Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعہ, جنوری 9, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • میں جو ھوں اس پہ پشیماں نہیں ھوں لوگوں کی باتوں کی پرواہ کبھی نہیں کی نہ ھے۔۔۔ ڈولفن آیان
    • شوبز میں اپنی فنی صلاحیتوں کی بدولت منفرد مقام حاصل کیا خودداری کو ھمیشہ ترجیح دی۔۔۔۔ شازمہ حلیم۔۔
    • تیراہ میں فوجی آپریشن سے قبل ھمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔۔ اقبال آفریدی۔۔۔
    •  کسی بھی غیر مہذب اور بیہودہ سی ڈی ڈراموں میں کام نہ کرنیکا عہد کررکھا ھے شینوماما۔
    • معروف چترالی فنکار اقبال الدین دارفانی سے کوچ کرگئے۔۔۔
    • مادری زبان میں تعلیم کیلئے اے این پی کا اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس
    • وزیراعظم کی زیر صدارت دور دراز علاقوں میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی کیلئے سولرائزیشن پر اعلیٰ سطحی اجلاس
    • پشاور میں اغواء برائے تاوان میں ملوث ملزم گرفتار، کمسن بچہ باحفاظت بازیاب
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » افغان طالبان کی علم دشمن پالیسیاں، کتب پر پابندیاں، فکری آزادی خطرے میں
    افغانستان

    افغان طالبان کی علم دشمن پالیسیاں، کتب پر پابندیاں، فکری آزادی خطرے میں

    دسمبر 31, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔1 Min Read
    Facebook Twitter Email
    Afghan Taliban's anti-knowledge policies, book bans, intellectual freedom at risk
    سال 2025 میں افغانستان میں 21 لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر رہے،فائل فوٹو
    Share
    Facebook Twitter Email

    افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے علم، تحقیق اور فکری آزادی پر سخت پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث تعلیمی نظام شدید بحران کا شکار ہو چکا ہے۔ رپورٹس کے مطابق جامعات غیر فعال، کتب خانے بند اور تدریسی و تحقیقی سرگرمیاں تقریباً مفلوج ہو چکی ہیں۔

    افغان جریدے ہشت صبح اور دی افغانستان اینالیسٹس نیٹ ورک (AAN) کے مطابق طالبان نے 670 سے زائد یونیورسٹی نصابی کتب اور سینکڑوں عمومی مطالعے کی کتابوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    انسانی حقوق، جمہوریت، آئینی قانون، سوشیالوجی اور فلسفہ جیسے اہم مضامین کو نصاب سے خارج کر دیا گیا ہے، جبکہ خواتین اور ایرانی مصنفین کی تحریریں بھی ممنوع قرار دی گئی ہیں۔

    یونیسف کے مطابق سال 2025 میں افغانستان میں 21 لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر رہے جن میں اکثریت لڑکیوں کی ہے، جبکہ 22 لاکھ نوجوان خواتین ثانوی تعلیم سے محروم رہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی یہ پالیسیاں نہ صرف افغانستان کے تعلیمی اور فکری مستقبل کے لیے خطرہ ہیں بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خدشات کو جنم دے رہی ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleجنگی جنون میں مبتلا بھارت کا پاکستانی سرحد کے قریب فضائی مشقوں کا اعلان
    Next Article پشاور: پاکستان مخالف بیان دینے والا افغان شہری گرفتار
    عروج خان
    • Website

    Related Posts

    مادری زبان میں تعلیم کیلئے اے این پی کا اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس

    جنوری 9, 2026

    وزیراعظم کی زیر صدارت دور دراز علاقوں میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی کیلئے سولرائزیشن پر اعلیٰ سطحی اجلاس

    جنوری 9, 2026

    پشاور میں اغواء برائے تاوان میں ملوث ملزم گرفتار، کمسن بچہ باحفاظت بازیاب

    جنوری 9, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    Khyber News YouTube Channel
    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    میں جو ھوں اس پہ پشیماں نہیں ھوں لوگوں کی باتوں کی پرواہ کبھی نہیں کی نہ ھے۔۔۔ ڈولفن آیان

    جنوری 9, 2026

    شوبز میں اپنی فنی صلاحیتوں کی بدولت منفرد مقام حاصل کیا خودداری کو ھمیشہ ترجیح دی۔۔۔۔ شازمہ حلیم۔۔

    جنوری 9, 2026

    تیراہ میں فوجی آپریشن سے قبل ھمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔۔ اقبال آفریدی۔۔۔

    جنوری 9, 2026

     کسی بھی غیر مہذب اور بیہودہ سی ڈی ڈراموں میں کام نہ کرنیکا عہد کررکھا ھے شینوماما۔

    جنوری 9, 2026

    معروف چترالی فنکار اقبال الدین دارفانی سے کوچ کرگئے۔۔۔

    جنوری 9, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.