Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, ستمبر 9, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • بلدیاتی انتخابات،خیبرپختونخوا حکومت کو قانون سازی کیلئے 3 ہفتے کی مہلت
    • خیبر پختونخوا کے بزرگ شہریوں کیلئے بی آر ٹی بسوں میں مفت سفر کی منظوری
    • پی ٹی آئی لانگ مارچ کیس کیلئے لارجر بینچ تشکیل، اٹارنی جنرل، چاروں چیف سیکرٹریز، ایڈووکیٹ جنرلز، آئی جیز طلب
    • وزیر اعظم شہبازشریف کی سعودی عرب پر بزدلانہ حوثی حملوں کی شدید مذمت
    • پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس
    • شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح
    • پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی
    • سٹاک ایکسچینج: عام شہریوں کی شرکت سے معاشی ترقی تیز ہو سکتی ہے، یوسف رضا گیلانی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پاکستان کی خارجی حکمتِ عملی کا نیا امتحان
    بلاگ جون 15, 2025

    پاکستان کی خارجی حکمتِ عملی کا نیا امتحان

    Facebook Twitter Email
    A new test of Pakistan's foreign policy
    اس وقت پاکستان کے سامنے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ کس عالمی صف بندی کا حصہ بنے اور کن رشتوں کو نظرِ ثانی کی بنیاد پر برقرار رکھے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے جہاں عالمی طاقتوں کو حکمتِ عملی کی بند گلی میں لا کھڑا کیا ہے، وہیں پاکستان جیسے خطے کے اہم ملک کو خارجہ پالیسی کے ایک نازک ترین دور سے گزارنا شروع کر دیا ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں — امریکہ، چین، روس — نئی صف بندیوں کی جانب بڑھ رہی ہیں اور مشرقِ وسطیٰ کا جغرافیہ ایک بار پھر بدلنے کو ہے ۔ ایسے میں پاکستان کی سفارتی، تزویراتی اور نظریاتی پوزیشن سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ پاکستان برسوں سے مشرقِ وسطیٰ، چین، امریکہ اور افغانستان کے درمیان توازن کی ایک نازک ڈور پر چلتا آیا ہے، لیکن اب جو منظرنامہ ابھرا ہے وہ اس توازن کو مکمل طور پر بکھیر سکتا ہے۔

    اس وقت پاکستان کے سامنے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ کس عالمی صف بندی کا حصہ بنے اور کن رشتوں کو نظرِ ثانی کی بنیاد پر برقرار رکھے۔ ایران اگر اسرائیل کے خلاف میدانِ جنگ میں مضبوط نکلتا ہے تو وہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر ایک نئے بلاک کی قیادت کا دعویٰ کرے گا۔ چین اور روس پہلے ہی ایران کے ساتھ معاشی اور عسکری اتحاد کی بنیاد رکھ چکے ہیں، اور اس صورت میں پاکستان کے لیے یہ سوال بہت اہم ہو جائے گا کہ کیا وہ ایران کے بڑھتے ہوئے اثرات کو خوش آمدید کہے یا اپنی عرب دنیا سے جڑی معاشی وابستگیوں کی بنیاد پر فاصلے قائم رکھے۔ ایران کی فتح کا مطلب صرف اسرائیل یا امریکہ کی ہزیمت نہیں ہو گی بلکہ عرب دنیا کا زوال بھی اس کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ریاستیں جن پر پاکستان نے معاشی انحصار قائم کیا، اس صورتحال میں خود غیر یقینی کے گرداب میں پھنس جائیں گی۔

    اس کے برعکس اگر اسرائیل، امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی جنگ میں غالب آتے ہیں تو نہ صرف ایران کو عالمی تنہائی کا سامنا ہوگا بلکہ چین اور روس کے علاقائی عزائم کو بھی وقتی دھچکا لگے گا۔ تاہم، اس صورت میں بھی پاکستان کے لیے امن کی کوئی ضمانت نہیں ہو گی کیونکہ بھارت، اسرائیل اور خلیجی ریاستوں کے درمیان اس وقت جو نئی تزویراتی قربت قائم ہو رہی ہے، وہ پاکستان کے لیے ایک نئے قسم کی سفارتی تنہائی کا دروازہ کھول سکتی ہے۔ بھارت کو مشرقِ وسطیٰ میں جو مقام اور اہمیت دی جا رہی ہے، وہ پاکستان کے تزویراتی مفادات سے براہ راست متصادم ہو سکتا ہے۔

