کراچی: سندھ کے 22 سرکاری ہسپتالوں کی فائر سیفٹی رپورٹ، کئی اداروں میں سنگین خامیاں سامنے آگئیں۔
سندھ کے 22 سرکاری ہسپتالوں کی فائر سیفٹی رپورٹ میں کئی اداروں میں سنگین خامیاں سامنے آئی ہیں۔
ان خامیوں نے آگ سے بچاؤ اور مریضوں کے محفوظ انخلا کے نظام پر سوالات کھڑے کردیے۔
رپورٹ کے مطابق بڑے ہسپتالوں میں فائر الارم اور واٹر سپرنکلرز جیسے بنیادی حفاظتی انتظامات تک موجود نہیں۔
سول ہسپتال کراچی میں 180 فائر ایکسٹنگویشرز فعال ہیں تاہم فائر الارم اور سپرنکلرز موجود نہیں۔
1750 بستروں پر مشتمل ہسپتال کی الیکٹرک وائرنگ بھی مرمت کی متقاضی ہے۔
اسی طرح جناح ہسپتال میں 208 فائر ایکسٹنگویشرز فعال ہیں مگر وہاں بھی فائر الارم اور سپرنکلرز کا نظام موجود نہیں۔
2208 بستروں کے ہسپتال کی وائرنگ کی مرمت کی ضرورت ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان ہسپتالوں میں فائر ڈرلز باقاعدگی سے کی جاتی ہیں۔
این آئی سی ایچ میں 135 فائر ایکسٹنگویشرز میں سے 40 خراب ہیں اور 533 بستروں کے اس ہسپتال میں فائر الارم موجود نہیں۔
فائر ڈرلز بھی باقاعدگی سے نہیں ہوتیں۔
رپورٹ کے مطابق یہاں الیکٹرک وائرنگ کو بڑے پیمانے پر مرمت کی ضرورت ہے۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر سندھ کے بیشتر سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کے بنیادی تقاضے پورے نہیں کیے جا رہے۔
اس وجہ سے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بڑے نقصان کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

