Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اکتوبر 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • کرک میں سی ٹی ڈی کے سرچ آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک، مقابلے کے دوران ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید
    • خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف
    • پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط
    • واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد
    • خیبرپختونخوا میں گونر کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض
    • بلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل سٹیل ملز فعال، یومیہ 500 ٹن سریا تیار کرنے کی صلاحیت
    • پاکستان کا پہلا خلاباز چین سے خلائی سفر کے لیے تیار
    • فارما ایشیا 2026ء کراچی: دوسرے روز بھی ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کی بھرپور شرکت
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • خاص خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ترجیحات بدلیں گی یا تاریخ دہرائی جائے گی؟
    بلاگ جولائی 23, 2025

    ترجیحات بدلیں گی یا تاریخ دہرائی جائے گی؟

    Facebook Twitter Email
    A Fragile But Hopeful Trade Pact Between Pakistan and Afghanistan
    Can Preferential Trade Bring Lasting Economic Stability
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان ترجیحی تجارتی معاہدے پر دستخط ہوئے ، ایک ایسی خبر جو خطے میں اقتصادی بہتری کے متلاشی افراد کے لیے امید کی کرن ہے۔ اگرچہ یہ ایک تکنیکی اور وقتی معاہدہ دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے پس منظر، مقاصد، اور ممکنہ اثرات کو اگر بغور دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ صرف اشیاء کا تبادلہ نہیں، بلکہ اعتماد، استحکام اور باہمی مفادات کا ایک نیا باب ہے۔

    افغانستان کی عبوری حکومت کے نائب وزیر صنعت و تجارت، مولوی احمد اللہ زاہد اور پاکستان کے نائب وزیر تجارت جاوید پال نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ 1 اگست 2025 سے نافذ ہوگا اور ایک سال کے لیے مؤثر رہے گا، تاہم اسے مستقبل میں توسیع دی جا سکتی ہے۔

    معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان آٹھ اہم زرعی مصنوعات پر ٹیکس کی شرح 60 فیصد سے گھٹا کر 27 فیصد کر دی جائے گی۔ افغانستان سے پاکستان کو انگور، انار، سیب اور ٹماٹر فراہم کیے جائیں گے جبکہ پاکستان سے افغانستان کو آم، کیلے، مالٹے اور آلو برآمد کیے جائیں گے۔

    یہ معاہدہ ایک جانب تو بلاشبہ دو طرفہ تجارتی تعلقات کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے  لیکن اس کا دوسرا پہلو بھی نہایت اہم ہے دونوں ممالک کی موجودہ سیاسی و اقتصادی صورتحال۔ افغانستان کی عبوری حکومت کو بین الاقوامی سطح پر اب بھی مکمل پذیرائی حاصل نہیں، اور پاکستان کو اندرونی معاشی بحرانوں کا سامنا ہے۔ ایسے میں یہ معاہدہ ایک عملی مجبوری  بھی ہو سکتی ہے، تاکہ معاشی پہیے کو چلایا جا سکے۔

    لیکن اس مجبوری کے باوجود، اس معاہدے میں امکانات کی ایک دنیا پوشیدہ ہے۔ دونوں ممالک زرعی پیداوار میں طاقت رکھتے ہیں، لیکن مارکیٹ رسائی اور لاجسٹک مسائل نے ان کی صلاحیتوں کو محدود کر رکھا ہے۔ اگر یہ معاہدہ کامیابی سے لاگو ہوتا ہے، تو کسانوں، چھوٹے تاجروں اور خریداروں  سب کے لیے یہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

    کسی بھی تجارتی معاہدے کی کامیابی کا انحصار صرف معاشی اعداد و شمار پر نہیں بلکہ سیاسی ہم آہنگی، سرحدی صورت حال، اور انتظامی تعاون پر ہوتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ماضی میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ بارڈر بندش، سیکیورٹی خدشات اور باہمی بداعتمادی اکثر تجارت کی راہ میں رکاوٹ بنی ہیں۔

    ایک عام پاکستانی یا افغان شہری کے لیے یہ معاہدہ صرف دو ممالک کے بیچ کی سفارتی بات نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی سے جڑی ہوئی حقیقت ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں اگر عوام کو معیاری پھل اور سبزیاں مناسب قیمتوں پر دستیاب ہوں، تو یہ معاہدہ براہ راست ان کی زندگیوں کو بہتر بنا سکتا ہے۔

    اسی طرح  دونوں ممالک کے کسان اور کاشتکار جو برسوں سے منڈیوں تک رسائی کے مسائل کا شکار ہیں، اب اپنی پیداوار کو برآمد کر کے بہتر آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر ان علاقوں کے لیے، جو سرحدی تجارت پر انحصار کرتے ہیں، یہ معاہدہ ترقی کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔

    اگرچہ اس معاہدے کو ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، مگر اس کی کامیابی کا دار و مدار اس پر ہے کہ دونوں ممالک اسے کس سنجیدگی سے نافذ کرتے ہیں۔ صرف محصولات میں کمی کر دینا کافی نہیں، اصل چیلنج لاجسٹک سہولیات، سرحدی شفافیت، اور سیاسی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleزیر التوا اپیل کی بنیاد پر عدالتی فیصلہ پر عملدرآمد روکنا توہین کے مترادف ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ
    Next Article خیبرپختونخوا کی اپوزیشن جماعتوں کا حکومتی کُل جماعتی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    خیبرپختونخوا میں سیاسی و آئینی کشمکش: گورنر راج اور ایمرجنسی میں فرق اور صدر مملکت کے اختیارات!

    اکتوبر 5, 2026

    جب عوامی آوازیں دبتی ہیں، تو ریاستیں لرزتی ہیں. تحریر: قریش خٹک

    ستمبر 22, 2026

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    کرک میں سی ٹی ڈی کے سرچ آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک، مقابلے کے دوران ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید

    اکتوبر 22, 2026

    خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف

    اکتوبر 22, 2026

    پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    اکتوبر 22, 2026

    واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد

    اکتوبر 22, 2026

    خیبرپختونخوا میں گونر کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض

    اکتوبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.