    چین، جو پاکستان کا دیرینہ دوست اور سی پیک کا شراکت دار ہے، اب ایران کی جانب غیر معمولی طور پر مائل دکھائی دیتا ہے۔ ایران کے پاس توانائی، خودمختاری، اور نظریاتی ہم آہنگی جیسے عناصر موجود ہیں جو چین کو ایک زیادہ "مضبوط اور خودمختار” سٹریٹجک پارٹنر کے طور پر لبھاتے ہیں۔ اس تناظر میں اگر پاکستان داخلی سیاسی خلفشار کا شکار رہا، عسکری ادارے متنازع ہوتے گئے، اور معیشت مسلسل زوال پذیر رہی تو چین کے لیے ایران کو پاکستان پر ترجیح دینا ایک فطری قدم ہوگا۔

    پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اور غیر یقینی زاویہ افغانستان اور وسطی ایشیا سے جڑا ہے۔ ایران اور روس اگر مل کر خطے میں نیا بلاک تشکیل دیتے ہیں تو پاکستان کے لیے ان سرحدی علاقوں میں رسائی اور اثر و رسوخ قائم رکھنا آسان نہیں رہے گا۔ افغانستان میں طالبان حکومت سے تعلقات کی نوعیت اگرچہ بہتر ہے، لیکن ایران کے ساتھ ان کے نظریاتی اختلافات اور بارڈر جھڑپیں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتی ہیں، جس میں پاکستان کو ثالث یا متاثرہ فریق دونوں میں سے ایک کردار نبھانا پڑ سکتا ہے۔

    اس تمام تناظر میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان اب وہ ملک نہیں رہا جو غیر جانب داری کا لبادہ اوڑھ کر سب سے تعلقات چلاتا رہے۔ بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی حالات نے اسے مجبور کر دیا ہے کہ وہ فیصلہ کرے: کیا وہ ماضی کے غیر واضح نظریات کو تھامے رکھے گا یا اپنے مفادات کو بنیاد بنا کر نئی حکمت عملی ترتیب دے گا۔ اب وقت آ چکا ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو مکمل طور پر ازسرنو تشکیل دے۔ یہ پالیسی اب صرف عسکری اداروں کے ہاتھ میں نہیں رہنی چاہیے بلکہ وزارتِ خارجہ، پارلیمانی خارجہ امور کی کمیٹیوں، ماہرین اور تھنک ٹینکس کے باہم اشتراک سے ایک جامع قومی بیانیہ تشکیل دیا جائے۔

    پاکستان کو متوازی اتحادوں کے درمیان توازن نہیں بلکہ ترجیحات طے کرنا ہوں گی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنی داخلی سیاسی، معاشی اور سفارتی ساخت کو مضبوط کرے۔ عوامی شعور کو اس عمل میں شریک کیا جائے تاکہ ایک قومی اتفاقِ رائے کے ساتھ پاکستان عالمی فورمز پر اپنی پوزیشن کا دفاع کر سکے۔ اس عمل میں تاخیر خود ایک سٹریٹجک کمزوری بن سکتی ہے۔

    ایران اور اسرائیل کی جنگ بظاہر دور ہے، مگر اس کے اثرات پاکستان کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔ چاہے عرب دنیا کا زوال ہو یا ایران کا عروج، چین کا جھکاؤ ہو یا بھارت کی چڑھائی، ہر راستہ پاکستان کے لیے ایک نئی دنیا کے دروازے کی کنجی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم یہ دروازہ خود کھولیں گے، یا کوئی دوسرا ہمارے لیے بند کر دے گا؟

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleمیدان جنگ میں ایران کی ناکامیاں اور سفارتی سطح پر تنہائیاں
    Next Article وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کردیا
    Khalid Khan
    • Website

    Related Posts

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    بلدیاتی انتخابات،خیبرپختونخوا حکومت کو قانون سازی کیلئے 3 ہفتے کی مہلت

    ستمبر 8, 2026

    خیبر پختونخوا کے بزرگ شہریوں کیلئے بی آر ٹی بسوں میں مفت سفر کی منظوری

    ستمبر 8, 2026

    پی ٹی آئی لانگ مارچ کیس کیلئے لارجر بینچ تشکیل، اٹارنی جنرل، چاروں چیف سیکرٹریز، ایڈووکیٹ جنرلز، آئی جیز طلب

    ستمبر 8, 2026

    وزیر اعظم شہبازشریف کی سعودی عرب پر بزدلانہ حوثی حملوں کی شدید مذمت

    ستمبر 8, 2026

    پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس

    ستمبر 7, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.