Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعہ, مارچ 20, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقوں میں بھی ہفتے کو عید منانے کا اعلان
    • حکومت کی عوام سے پیٹرول اور ڈیزل کی بچت کے اقدامات کو اپنانے کی اپیل
    • ماہ شوال کا چاند نظر نہیں آیا، عید الفطر 21 مارچ کو منائی جائے گی
    • پاکستان نے اپنے میزائل پروگرام کو ممکنہ خطرہ قرار دینے کا دعویٰ مسترد کر دیا
    • صدر مملکت نے پاکستان سٹیزن شپ سمیت اہم ترمیمی بلز کی منظوری دیدی
    • پاکستان اپنے عوام کے خلاف دہشتگردی کیلئے افغان سرزمین کے استعمال کو ہرگز برداشت نہیں کریگا، فیلڈ مارشل عاصم منیر
    • توانائی تنصیبات پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ
    • کراچی میں طوفانی بارش، 19 افراد جاں بحق، 60 سے زائد زخمی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ترجیحات بدلیں گی یا تاریخ دہرائی جائے گی؟
    بلاگ

    ترجیحات بدلیں گی یا تاریخ دہرائی جائے گی؟

    جولائی 23, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    A Fragile But Hopeful Trade Pact Between Pakistan and Afghanistan
    Can Preferential Trade Bring Lasting Economic Stability
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان ترجیحی تجارتی معاہدے پر دستخط ہوئے ، ایک ایسی خبر جو خطے میں اقتصادی بہتری کے متلاشی افراد کے لیے امید کی کرن ہے۔ اگرچہ یہ ایک تکنیکی اور وقتی معاہدہ دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے پس منظر، مقاصد، اور ممکنہ اثرات کو اگر بغور دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ صرف اشیاء کا تبادلہ نہیں، بلکہ اعتماد، استحکام اور باہمی مفادات کا ایک نیا باب ہے۔

    افغانستان کی عبوری حکومت کے نائب وزیر صنعت و تجارت، مولوی احمد اللہ زاہد اور پاکستان کے نائب وزیر تجارت جاوید پال نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ 1 اگست 2025 سے نافذ ہوگا اور ایک سال کے لیے مؤثر رہے گا، تاہم اسے مستقبل میں توسیع دی جا سکتی ہے۔

    معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان آٹھ اہم زرعی مصنوعات پر ٹیکس کی شرح 60 فیصد سے گھٹا کر 27 فیصد کر دی جائے گی۔ افغانستان سے پاکستان کو انگور، انار، سیب اور ٹماٹر فراہم کیے جائیں گے جبکہ پاکستان سے افغانستان کو آم، کیلے، مالٹے اور آلو برآمد کیے جائیں گے۔

    یہ معاہدہ ایک جانب تو بلاشبہ دو طرفہ تجارتی تعلقات کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے  لیکن اس کا دوسرا پہلو بھی نہایت اہم ہے دونوں ممالک کی موجودہ سیاسی و اقتصادی صورتحال۔ افغانستان کی عبوری حکومت کو بین الاقوامی سطح پر اب بھی مکمل پذیرائی حاصل نہیں، اور پاکستان کو اندرونی معاشی بحرانوں کا سامنا ہے۔ ایسے میں یہ معاہدہ ایک عملی مجبوری  بھی ہو سکتی ہے، تاکہ معاشی پہیے کو چلایا جا سکے۔

    لیکن اس مجبوری کے باوجود، اس معاہدے میں امکانات کی ایک دنیا پوشیدہ ہے۔ دونوں ممالک زرعی پیداوار میں طاقت رکھتے ہیں، لیکن مارکیٹ رسائی اور لاجسٹک مسائل نے ان کی صلاحیتوں کو محدود کر رکھا ہے۔ اگر یہ معاہدہ کامیابی سے لاگو ہوتا ہے، تو کسانوں، چھوٹے تاجروں اور خریداروں  سب کے لیے یہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

    کسی بھی تجارتی معاہدے کی کامیابی کا انحصار صرف معاشی اعداد و شمار پر نہیں بلکہ سیاسی ہم آہنگی، سرحدی صورت حال، اور انتظامی تعاون پر ہوتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ماضی میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ بارڈر بندش، سیکیورٹی خدشات اور باہمی بداعتمادی اکثر تجارت کی راہ میں رکاوٹ بنی ہیں۔

    ایک عام پاکستانی یا افغان شہری کے لیے یہ معاہدہ صرف دو ممالک کے بیچ کی سفارتی بات نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی سے جڑی ہوئی حقیقت ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں اگر عوام کو معیاری پھل اور سبزیاں مناسب قیمتوں پر دستیاب ہوں، تو یہ معاہدہ براہ راست ان کی زندگیوں کو بہتر بنا سکتا ہے۔

    اسی طرح  دونوں ممالک کے کسان اور کاشتکار جو برسوں سے منڈیوں تک رسائی کے مسائل کا شکار ہیں، اب اپنی پیداوار کو برآمد کر کے بہتر آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر ان علاقوں کے لیے، جو سرحدی تجارت پر انحصار کرتے ہیں، یہ معاہدہ ترقی کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔

    اگرچہ اس معاہدے کو ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، مگر اس کی کامیابی کا دار و مدار اس پر ہے کہ دونوں ممالک اسے کس سنجیدگی سے نافذ کرتے ہیں۔ صرف محصولات میں کمی کر دینا کافی نہیں، اصل چیلنج لاجسٹک سہولیات، سرحدی شفافیت، اور سیاسی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleزیر التوا اپیل کی بنیاد پر عدالتی فیصلہ پر عملدرآمد روکنا توہین کے مترادف ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ
    Next Article خیبرپختونخوا کی اپوزیشن جماعتوں کا حکومتی کُل جماعتی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    افغانستان میں دہلی کی مداخلت اور پاکستان.. تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    مارچ 17, 2026

    پاکستان میں حقیقی جمہوریت آج تک قائم نہیں ہو سکی، معظم امیر ایڈوکیٹ

    مارچ 14, 2026

    ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد خلیجی ممالک میں اقتصادی و سیاسی بحران، عالمی توجہ پاکستان پر

    مارچ 5, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقوں میں بھی ہفتے کو عید منانے کا اعلان

    مارچ 19, 2026

    حکومت کی عوام سے پیٹرول اور ڈیزل کی بچت کے اقدامات کو اپنانے کی اپیل

    مارچ 19, 2026

    ماہ شوال کا چاند نظر نہیں آیا، عید الفطر 21 مارچ کو منائی جائے گی

    مارچ 19, 2026

    پاکستان نے اپنے میزائل پروگرام کو ممکنہ خطرہ قرار دینے کا دعویٰ مسترد کر دیا

    مارچ 19, 2026

    صدر مملکت نے پاکستان سٹیزن شپ سمیت اہم ترمیمی بلز کی منظوری دیدی

    مارچ 19, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.