کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ پشاور کو بین الاقوامی کالعدم تنظیم فتنۃ الخوارج کے مسلح دہشتگردوں کی علاقہ بڈھ بیر میں نقل و حرکت کے حوالے سے اطلاعات موصول ہوئی تھیں، قبل ازیں خارجی کمانڈر طاہر عرف معاویہ، سکنہ شاکس، ضلع خیبر اپنے دیگر تنظیمی ساتھیوں کے ہمراہ علاقہ میں عوام الناس، صاحبِ ثروت افراد اور حکومتی رِٹ کو چیلنج کرنے اور دہشت گردی پھیلانے کی غرض سے گشت کرتے ہوئے نظر آئے تھے ۔
سی ٹی ڈی کے مطابق مذکورہ اطلاعات کی روشنی میں دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے سی ٹی ڈی پشاور کی جانب سے خصوصی سوات ٹیمز تشکیل دے کر ممکنہ داخلی و خارجی راستوں پر ایمبوش لگائی گئی ۔
اسی دوران دو موٹر سائیکلوں پر سوار مشتبہ افراد کو رکنے کے لیے للکارا گیا، تاہم مذکورہ افراد نے موٹر سائیکلیں موقع پر چھوڑ کر پولیس پارٹی پر فائرنگ شروع کر دی۔ سی ٹی ڈی جوانوں نے اپنی تحفظ اور دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کی غرض سے جوابی فائرنگ کی، فائرنگ کا سلسلہ تقریباً 20 تا 30 منٹ تک جاری رہا ۔
فائرنگ کے اختتام پر جائے وقوعہ اور ملحقہ علاقہ میں سرچ آپریشن کیا گیا، جس کے دوران چار دہشت گرد ہلاک پائے گئے، جبکہ دیگر دہشت گرد تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، ہلاک دہشت گردوں کی شناخت کا عمل جاری ہے ۔
اعلامیے کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے تین ایس ایم جیز، ایک پستول، ہینڈ گرینیڈ، موبائل فون، تین میگزین اور متعدد کارتوس برآمد کرکے قبضہ پولیس میں لے لیے گئے، دورانِ سرچ آپریشن ایک ہلاک شدہ دہشت گرد کی جیب سے افغان تذکرہ بھی برآمد ہوا، جو امان خان ولد علی خان، ساکن کنڑ، افغانستان کے نام سے جاری شدہ ہے ۔
دہشت گردوں کے زیرِ استعمال دونوں موٹر سائیکلیں بھی قبضہ پولیس میں لے لی گئی ہیں، جائے وقوعہ سے شواہد کے حصول اور ضروری تکنیکی کارروائی کے لیے بم ڈسپوزل یونٹ اور کرائم سین یونٹ کو موقع پر طلب کیا گیا، جو موقع پر پہنچ کر ضروری کارروائی میں مصروف ہیں ۔
انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے کامیاب کارروائی پر سی ٹی ڈی کے افسران و جوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہا ۔

