Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    اتوار, ستمبر 13, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • برمنگھم ٹیسٹ: رضا اللہ نے ڈیبیو پر تیز ترین پاکستانی نصف سنچری کا ریکارڈ بنا دیا
    • پشاور کے 45 نجی اسکولوں میں افغان بچوں کے داخلوں کی نشاندہی، کارروائی کی تیاری
    • وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے انتخاب کے خلاف درخواست 14 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر
    • تمپ میں سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، دہشت گردوں کا حملہ ناکام
    • پشاور میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، اہم کمانڈر سمیت 5 دہشت گرد ہلاک
    • توڑ پھوڑ کيس، پی ٹی آئی کے 8 ایم این ایز اور ایم پی ایز کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری، گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم
    • پاکستان میں ڈیجیٹل لین دین کرنے والوں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز
    • خیبر؛ پولیس کی بڑی کارروائی، ایک ماہ قبل اغوا ہونے والا تاجر غار سے بازیاب
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ترجیحات بدلیں گی یا تاریخ دہرائی جائے گی؟
    بلاگ جولائی 23, 2025

    ترجیحات بدلیں گی یا تاریخ دہرائی جائے گی؟

    Facebook Twitter Email
    A Fragile But Hopeful Trade Pact Between Pakistan and Afghanistan
    Can Preferential Trade Bring Lasting Economic Stability
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان ترجیحی تجارتی معاہدے پر دستخط ہوئے ، ایک ایسی خبر جو خطے میں اقتصادی بہتری کے متلاشی افراد کے لیے امید کی کرن ہے۔ اگرچہ یہ ایک تکنیکی اور وقتی معاہدہ دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے پس منظر، مقاصد، اور ممکنہ اثرات کو اگر بغور دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ صرف اشیاء کا تبادلہ نہیں، بلکہ اعتماد، استحکام اور باہمی مفادات کا ایک نیا باب ہے۔

    افغانستان کی عبوری حکومت کے نائب وزیر صنعت و تجارت، مولوی احمد اللہ زاہد اور پاکستان کے نائب وزیر تجارت جاوید پال نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ 1 اگست 2025 سے نافذ ہوگا اور ایک سال کے لیے مؤثر رہے گا، تاہم اسے مستقبل میں توسیع دی جا سکتی ہے۔

    معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان آٹھ اہم زرعی مصنوعات پر ٹیکس کی شرح 60 فیصد سے گھٹا کر 27 فیصد کر دی جائے گی۔ افغانستان سے پاکستان کو انگور، انار، سیب اور ٹماٹر فراہم کیے جائیں گے جبکہ پاکستان سے افغانستان کو آم، کیلے، مالٹے اور آلو برآمد کیے جائیں گے۔

    یہ معاہدہ ایک جانب تو بلاشبہ دو طرفہ تجارتی تعلقات کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے  لیکن اس کا دوسرا پہلو بھی نہایت اہم ہے دونوں ممالک کی موجودہ سیاسی و اقتصادی صورتحال۔ افغانستان کی عبوری حکومت کو بین الاقوامی سطح پر اب بھی مکمل پذیرائی حاصل نہیں، اور پاکستان کو اندرونی معاشی بحرانوں کا سامنا ہے۔ ایسے میں یہ معاہدہ ایک عملی مجبوری  بھی ہو سکتی ہے، تاکہ معاشی پہیے کو چلایا جا سکے۔

    لیکن اس مجبوری کے باوجود، اس معاہدے میں امکانات کی ایک دنیا پوشیدہ ہے۔ دونوں ممالک زرعی پیداوار میں طاقت رکھتے ہیں، لیکن مارکیٹ رسائی اور لاجسٹک مسائل نے ان کی صلاحیتوں کو محدود کر رکھا ہے۔ اگر یہ معاہدہ کامیابی سے لاگو ہوتا ہے، تو کسانوں، چھوٹے تاجروں اور خریداروں  سب کے لیے یہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

    کسی بھی تجارتی معاہدے کی کامیابی کا انحصار صرف معاشی اعداد و شمار پر نہیں بلکہ سیاسی ہم آہنگی، سرحدی صورت حال، اور انتظامی تعاون پر ہوتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ماضی میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ بارڈر بندش، سیکیورٹی خدشات اور باہمی بداعتمادی اکثر تجارت کی راہ میں رکاوٹ بنی ہیں۔

    ایک عام پاکستانی یا افغان شہری کے لیے یہ معاہدہ صرف دو ممالک کے بیچ کی سفارتی بات نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی سے جڑی ہوئی حقیقت ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں اگر عوام کو معیاری پھل اور سبزیاں مناسب قیمتوں پر دستیاب ہوں، تو یہ معاہدہ براہ راست ان کی زندگیوں کو بہتر بنا سکتا ہے۔

    اسی طرح  دونوں ممالک کے کسان اور کاشتکار جو برسوں سے منڈیوں تک رسائی کے مسائل کا شکار ہیں، اب اپنی پیداوار کو برآمد کر کے بہتر آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر ان علاقوں کے لیے، جو سرحدی تجارت پر انحصار کرتے ہیں، یہ معاہدہ ترقی کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔

    اگرچہ اس معاہدے کو ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، مگر اس کی کامیابی کا دار و مدار اس پر ہے کہ دونوں ممالک اسے کس سنجیدگی سے نافذ کرتے ہیں۔ صرف محصولات میں کمی کر دینا کافی نہیں، اصل چیلنج لاجسٹک سہولیات، سرحدی شفافیت، اور سیاسی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleزیر التوا اپیل کی بنیاد پر عدالتی فیصلہ پر عملدرآمد روکنا توہین کے مترادف ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ
    Next Article خیبرپختونخوا کی اپوزیشن جماعتوں کا حکومتی کُل جماعتی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    برمنگھم ٹیسٹ: رضا اللہ نے ڈیبیو پر تیز ترین پاکستانی نصف سنچری کا ریکارڈ بنا دیا

    ستمبر 12, 2026

    پشاور کے 45 نجی اسکولوں میں افغان بچوں کے داخلوں کی نشاندہی، کارروائی کی تیاری

    ستمبر 12, 2026

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے انتخاب کے خلاف درخواست 14 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر

    ستمبر 12, 2026

    تمپ میں سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، دہشت گردوں کا حملہ ناکام

    ستمبر 11, 2026

    پشاور میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، اہم کمانڈر سمیت 5 دہشت گرد ہلاک

    ستمبر 10, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.