وزیراعظم شہباز شریف نےکہا ہےکہ دشمن اب پاکستان پر بری نظر ڈالنےکی جرات نہیں کرے گا، ایک سال پہلے پاک فضائیہ کے شاہینوں اور فتح میزائلوں نے صحیح نشانے لگا کر دشمن کو کرارا اور ناقابلِ فراموش سبق سکھا دیا ۔
وزیراعظم شہبازشریف نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کیا اور اس دوران زیر تربیت افسران سے خطاب بھی کیا، ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے محافظوں پر فخر ہے جو ہماری خود مختاری کے نگہبان ہیں، آپ دیگر اداروں کے ساتھ پاکستان کی تاریخ، روایات، بقا اور علم کے امین ہیں ۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے ایک سال قبل بھارتی اشتعال انگیزی کا سامنا کیا، دشمن قوت یہ سمجھتی ہے وہ ہم سے کہیں زیادہ طاقتور ہے، بھارت نےپاکستان کی مخلصانہ اور سنجیدہ مذاکرات کی پیشکش کو نظر انداز کیا تھا، بھارت نے کشیدگی،جارحیت اور تشدد کا راستہ اختیار کیا، بھارت کو یہ احساس نہ ہوسکا پاکستان کی قیام امن کی کوششیں کمزوری نہیں یہ ہماری طاقت تھیں، دشمن کو کرارا اور ناقابل فراموش سب سکھا دیا گیا ۔
وزیراعظم شہباز شریف نےکہا کہ ان کاکہنا تھا کہ ہمارا انسداد دہشت گردی آپریشن گزشتہ 2 دہائیوں سے جاری ہے، غضب للحق نے ہمارے دشمن کے دل میں خوف پیدا کردیا ہے، آپریشن غضب للحق پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری ہے، افغان طالبان کے زیر اثر دہشت گرد پراکسی عناصر سے معصوم شہریوں کی جان ومال کا تحفظ یقینی بنایا جائےگا ۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور معاون ڈھانچوں کو مؤثر سزا دی جائے گی، پاکستان کسی بھی مہم جوئی کے خلاف اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کےدفاع کے لیے ہرقیمت ادا کرےگا، ہم اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، افغان طالبان رجیم کو دہشت گرد گروہوں ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے ۔
امریکا ایران جنگ پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ایران تنازع نے پورے خطے کو غیر یقینی صورت حال اور معاشی کم زوری میں دھکیل دیا ہے، پاکستان نے فریقین کو مذاکرات کے راستے امن کی راہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا ، پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں آٹھ اپریل کو امریکہ اور ایران نے جنگ بندی کا اعلان کیا، صدر ٹرمپ کی جرات مند قیادت، اپنے عزیز بھائی ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، امریکہ اور ایرانی صدور نے ہماری درخواست کا مثبت جواب دیا ۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقوق کی مسلسل وکالت کی ہے، فلسطینیوں کو غیر قانونی اسرائیلی وحشیانہ جارحیت کا سامنا ہے۔ ہم مقبوضہ کشمیر کے معصوم لوگوں کی اخلاقی،سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے ۔

