Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, ستمبر 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک
    • کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی
    • پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ
    • آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی
    • وزیراعظم کے کفایت شعاری اقدامات: وزارتِ ریلوے میں اہم فیصلے
    • بلوچستان میں سماعت سے محروم بچوں کے لیے پہلا ڈیف چلڈرن ایکسی لینس اینڈ ریسرچ سینٹر قائم
    • پشاور میں قبر کھود کر بچوں کی لاشوں کی بے حرمتی کرنے والا درندہ صفت افغانی گرفتار
    • جماعت اسلامی نے وزیراعظم کی وطن واپسی تک لانگ مارچ مؤخر کرنے کا اعلان کردیا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » افغان طالبان کی علم دشمن پالیسیاں، کتب پر پابندیاں، فکری آزادی خطرے میں
    افغانستان دسمبر 31, 2025

    افغان طالبان کی علم دشمن پالیسیاں، کتب پر پابندیاں، فکری آزادی خطرے میں

    Facebook Twitter Email
    Afghan Taliban's anti-knowledge policies, book bans, intellectual freedom at risk
    سال 2025 میں افغانستان میں 21 لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر رہے،فائل فوٹو
    Share
    Facebook Twitter Email

    افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے علم، تحقیق اور فکری آزادی پر سخت پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث تعلیمی نظام شدید بحران کا شکار ہو چکا ہے۔ رپورٹس کے مطابق جامعات غیر فعال، کتب خانے بند اور تدریسی و تحقیقی سرگرمیاں تقریباً مفلوج ہو چکی ہیں۔

    افغان جریدے ہشت صبح اور دی افغانستان اینالیسٹس نیٹ ورک (AAN) کے مطابق طالبان نے 670 سے زائد یونیورسٹی نصابی کتب اور سینکڑوں عمومی مطالعے کی کتابوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    انسانی حقوق، جمہوریت، آئینی قانون، سوشیالوجی اور فلسفہ جیسے اہم مضامین کو نصاب سے خارج کر دیا گیا ہے، جبکہ خواتین اور ایرانی مصنفین کی تحریریں بھی ممنوع قرار دی گئی ہیں۔

    یونیسف کے مطابق سال 2025 میں افغانستان میں 21 لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر رہے جن میں اکثریت لڑکیوں کی ہے، جبکہ 22 لاکھ نوجوان خواتین ثانوی تعلیم سے محروم رہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی یہ پالیسیاں نہ صرف افغانستان کے تعلیمی اور فکری مستقبل کے لیے خطرہ ہیں بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خدشات کو جنم دے رہی ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleجنگی جنون میں مبتلا بھارت کا پاکستانی سرحد کے قریب فضائی مشقوں کا اعلان
    Next Article پشاور: پاکستان مخالف بیان دینے والا افغان شہری گرفتار
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک

    ستمبر 22, 2026

    کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی

    ستمبر 22, 2026

    پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ

    ستمبر 22, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک

    ستمبر 22, 2026

    کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی

    ستمبر 22, 2026

    پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ

    ستمبر 22, 2026

    آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی

    ستمبر 22, 2026

    وزیراعظم کے کفایت شعاری اقدامات: وزارتِ ریلوے میں اہم فیصلے

    ستمبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.