خیبرپختونخوا پولیس نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف کارروائی کے دوران اب تک 640 افغان باشندوں کو حراست میں لے کر رجسٹریشن کے بعد طورخم بارڈر کے راستے افغانستان واپس بھجوا دیا ہے۔
ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان کے مطابق 10 جولائی کے بعد غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ گرفتار افراد کو ایف آئی آر میں نامزد کرنے کے بجائے ناصر باغ روڈ پر قائم ہولڈنگ سینٹر منتقل کیا جاتا ہے، جہاں رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد انہیں طورخم کے راستے ڈی پورٹ کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستانی خواتین سے شادی کرنے والے افغان شہریوں کے خلاف فی الحال کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی، جبکہ غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کی روزانہ کی بنیاد پر وطن واپسی کا عمل جاری ہے۔
دوسری جانب ناصر باغ روڈ کے جمعہ خان کلی میں قائم ہولڈنگ سینٹر میں سہولیات کی کمی کے باعث افغان شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ہولڈنگ سینٹر میں رش بڑھنے کے باعث رجسٹریشن کا عمل سست روی کا شکار ہے، جبکہ نادرا، ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ اداروں کے عملے کی تعداد بھی ناکافی بتائی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق ہولڈنگ سینٹر میں بجلی، پانی، واش رومز اور بچوں کے لیے بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث واپس جانے والے افغان شہریوں کو شدید دشواری کا سامنا ہے۔

