رحیم شامزئی کی خصوصی تحریر: ۔
وہ انتالیس (39) روز جب دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی تھی، جب خلیج فارس کا نیلا پانی آتش زن میزائلوں سے سرخ ہو چکا تھا، جب آبنائے ہرمز میں عالمی توانائی کی شہ رگ کٹنے کو تھی اور اسرائیل، ایران اور امریکہ کے بیڑے ایک دوسرے کی ہلاکت کے درپے تھے، وہ انتالیس روز انسانیت کی تاریخ کے ہولناک ترین لمحات تھے، اس آگ میں اگر ایک ملک نے اپنا سینہ سپر نہ کیا ہوتا تو آج دنیا جوہری سردیوں کی لپیٹ میں ہوتی، عالمی معیشت ماضی کا قصہ بن چکی ہوتی اور کروڑوں انسان بھوک، بدامنی اور تابکاری کی موت سے ہمکنار ہو چکے ہوتے، وہ ایک ملک جس نے یہ قیامت ٹالی، وہ پاکستان ہے اور یہ حقیقت اب عالمی سطح پر مسلّم ہے ۔
پاکستان! وہ خطہ جسے معاشی بدحالی، غیرملکی قرضوں کے پہاڑ، دہشت گردی کے عفریت سے طویل جنگ اور عوامی مسائل کی طوفانی لہروں نے گھیر رکھا ہے، جس کا عام شہری مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہو، جس کے کسان سیلابوں سے اجڑے کھیتوں کو تک رہے ہوں، جس کا نوجوان بے روزگاری کی دلدل میں کھڑا ہو، یہ وہی پاکستان ہے جس نے اپنے اندرونی زخموں پر مرہم رکھنے سے پہلے دنیا کی جلی ہوئی رگوں پر ٹھنڈک کا ہاتھ رکھا۔، یہ کردار کوئی معجزے سے کم نہیں، اور یہ معجزہ پاکستانی ریاست کی اخلاقی قوت، اس کی سٹیبلشمنٹ کی تزویراتی گہرائی اور اس کے حکمرانوں کی بصیرت کا ثمر ہے ۔
اگر یہ 39 روزہ جنگ رکی نہ ہوتی تو دنیا کیا سے کیا ہو جاتی؟ یہ محض جنگی تجزیہ نہیں، بلکہ سائنسی حقیقت ہے کہ تیسرے ہفتے میں ہی عالمی معیشت کی کمر ٹوٹ چکی ہوتی، آبنائے ہرمز جو روزانہ 2 کروڑ بیرل تیل کا گزرگاہ ہے، یکسر بند ہو جانے سے خام تیل 350 ڈالر فی بیرل کے پار پہنچ جاتا، پاکستان جیسے غریب ممالک کی اینٹ سے اینٹ بج چکی ہوتی، پیٹرول 1500 روپے لیٹر سے تجاوز کر جاتا، صنعتیں دم توڑ دیتیں، ٹرانسپورٹ کا پہیہ رک جاتا، ہسپتالوں کی لائٹس گُل ہو جاتیں، یورپ کی فیکٹریاں بند، چین کا پیداواری انجن خاموش، بھارت کی سڑکیں سنسان ، کروڑوں انسان ایک ہفتے میں بے روزگار، اگلے مہینے بھوک سے نڈھال، پورا عالمی جنوب قحط کے عفریت کی زد میں ہوتا، مزید برآں، مشرق وسطیٰ کی سرحدیں جوہری دھمکیوں کی آماجگاہ تھیں؛ ایران کا ایٹمی پروگرام، اسرائیل کی "سیمسن آپشن” کی تلوار، اور امریکی اسٹریٹجک صبر کی ٹوٹتی ہوئی ڈور ،یہ سب ایک ایسے دھماکے کی جانب گامزن تھے جو ہیروشیما کو بھولنے پر مجبور کر دیتا، یہ وہ تصویر تھی جسے پاکستان نے اپنی سفارتی عقیدت سے مٹا کر اس کی جگہ مذاکرات کا منظر کھینچ دیا ۔
