کابل: افغان طالبان رجیم کی مرکزی قیادت اور بدخشاں کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔
بدخشاں کے معدنی وسائل پر لڑائی اور عوامی بغاوت کے بعد امیر ہیبت اللہ نے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ناراض طالبان کمانڈروں اور حکام کے اثاثوں کی تفتیش کیلئے اعلیٰ سطح وفد مقرر کر دیا گیا۔
طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ کا حکم نہ ماننے والے مقامی کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
بدخشان میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی اندرونی بغاوت کو دبانے کیلئے خصوصی فوجی دستہ بھی تعینات کر دیا گیا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ قندھار گروپ نے بدخشان گروپ کے ناراض طالبان رہنماؤں پر دباو ڈالنے کیلئے گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔
مقامی طالبان کمانڈر موسیٰ کاکے اور سابق مائنز ڈائریکٹر اسلام الدین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
عالمی ماہرین کے مطابق بدخشان میں جاری لڑائی افغان طالبان کے اندر گہرے ہوتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔
طالبان رجیم کیخلاف ملک کے اندر اور باہر شروع ہونے والی نئی تحریکیں، ان کے مکمل کنٹرول اور عوامی حمایت کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہی ہیں۔

