صوبائی دارالحکومت پشاور میں فائرنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران فائرنگ کے دو مختلف واقعات میں دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ایک واقعہ ارمڑ جبکہ دوسرا تھانہ خزانہ کی حدود میں پیش آیا۔
ارمڑ کے علاقے میں نامعلوم افراد نے 40 سالہ زمیندار رحیم خان کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ پولیس کے مطابق مقتول گھر کا واحد کفیل تھا اور گزشتہ شام سے لاپتہ تھا۔ اگلی صبح اس کی لاش ارمڑ بالا ہوائی ونڈ کے علاقے سے ملی۔
مقتول کی بہن نے پولیس کو دی گئی رپورٹ میں بتایا کہ رحیم خان اراضیات میں کام کرنے کے لیے گھر سے نکلا تھا تاہم شام تک واپس نہ آیا۔ اہلخانہ اس کی تلاش میں تھے کہ اس دوران اس کے قتل کی اطلاع ملی۔ مدعیہ کے مطابق ان کے خاندان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔
ورثا کے مطابق رحیم خان اپنے 3 سالہ بیٹے، بیمار والدہ اور بہنوں کا واحد سہارا تھا، جو اب ان سے چھین لیا گیا ہے۔ مقتول کے والد پہلے ہی انتقال کرچکے ہیں۔
پولیس نے واقعے کی تفتیش شروع کرتے ہوئے نامعلوم ملزمان کا سراغ لگانے کے لیے مقتول کے موبائل ڈیٹا اور دیگر شواہد کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں جبکہ مشکوک افراد کو بھی شامل تفتیش کیا جائے گا۔
دوسری جانب تھانہ خزانہ کی حدود میں بھی نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے 38 سالہ محمد وصال کو قتل کردیا۔ پولیس کے مطابق بیڑئی گودر، شاہ عالم میں تخت آباد کے مقام پر نوجوان کی خون میں لت پت لاش ملی۔
واقعے سے متعلق مقتول کے بھائی جہانگیر ولد حجرت میر نے بتایا کہ وہ فقیر آباد میں اپنی دکان پر موجود تھا کہ اسے اطلاع ملی کہ اس کے بھائی محمد وصال کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا ہے۔ اطلاع ملنے پر وہ جائے وقوعہ پر پہنچا جہاں مقتول کی لاش پڑی تھی۔
مقتول کے بھائی کے مطابق ان کی بھی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں تھی۔ پولیس نے لاش پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کرکے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش شروع کردی ہے۔ پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان کی تلاش کر رہی ہے۔

