مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں امریکا نے ایران کے جنوبی علاقے میں فوجی کارروائی کرتے ہوئے متعدد اہم اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق حملوں میں ایران کی میزائل لانچنگ سائٹس اور بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو تباہ کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں امریکی فوجیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کی گئیں، کیونکہ ایرانی فورسز کی جانب سے خطے میں بارودی سرنگیں نصب کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی، جو بین الاقوامی بحری راستوں اور امریکی مفادات کے لیے خطرہ بن سکتی تھیں۔
سینٹ کام کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے کہا کہ امریکی افواج جاری کشیدگی کے دوران تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے دفاع میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ان کے مطابق حملوں کا ہدف بندر عباس کے قریب کا علاقہ تھا، جو ایران کا ایک اہم بندرگاہی شہر ہے اور اس کے قریب ایک بحری اڈہ بھی واقع ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہی علاقہ کارروائی کا مرکز تھا۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ بندر عباس میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جس کے بعد مقامی حکام نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے امکانات اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے ایران اور قطر کے درمیان ہونے والی سفارتی ملاقاتوں کا بھی حوالہ دیا تھا۔
انہوں نے کہا تھا کہ امریکا ایک بہتر معاہدے کا خواہاں ہے، تاہم اگر ایسا ممکن نہ ہوا تو کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، تاہم کسی فوری معاہدے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
تاحال ایران کی جانب سے تازہ امریکی کارروائی پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ صورتحال کے خطے پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

