دنیا ایک بار پھر ایک خطرناک موڑ سے گزری، جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی باقاعدہ جنگ میں تبدیل ہو گئی۔ خطۂ مشرقِ وسطیٰ، جو پہلے ہی سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا شکار تھا، اس جنگ کے باعث مزید دباؤ میں آ گیا۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان نے ایک اہم سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے نہ صرف کشیدگی کو کم کرنے میں مدد دی بلکہ عالمی سطح پر اپنی اہمیت بھی منوائی۔
پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کے نتیجے میں بالآخر ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی عمل میں آئی۔ اس پیش رفت نے دنیا بھر میں اطمینان کی لہر دوڑا دی، خاص طور پر وہ ممالک جو تیل کی بڑھتی قیمتوں اور عالمی تجارت میں رکاوٹوں کے باعث شدید معاشی دباؤ کا شکار تھے۔
جنگ بندی کے اعلان کے فوراً بعد عالمی مارکیٹ میں مثبت ردعمل دیکھنے میں آیا۔ خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً پندرہ فیصد کمی واقع ہوئی اور برینٹ کروڈ کی قیمت کم ہو کر تقریباً 94 ڈالر فی بیرل تک آ گئی۔ یہ کمی اس بات کا واضح اشارہ تھی کہ عالمی معیشت کو اس تنازع کے خاتمے سے فوری فائدہ پہنچا۔
دوسری جانب جنگ کے نقصانات نہایت سنگین رہے۔ اندازوں کے مطابق صرف 38 دنوں میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے اندر تقریباً 11 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا۔ ان میں فوجی تنصیبات کے ساتھ ساتھ تعلیمی ادارے، اسکولز اور طبی مراکز بھی شامل تھے، جس سے انسانی بحران مزید شدت اختیار کر گیا۔
معاشی طور پر ایران کو اس جنگ کے نتیجے میں تقریباً 100 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا، جو عالمی تجارت کی ایک نہایت اہم گزرگاہ ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اس ٹیکس کو عمان کے ساتھ بھی شیئر کرے گا، کیونکہ یہ گزرگاہ دونوں ممالک کے درمیان واقع ہے۔ اگر اس منصوبے پر مکمل عمل درآمد ہوتا ہے تو ایران آئندہ 2 برسوں میں اپنے جنگی نقصانات پورے کرنے کی پوزیشن میں آ سکتا ہے۔
جنگ سے قبل ایران کی معیشت کا حجم تقریباً 4 سو ارب ڈالر تھا، جو اس تنازع کے باعث تقریباً دس فیصد تک سکڑ گیا۔ ایران روزانہ 14 لاکھ بیرل تیل برآمد کرتا ہے، جس سے اسے سالانہ تقریباً 70 ارب ڈالر کی آمدن حاصل ہوتی ہے۔ اگر جنگ بندی ایک مستقل امن معاہدے میں تبدیل ہو جاتی ہے تو ایران نہ صرف اپنی معیشت کو بحال کر سکتا ہے بلکہ تیزی سے ترقی کی راہ پر بھی گامزن ہو سکتا ہے۔
یہ تمام صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جدید دور میں جنگ کے مقابلے میں سفارتکاری کہیں زیادہ مؤثر اور طاقتور ہتھیار بن چکی ہے۔ پاکستان کی یہ کامیاب سفارتی کوشش نہ صرف خطے میں امن کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کے مثبت تشخص کو بھی مضبوط کرتی ہے۔
اگر یہ جنگ بندی دیرپا امن میں تبدیل ہو جاتی ہے تو یہ اکیسویں صدی کی ایک نمایاں سفارتی کامیابی کے طور پر یاد رکھی جائے گی، جس میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا۔

