Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, جنوری 20, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • صنفِ نازک سے صنفِ آہن تک کا سفر
    • تحریک انصاف سے مذاکرات میں سنجیدہ ہیں مگر یہ کئی زبانیں بولتے ہیں ہم کس پر اعتبار کریں: خواجہ آصف
    • پارلیمنٹ کو سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے، علامہ راجہ ناصر عباس
    • پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ علامہ راجہ ناصر عباس سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف مقرر
    • چمن سرحد پر پاکستان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ، جانی نقصان نہیں ہوا
    • کراچی سانحہ، جاں بحق افراد کی تعداد 26 ہوگئی، 83 افراد لاپتہ،ریسکیو کارروائیاں جاری
    • دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز کی مخالفت کیوں ؟
    • انڈر 19 ورلڈ کپ، پاکستان نے سکاٹ لینڈ کو 6 وکٹوں سے ہرادیا،جنوبی افریقہ اور سری لنکا بھی کامیاب
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » افغان طالبان کی علم دشمن پالیسیاں، کتب پر پابندیاں، فکری آزادی خطرے میں
    افغانستان

    افغان طالبان کی علم دشمن پالیسیاں، کتب پر پابندیاں، فکری آزادی خطرے میں

    دسمبر 31, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔1 Min Read
    Facebook Twitter Email
    Afghan Taliban's anti-knowledge policies, book bans, intellectual freedom at risk
    سال 2025 میں افغانستان میں 21 لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر رہے،فائل فوٹو
    Share
    Facebook Twitter Email

    افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے علم، تحقیق اور فکری آزادی پر سخت پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث تعلیمی نظام شدید بحران کا شکار ہو چکا ہے۔ رپورٹس کے مطابق جامعات غیر فعال، کتب خانے بند اور تدریسی و تحقیقی سرگرمیاں تقریباً مفلوج ہو چکی ہیں۔

    افغان جریدے ہشت صبح اور دی افغانستان اینالیسٹس نیٹ ورک (AAN) کے مطابق طالبان نے 670 سے زائد یونیورسٹی نصابی کتب اور سینکڑوں عمومی مطالعے کی کتابوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    انسانی حقوق، جمہوریت، آئینی قانون، سوشیالوجی اور فلسفہ جیسے اہم مضامین کو نصاب سے خارج کر دیا گیا ہے، جبکہ خواتین اور ایرانی مصنفین کی تحریریں بھی ممنوع قرار دی گئی ہیں۔

    یونیسف کے مطابق سال 2025 میں افغانستان میں 21 لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر رہے جن میں اکثریت لڑکیوں کی ہے، جبکہ 22 لاکھ نوجوان خواتین ثانوی تعلیم سے محروم رہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی یہ پالیسیاں نہ صرف افغانستان کے تعلیمی اور فکری مستقبل کے لیے خطرہ ہیں بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خدشات کو جنم دے رہی ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleجنگی جنون میں مبتلا بھارت کا پاکستانی سرحد کے قریب فضائی مشقوں کا اعلان
    Next Article پشاور: پاکستان مخالف بیان دینے والا افغان شہری گرفتار
    عروج خان
    • Website

    Related Posts

    تحریک انصاف سے مذاکرات میں سنجیدہ ہیں مگر یہ کئی زبانیں بولتے ہیں ہم کس پر اعتبار کریں: خواجہ آصف

    جنوری 20, 2026

    پارلیمنٹ کو سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے، علامہ راجہ ناصر عباس

    جنوری 20, 2026

    پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ علامہ راجہ ناصر عباس سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف مقرر

    جنوری 20, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    Khyber News YouTube Channel
    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    صنفِ نازک سے صنفِ آہن تک کا سفر

    جنوری 20, 2026

    تحریک انصاف سے مذاکرات میں سنجیدہ ہیں مگر یہ کئی زبانیں بولتے ہیں ہم کس پر اعتبار کریں: خواجہ آصف

    جنوری 20, 2026

    پارلیمنٹ کو سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے، علامہ راجہ ناصر عباس

    جنوری 20, 2026

    پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ علامہ راجہ ناصر عباس سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف مقرر

    جنوری 20, 2026

    چمن سرحد پر پاکستان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ، جانی نقصان نہیں ہوا

    جنوری 20, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.