قومی ٹیم کے مایہ ناز کھلاڑی محمد رضوان اور امام الحق وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ذیلی ادارے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے سامنے پیش ہو گئے، دونوں کھلاڑیوں نے جواب جمع کرنے کیلئے ایجنسی سے وقت مانگ لیا ۔
ذرائع کے مطابق دونوں کرکٹرز نے ادارے سے موصول ہونے والے نوٹس پر باقاعدہ جواب جمع کرانے کے لیے کچھ مزید مہلت طلب کی ہے، اس سے قبل این سی سی آئی اے نے کھلاڑیوں کے موبائل فونز سے ملنے والی تفصیلات کی پڑتال کے لیے امام الحق اور محمد رضوان سمیت تین کرکٹرز کو طلب کیا تھا ۔
بتایا جا رہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کھلاڑیوں کے موبائل فونز اپنے پاس رکھنے کے بعد متعلقہ تحقیقاتی اداروں کے حوالے کر دیے تھے، جس کی روشنی میں یہ طلبی عمل میں آئی ہے، تاہم تاحال پی سی بی کی طرف سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کھلاڑیوں کے فونز کس وجہ سے ضبط کیے گئے تھے ۔
یاد رہے کہ انگلینڈ کے خلاف جاری ٹیسٹ سیریز کے ابتدائی دو مقابلوں میں پاکستانی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی اور شکست کے بعد پی سی بی نے سخت اقدامات اٹھائے تھے ۔
لارڈز ٹیسٹ کے فوراً بعد بورڈ نے ہنگامی بنیادوں پر 7 کھلاڑیوں اور دو کوچز کو اسکواڈ سے باہر کر دیا تھا، جن کھلاڑیوں کو فارغ کیا گیا ان میں محمد رضوان، امام الحق، سلمان علی آغا، علی عثمان، عامر جمال، اویس ظفر اور خرم شہزاد شامل ہیں، جبکہ ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو بھی ذمہ داریوں سے سبکدوش کر دیا گیا تھا ۔

