Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, فروری 21, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • رہائی فورس کا اعلان،سیاسی وفاداری یا تصادم کا حتمی فیصلہ ؟
    • امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف کا نفاذ کالعدم قرار دیدیا
    • وزیراعظم شہبازشریف کی امریکہ میں عالمی رہنماوں سے خوشگوار ماحول میں ملاقاتیں توجہ کا مرکز بن گئیں
    • اسلام آباد اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے
    • خودمختار ساوی کی انسان دوستی قابلِ تحسین اور قابلِ تقلید ہے، پروفیسر تہمیداللہ
    • پاکستان میں دہشتگردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کے شواہد سامنے آگئے
    • آئی ایم ایف مشن کی آمد سے قبل بڑا انکشاف، پاکستان میں غربت بڑھ کر 28.8 فیصد ہو گئی
    • خودمختار ساوی کے ذریعے پشاور کے 50 مستحقین میں رمضان پیکیج تقسیم
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پاکستان کی خارجی حکمتِ عملی کا نیا امتحان
    بلاگ

    پاکستان کی خارجی حکمتِ عملی کا نیا امتحان

    جون 15, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    A new test of Pakistan's foreign policy
    اس وقت پاکستان کے سامنے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ کس عالمی صف بندی کا حصہ بنے اور کن رشتوں کو نظرِ ثانی کی بنیاد پر برقرار رکھے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے جہاں عالمی طاقتوں کو حکمتِ عملی کی بند گلی میں لا کھڑا کیا ہے، وہیں پاکستان جیسے خطے کے اہم ملک کو خارجہ پالیسی کے ایک نازک ترین دور سے گزارنا شروع کر دیا ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں — امریکہ، چین، روس — نئی صف بندیوں کی جانب بڑھ رہی ہیں اور مشرقِ وسطیٰ کا جغرافیہ ایک بار پھر بدلنے کو ہے ۔ ایسے میں پاکستان کی سفارتی، تزویراتی اور نظریاتی پوزیشن سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ پاکستان برسوں سے مشرقِ وسطیٰ، چین، امریکہ اور افغانستان کے درمیان توازن کی ایک نازک ڈور پر چلتا آیا ہے، لیکن اب جو منظرنامہ ابھرا ہے وہ اس توازن کو مکمل طور پر بکھیر سکتا ہے۔

    اس وقت پاکستان کے سامنے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ کس عالمی صف بندی کا حصہ بنے اور کن رشتوں کو نظرِ ثانی کی بنیاد پر برقرار رکھے۔ ایران اگر اسرائیل کے خلاف میدانِ جنگ میں مضبوط نکلتا ہے تو وہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر ایک نئے بلاک کی قیادت کا دعویٰ کرے گا۔ چین اور روس پہلے ہی ایران کے ساتھ معاشی اور عسکری اتحاد کی بنیاد رکھ چکے ہیں، اور اس صورت میں پاکستان کے لیے یہ سوال بہت اہم ہو جائے گا کہ کیا وہ ایران کے بڑھتے ہوئے اثرات کو خوش آمدید کہے یا اپنی عرب دنیا سے جڑی معاشی وابستگیوں کی بنیاد پر فاصلے قائم رکھے۔ ایران کی فتح کا مطلب صرف اسرائیل یا امریکہ کی ہزیمت نہیں ہو گی بلکہ عرب دنیا کا زوال بھی اس کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ریاستیں جن پر پاکستان نے معاشی انحصار قائم کیا، اس صورتحال میں خود غیر یقینی کے گرداب میں پھنس جائیں گی۔

    اس کے برعکس اگر اسرائیل، امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی جنگ میں غالب آتے ہیں تو نہ صرف ایران کو عالمی تنہائی کا سامنا ہوگا بلکہ چین اور روس کے علاقائی عزائم کو بھی وقتی دھچکا لگے گا۔ تاہم، اس صورت میں بھی پاکستان کے لیے امن کی کوئی ضمانت نہیں ہو گی کیونکہ بھارت، اسرائیل اور خلیجی ریاستوں کے درمیان اس وقت جو نئی تزویراتی قربت قائم ہو رہی ہے، وہ پاکستان کے لیے ایک نئے قسم کی سفارتی تنہائی کا دروازہ کھول سکتی ہے۔ بھارت کو مشرقِ وسطیٰ میں جو مقام اور اہمیت دی جا رہی ہے، وہ پاکستان کے تزویراتی مفادات سے براہ راست متصادم ہو سکتا ہے۔

