پاکستان اور کرغزستان کے درمیان تجارت، انسداد دہشتگردی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور موسمیاتی تبدیلی سمیت مختلف شعبوں میں متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوگئے ، اس حوالے سے ایک پروقار تقریب بشکیک میں ہوئی جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور کرغز صدر نے بھی شرکت کی ۔
بشکیک: معاہدوں کی تقریب کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقد ہوئی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور کرغز صدر نے بھی شرکت کی ۔
معاہدوں پر دستخط کی تقریب کے بعد مشترکہ پرس کانفرنسے اپنے خطاب میں وزیراعظم شہبازشریف نے پاکستان اور کرغز جمہوریہ کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کو خوش آئند پیش رفت قرار دیتے ہوئے دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا ۔
وزیراعظم نے کہا کہ لاہور اور کرغزستان کے شہر اوش کو جڑواں شہر قرار دینے سے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی روابط مزید مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے مل کر کام کریں گے اور اس حوالے سے باہمی تعاون بڑھایا جائے گا ۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نجی شعبوں کے درمیان تجارتی روابط کو وسعت دینے میں معاونت کریں گے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بھی پاکستان اور کرغزستان میں اتفاق رائے ہوا ہے، جبکہ تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون کو بھی فروغ دیا جائے گا ۔
وزیراعظم شہبازشریف کا مزید کہنا تھا کہ کاسا توانائی منصوبے سے متعلق معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے مشترکہ وزارتی گروپ کے قیام کو بھی خوش آئند قرار دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے اس اقدام سے اہم پیش رفت کی توقع ہے ۔
شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک دوطرفہ تجارتی حجم میں اضافے کے لیے کاروباری قوانین اور طریقہ کار کو مزید آسان بنائیں گے۔ پاکستان اور کرغزستان باہمی تجارت کو 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کے خواہاں ہیں، جس کے لیے نجی شعبے کے روابط اور تجارتی مواقع میں اضافہ کیا جائے گا ۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کرغزستان کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں ہونے والے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط دوطرفہ تعاون کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہیں، جن سے باہمی روابط مزید مضبوط ہوں گے ۔
اس موقع پر صدر کرغزستان صادر ژا پاروف کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے وفد کو خوش آمدید کہتے ہیں، پاکستان کے ساتھ برادارانہ تعلقات ہیں، پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعاون مزید بڑھانے کے خواہاں ہیں، دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح رابطوں کو مزید فروغ دیا جائے گا، پاکستان کے ساتھ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتے ہیں ۔

