پاکستان اور قطر کی جانب سے جاری کیے جانے والے مشترکہ اعلامیے میں فریقین نے مذاکرات کی نگرانی کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کر لیا ہے، حتمی معاہدے کیلئے 60 روزہ روڈ میپ منظور کرلیا گیا ہے ۔
دفتر خارجہ کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان تکنیکی مذاکرات فوری شروع ہوں گے، مذاکرات پورے ہفتے برگن سٹاک میں جاری رہیں گے، آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کیلئے رابطہ لائن قائم کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے ۔
اعلامیے کے مطابق ایٹمی پروگرام، پابندیوں سے متعلق ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے، لبنان جنگ بندی پر عملدرآمد کیلئے ڈی کنفلیکشن سیل قائم کرنے پر اتفاق کر لیا گیا، ڈی کنفلیکشن سیل میں لبنان اور ثالث ممالک شامل ہوں گے، ثالث ممالک مذاکرات تعمیری ماحول میں آگے بڑھانےکیلئے کوششیں جاری رکھیں گے ۔
اعلامیے کے مطابق فریقین نے ایک ہائی لیول کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے جو پورے مذاکراتی عمل کی سیاسی نگرانی کرے گی ۔
مرکزی مذاکرات کار اس کمیٹی کو باقاعدگی سے پیش رفت سے آگاہ کریں گے جبکہ جوہری پروگرام، پابندیوں اور تنازعات کے حل و نگرانی سے متعلق خصوصی ورکنگ گروپس بھی قائم کیے جائیں گے ۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے اور کسی بھی غلط فہمی یا ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے فریقین کے درمیان براہ راست رابطے کا خصوصی نظام بھی قائم کر دیا گیا ہے ۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مشترکہ اعلامیے کو کوٹ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ انتھک پاکستانی اور قطری ثالثی سے لبنان جنگ کے خاتمے کے لیے اہم پیشرفت ہوئی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ تیل اور پیٹرو کیم کی برآمدات پر پابندیاں ختم کر دی گئیں اور ایران کی ناکہ بندی ختم کر دی گئی جبکہ کچھ منجمد اثاثے جاری کیے گئے اور ایران کے لیے تعمیر نو اور ترقی کا بڑا منصوبہ شروع کیا گیا ۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ تکنیکی سطح کے مذاکرات پورا ہفتہ برگن سٹاک میں جاری رہیں گے، جبکہ قطر اور پاکستان آئندہ بھی مذاکرات کو مثبت اور نتیجہ خیز سمت میں آگے بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے ۔
قطر اور پاکستان نے امریکہ اور ایران کی جانب سے سفارتکاری اور پرامن حل کے عزم کو سراہتے ہوئے ان تمام دوست ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لیے تعاون فراہم کیا ۔

