کوهاټ پولیس لائن خودکش حملے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 21 ہو گئی ہے،شہید ہونے والوں میں 15 پولیس اہلکار اور ایک ڈاکٹر سمیت 6 عام شہری شامل ہیں، دوسری جانب شہید ہونے والے 15 پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی ، نماز جنازہ میں آئی جی خیبر پختونخوا، پولیس افسران، صوبائی وزراء اور عوام نے بڑی تعداد نے شرکت کی ۔
کوهاټ: شہید پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ کے بعد پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہداء کو سلامی پیش کی اور پولیس حکام نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے پولیس سربراہ ذوالفقار حمید نے کہا کہ کوہاټ بم دھماکے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کے خون کا پورا حساب لیا جائے گا ۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں پر خیبر پختونخوا کی زمین تنگ کر دی جائے گی، بزدل دہشت گردوں نے جمعہ کے روز نماز کے دوران نمازیوں کو نشانہ بنایا، جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کی تلاش جاری ہے اور ان کے سہولت کاروں کو بھی بہت جلد انجام تک پہنچایا جائے گا ۔
دوسری جانب، کوہاټ ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر طاہر نے بتایا کہ دھماکے میں 21 افراد شہید ہوئے ہیں، جن میں 15 پولیس اہلکار اور ایک ڈاکٹر سمیت 6 عام شہری شامل ہیں ۔
کوہاټ ہسپتال کے ایم ایس کے مطابق خودکش حملے میں 103 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جن کا علاج مختلف ہسپتالوں میں جاری ہے ، زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں ۔

