ضلع سوات کی تحصیل کبل پولیس سٹیشن کے مرکزی گیٹ پر ہونے والے خودکش حملے میں 14 افراد شہید ہوگئے، جن میں 5 پولیس اہلکار اور 9 عام شہری شامل ہیں، جبکہ 20 افراد زخمی ہوئے ہیں ۔
سوات( عدنان باچا) ریجنل پولیس آفیسر ملاکنڈ سید فدا حسن شاہ کے مطابق حملہ آور پولیس کمپاؤنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے کمپاؤنڈ کے اندر داخل ہونے سے روک دیا، جس پر اس نے مرکزی گیٹ پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا ۔
پولیس کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والے 20 افراد میں 14 پولیس اہلکار اور 6 عام شہری شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا، جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے ۔
آر پی او ملاکنڈ کا کہنا ہے کہ پولیس کمپاؤنڈ میں کبل پولیس سٹیشن، پولیس لائن کبل، سہولت مرکز اور دیگر اہم سرکاری دفاتر قائم ہیں، اگر خودکش حملہ آور کمپاؤنڈ کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتا تو جانی نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا ۔
واقعے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، جبکہ دھماکے کی مزید تحقیقات جاری ہیں ۔
پولیس کا کہنا ہے کہ خودکش بمبار کا سر بھی مل چکا ہے جبکہ واقعے کی باریک بینی سے تفتیش کی جا رہی ہے، مقامی ذرائع کا کہنا تھا کہ دھماکہ کے وقت کبل چوک میں امن کےلئے احتجاجی مظاہرہ بھی جاری تھا ۔
سوات کبل دھماکہ کے بعد سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔تمام ڈاکٹرز، نرسنگ سٹاف اور پیرامیڈیکس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا، زخمیوں کو بروقت اور بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے ۔
یڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد سلیم خان اور دیگر افسران صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں، سیدو ہسپتال انتظامیہ کی شہریوں سے خون عطیہ کرنے کی اپیل کی ہے، ایمرجنسی کے دوران غیر ضروری رش سے گریز کیا جائے، ہسپتال انتظامیہ کے مطابق صورتحال کی مسلسل نگرانی جاری ہے ۔