    چین، جو پاکستان کا دیرینہ دوست اور سی پیک کا شراکت دار ہے، اب ایران کی جانب غیر معمولی طور پر مائل دکھائی دیتا ہے۔ ایران کے پاس توانائی، خودمختاری، اور نظریاتی ہم آہنگی جیسے عناصر موجود ہیں جو چین کو ایک زیادہ "مضبوط اور خودمختار” سٹریٹجک پارٹنر کے طور پر لبھاتے ہیں۔ اس تناظر میں اگر پاکستان داخلی سیاسی خلفشار کا شکار رہا، عسکری ادارے متنازع ہوتے گئے، اور معیشت مسلسل زوال پذیر رہی تو چین کے لیے ایران کو پاکستان پر ترجیح دینا ایک فطری قدم ہوگا۔

    پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اور غیر یقینی زاویہ افغانستان اور وسطی ایشیا سے جڑا ہے۔ ایران اور روس اگر مل کر خطے میں نیا بلاک تشکیل دیتے ہیں تو پاکستان کے لیے ان سرحدی علاقوں میں رسائی اور اثر و رسوخ قائم رکھنا آسان نہیں رہے گا۔ افغانستان میں طالبان حکومت سے تعلقات کی نوعیت اگرچہ بہتر ہے، لیکن ایران کے ساتھ ان کے نظریاتی اختلافات اور بارڈر جھڑپیں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتی ہیں، جس میں پاکستان کو ثالث یا متاثرہ فریق دونوں میں سے ایک کردار نبھانا پڑ سکتا ہے۔

    اس تمام تناظر میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان اب وہ ملک نہیں رہا جو غیر جانب داری کا لبادہ اوڑھ کر سب سے تعلقات چلاتا رہے۔ بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی حالات نے اسے مجبور کر دیا ہے کہ وہ فیصلہ کرے: کیا وہ ماضی کے غیر واضح نظریات کو تھامے رکھے گا یا اپنے مفادات کو بنیاد بنا کر نئی حکمت عملی ترتیب دے گا۔ اب وقت آ چکا ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو مکمل طور پر ازسرنو تشکیل دے۔ یہ پالیسی اب صرف عسکری اداروں کے ہاتھ میں نہیں رہنی چاہیے بلکہ وزارتِ خارجہ، پارلیمانی خارجہ امور کی کمیٹیوں، ماہرین اور تھنک ٹینکس کے باہم اشتراک سے ایک جامع قومی بیانیہ تشکیل دیا جائے۔

    پاکستان کو متوازی اتحادوں کے درمیان توازن نہیں بلکہ ترجیحات طے کرنا ہوں گی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنی داخلی سیاسی، معاشی اور سفارتی ساخت کو مضبوط کرے۔ عوامی شعور کو اس عمل میں شریک کیا جائے تاکہ ایک قومی اتفاقِ رائے کے ساتھ پاکستان عالمی فورمز پر اپنی پوزیشن کا دفاع کر سکے۔ اس عمل میں تاخیر خود ایک سٹریٹجک کمزوری بن سکتی ہے۔

    ایران اور اسرائیل کی جنگ بظاہر دور ہے، مگر اس کے اثرات پاکستان کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔ چاہے عرب دنیا کا زوال ہو یا ایران کا عروج، چین کا جھکاؤ ہو یا بھارت کی چڑھائی، ہر راستہ پاکستان کے لیے ایک نئی دنیا کے دروازے کی کنجی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم یہ دروازہ خود کھولیں گے، یا کوئی دوسرا ہمارے لیے بند کر دے گا؟

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleمیدان جنگ میں ایران کی ناکامیاں اور سفارتی سطح پر تنہائیاں
    Next Article وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کردیا
    Khalid Khan
    • Website

    Related Posts

    رہائی فورس کا اعلان،سیاسی وفاداری یا تصادم کا حتمی فیصلہ ؟

    فروری 20, 2026

    باجوڑ حملہ، سفارتی احتجاج اور پاک افغان تعلقات کا نیا موڑ۔۔۔۔

    فروری 19, 2026

    خان کی صحت ،پی ٹی آئی قیادت کنفیوژن کا شکار؟؟؟؟؟

    فروری 18, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    رہائی فورس کا اعلان،سیاسی وفاداری یا تصادم کا حتمی فیصلہ ؟

    فروری 20, 2026

    امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف کا نفاذ کالعدم قرار دیدیا

    فروری 20, 2026

    وزیراعظم شہبازشریف کی امریکہ میں عالمی رہنماوں سے خوشگوار ماحول میں ملاقاتیں توجہ کا مرکز بن گئیں

    فروری 20, 2026

    اسلام آباد اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے

    فروری 20, 2026

    خودمختار ساوی کی انسان دوستی قابلِ تحسین اور قابلِ تقلید ہے، پروفیسر تہمیداللہ

    فروری 20, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.