اور چیف خطیب خیبر پختونخوا مولانا طیب قریشی نے مولانا ادریس پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو جانی و مالی تحفظ فراہم کرے، تاہم خیبر پختونخوا میں گزشتہ دو سال کے دوران متعدد علما کرام اور دینی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا، مگر اب تک ملوث عناصر کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔
مولانا طیب قریشی کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں صوبے کے عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں اور کسی کی جان و مال محفوظ نہیں رہی۔ انہوں نے وزیراعلیٰ اور گورنر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور امن و امان کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

