خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس کے دوران حکومتی ارکان اپنی ہی حکومت اور وزرا کے رویے پر شدید تنقید کرتے ہوئے پھٹ پڑے، ایوان میں بحث کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ قبائلی اضلاع میں 337 سکولز ہیں جن میں صرف 639 اساتذہ ہیں، صوبائی حکومت نے تعلیم کے شعبہ کو مذاق بنایا ہے ۔
پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس پینل چیئرمین محمد اسرار صافی کی صدارت میں ہوا جس میں حکومتی اراکین نے اپنی ہی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیئے ۔
ایوان نے خیبرپختونخوا ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈ ایولویشن ایجنسی بل 2026 منظور کر لی، بل صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے پیش کیا ،ن لیگ کی رکن اسمبلی آمنہ سردار نے بل میں ترامیم پیش کیں جسے مسترد کردیا گیا ۔
اسمبلی اجلاس کے دوران حکومتی رکن عبید الرحمان وزرا کی غیر حاضری پر برس پڑے، انہوں نے کہا کہ ہم یہاں آتے ہیں مگر وزرا غیر حاضر ہوتے ہیں، اگر اسمبلی نہیں آنا تو وزارت کیوں رکھتے ہیں؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہی بانی پی ٹی آئی کا ویژن ہے؟
ایک اور حکومتی رکن انورزیب نے بھی اپنی ہی حکومت کے اقدامات پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حلقے میں ہسپتالوں کی نجکاری کے بعد صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے ۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ باجوڑ کے ہسپتال میں بنیادی طبی سہولیات تک دستیاب نہیں، حتی کہ سرنج بھی موجود نہیں، صوبائی حکومت کے کروڑوں روپے کہاں خرچ ہو رہے ہیں؟ اس کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں ۔
ایک اور حکومتی رکن اسمبلی ارشد عمرزئی نے ایوان کو بتایا کہ ضلع چارسدہ میں ایک ہی ڈی ایچ کیو ہسپتال موجود ہے، یہاں ایک خاتون نے سوال اٹھایا کہ ہسپتال میں سرنج تک موجود نہیں ،چارسدہ ڈی ایچ کیو میں بہت سے مسائل ہیں وہ وزیر صحت کے علم میں بھی ہے ۔
ایک اور رکنا سمبلیا ٓصف محسود کا کہنا تھا کہ ان کے حلقے میں ایک ہی ہسپتال تھا اور وہ بھی بند کیا گیا ہے ،ڈی ایچ کیو ہسپتال کی منظوری کے بعد بھی آج تک کوئی کام شروع نہ ہو سکا ۔
آصف محسود کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے ڈی ایچ او صاحب وزیرستان کے بجائے ٹانک میں بیٹھے ہوتے ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت ہسپتال کا فنڈ فوری جاری کرے ۔
صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد اور حکومتی رکن فضل حکیم نے ایوان کو بتایا کہ سوات کے سیلاب متاثرین کو آج تک ریلیف فنڈ نہیں دیا گیا ، حکومت فوری ریلیف فنڈ کا اجرا یقینی بنائے ۔

