سفارتی ذرائع کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مختصر دورۂ اسلام آباد کا امکان ہے، جہاں وہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں کر سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی صدر پاکستان کے سفارتی کردار پر شکریہ ادا کرنے کے لیے جلد اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں، جبکہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ کل پاکستان کا دورہ کریں گے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان اور قطر کی ثالثی کے نتیجے میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ دونوں فریق ایک حتمی معاہدے کے لیے ساٹھ روزہ روڈ میپ پر متفق ہو گئے ہیں، جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی پاکستان کی سفارتی کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا پاکستان کے ساتھ مثبت تعلقات کا خواہاں ہے اور ثالثی کے عمل میں کردار ادا کرنے پر پاکستان کا شکر گزار ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو اس کے نہ صرف خطے کے امن و استحکام پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں میں بھی بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔

