Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, مارچ 25, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خلیج میں اصل کشمکش. تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین
    • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بوجھ کو کم سے کم رکھا جائے، صدر مملکت کی ہدایت
    • محسن نقوی کی پی ایس ایل 11 کے شیڈول میں تبدیلی پر شائقین کرکٹ سے معذرت
    • رومانیہ نے پاکستان کے قومی ترانے کا پہلا پیشہ ورانہ کورل انتظام پیش کر دیا،تاریخی ثقافتی سنگ میل، دونوں ممالک کی دوستی کا مظہر
    • ایران اور امریکہ آمادہ ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، دفتر خارجہ
    • اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا امکان
    • مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے خاتمے میں پاکستان کا اہم کردار
    • ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مذاکرات کے دعوے کو مسترد کردیا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » افغان طالبان کی علم دشمن پالیسیاں، کتب پر پابندیاں، فکری آزادی خطرے میں
    افغانستان

    افغان طالبان کی علم دشمن پالیسیاں، کتب پر پابندیاں، فکری آزادی خطرے میں

    دسمبر 31, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔1 Min Read
    Facebook Twitter Email
    Afghan Taliban's anti-knowledge policies, book bans, intellectual freedom at risk
    سال 2025 میں افغانستان میں 21 لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر رہے،فائل فوٹو
    Share
    Facebook Twitter Email

    افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے علم، تحقیق اور فکری آزادی پر سخت پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث تعلیمی نظام شدید بحران کا شکار ہو چکا ہے۔ رپورٹس کے مطابق جامعات غیر فعال، کتب خانے بند اور تدریسی و تحقیقی سرگرمیاں تقریباً مفلوج ہو چکی ہیں۔

    افغان جریدے ہشت صبح اور دی افغانستان اینالیسٹس نیٹ ورک (AAN) کے مطابق طالبان نے 670 سے زائد یونیورسٹی نصابی کتب اور سینکڑوں عمومی مطالعے کی کتابوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    انسانی حقوق، جمہوریت، آئینی قانون، سوشیالوجی اور فلسفہ جیسے اہم مضامین کو نصاب سے خارج کر دیا گیا ہے، جبکہ خواتین اور ایرانی مصنفین کی تحریریں بھی ممنوع قرار دی گئی ہیں۔

    یونیسف کے مطابق سال 2025 میں افغانستان میں 21 لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر رہے جن میں اکثریت لڑکیوں کی ہے، جبکہ 22 لاکھ نوجوان خواتین ثانوی تعلیم سے محروم رہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی یہ پالیسیاں نہ صرف افغانستان کے تعلیمی اور فکری مستقبل کے لیے خطرہ ہیں بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خدشات کو جنم دے رہی ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleجنگی جنون میں مبتلا بھارت کا پاکستانی سرحد کے قریب فضائی مشقوں کا اعلان
    Next Article پشاور: پاکستان مخالف بیان دینے والا افغان شہری گرفتار
    عروج خان
    • Website

    Related Posts

    خلیج میں اصل کشمکش. تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    مارچ 25, 2026

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بوجھ کو کم سے کم رکھا جائے، صدر مملکت کی ہدایت

    مارچ 24, 2026

    ایران اور امریکہ آمادہ ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، دفتر خارجہ

    مارچ 24, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خلیج میں اصل کشمکش. تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    مارچ 25, 2026

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بوجھ کو کم سے کم رکھا جائے، صدر مملکت کی ہدایت

    مارچ 24, 2026

    محسن نقوی کی پی ایس ایل 11 کے شیڈول میں تبدیلی پر شائقین کرکٹ سے معذرت

    مارچ 24, 2026

    رومانیہ نے پاکستان کے قومی ترانے کا پہلا پیشہ ورانہ کورل انتظام پیش کر دیا،تاریخی ثقافتی سنگ میل، دونوں ممالک کی دوستی کا مظہر

    مارچ 24, 2026

    ایران اور امریکہ آمادہ ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، دفتر خارجہ

    مارچ 24, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.