پاکستان نے یہ ثالثی محض کانفرنس روموں میں بیٹھ کر نہیں کی، اس نے وہ کیا جو اس خطے کی کوئی اور طاقت نہ کر سکی: ایران کے لیے وہ روحانی ہمسایہ اور قابل بھروسہ ثالث تھا، امریکہ کے لیے وہ دیرینہ اتحادی جس کے بغیر افغانستان سے باعزت انخلاء بھی ممکن نہ تھا، اور اسرائیل کے لیے وہ غیرمعمولی دانشورانہ پل تھا جو جنگی جنون میں حقیقت پسندی کی آواز بلند کر رہا تھا، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بیک وقت واشنگٹن، تہران اور تل ابیب میں جو پیغام پہنچایا وہ صرف الفاظ نہیں تھے؛ وہ ایک مفلوک الحال مگر خوددار قوم کا درد مندانہ التجا نامہ تھا جس نے اپنے پیٹ کی آگ سہہ کر عالمی برادری کی آگ بجھائی ۔
یہاں اسٹیبلشمنٹ، خصوصاً پاک فوج کے کردار کو سلام پیش کرنا ضروری ہے، یہ وہی ادارے ہیں جن پر دشمن بھی پیشہ ورانہ مہارت کا اعتراف کرتا ہے، انہوں نے خطے کے نقشے پر بیٹھ کر فریقین کو وہ حسابات دکھائے جن میں فتح کسی کی نہیں تھی، ہار صرف انسانیت کی تھی، ان کے افسران نے بالواسطہ مذاکرات میں وہ پل بنائے جن پر چل کر ایران نے اپنی شرائط میں لچک دکھائی، امریکہ نے اپنی جنگی پوسچرنگ سے قدم پیچھے ہٹایا، اور اسرائیل نے حقیقت کی زمین کو تسلیم کیا، یہ پاکستان ہی تھا جس نے ثابت کیا کہ سفارت کاری عسکری قوت سے بڑھ کر ہے، اور ثالثی وہ عبادت ہے جو بندوں کو آگ سے بچاتی ہے ۔
جو چیز اس کردار کو اور بھی عظمت عطا کرتی ہے وہ پاکستان کی اپنی مجبوریاں ہیں، یہ وہ وقت تھا جب ملک کو بیرونی قرضوں کی ادائیگی، سیلاب زدگان کی بحالی، دہشت گردی کے خلاف مسلسل آپریشنز اور سیاسی عدم استحکام جیسے ہولناک مسائل درپیش تھے، لیکن پاکستان نے اپنی ذات کو پسِ پشت ڈال کر انسانیت کو مقدم رکھا، غربت، افلاس اور اندرونی جنگ کی مار جھیلتا یہ ملک عالمی امن کا محافظ بن کر ابھرا، یہ تضاد ہی اس کی عظمت کی دلیل ہے، تاریخ میں ایسے کردار کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں ایک غریب قوم نے امیر دنیا کو جینے کا راستہ دکھایا ہو ۔
آج دنیا تسلیم کر رہی ہے کہ وہ 39 روزہ جنگ اگر تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہو جاتی تو اس کا ذمہ دار کوئی ایک فریق نہیں، بلکہ عالمی برادری کی اجتماعی ناکامی ہوتی، لیکن وہ اجتماعی ناکامی پاکستان کی انفرادی کامیابی سے ٹل گئی، ”چراغِ امن“ بن کر پاکستان نے دکھا دیا کہ یہ ملک فوجی طاقت کے ساتھ ساتھ اخلاقی طاقت کا بھی مرکز ہے، یہ وہ قوم ہے جس نے مزارِ امن کی زیارت کو اپنا مقدر سمجھا، اور اس زیارت کا فریضہ ادا کر کے پوری انسانیت کو زندگی کا تحفہ دیا ۔
یا اللہ، اس پاک سرزمین کو ہمیشہ امن کا گہوارہ رکھ، اس کے حکمرانوں کو مزید حکمت عطا فرما، اس کی افواج کو عزت کی چادر پہنا، اور اس غریب مگر عظیم قوم کو جنت نظیر بنانے میں ہمارے ہاتھوں کو طاقت دے، آمین

