Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اکتوبر 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف
    • پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط
    • واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد
    • خیبرپختونخوا میں گونر کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض
    • بلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل سٹیل ملز فعال، یومیہ 500 ٹن سریا تیار کرنے کی صلاحیت
    • پاکستان کا پہلا خلاباز چین سے خلائی سفر کے لیے تیار
    • فارما ایشیا 2026ء کراچی: دوسرے روز بھی ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کی بھرپور شرکت
    • چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی جانب سے تمام محکموں کو خریداری کے عمل کا جائزہ لینے اور اصلاحات کی ہدایت
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • خاص خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » اکیسویں صدی کی بڑی سفارتکاری۔اعجاز یوسفزئی
    خاص خبریں اپریل 8, 2026

    اکیسویں صدی کی بڑی سفارتکاری۔اعجاز یوسفزئی

    Facebook Twitter Email
    Ceasefire between Iran and US
    اکیسویں صدی کی بڑی سفارتکاری، پاکستان عالمی توجو کا مرکز
    Share
    Facebook Twitter Email

    دنیا ایک بار پھر ایک خطرناک موڑ سے گزری، جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی باقاعدہ جنگ میں تبدیل ہو گئی۔ خطۂ مشرقِ وسطیٰ، جو پہلے ہی سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا شکار تھا، اس جنگ کے باعث مزید دباؤ میں آ گیا۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان نے ایک اہم سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے نہ صرف کشیدگی کو کم کرنے میں مدد دی بلکہ عالمی سطح پر اپنی اہمیت بھی منوائی۔

    پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کے نتیجے میں بالآخر ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی عمل میں آئی۔ اس پیش رفت نے دنیا بھر میں اطمینان کی لہر دوڑا دی، خاص طور پر وہ ممالک جو تیل کی بڑھتی قیمتوں اور عالمی تجارت میں رکاوٹوں کے باعث شدید معاشی دباؤ کا شکار تھے۔

    جنگ بندی کے اعلان کے فوراً بعد عالمی مارکیٹ میں مثبت ردعمل دیکھنے میں آیا۔ خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً پندرہ فیصد کمی واقع ہوئی اور برینٹ کروڈ کی قیمت کم ہو کر تقریباً 94 ڈالر فی بیرل تک آ گئی۔ یہ کمی اس بات کا واضح اشارہ تھی کہ عالمی معیشت کو اس تنازع کے خاتمے سے فوری فائدہ پہنچا۔

    دوسری جانب جنگ کے نقصانات نہایت سنگین رہے۔ اندازوں کے مطابق صرف 38 دنوں میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے اندر تقریباً 11 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا۔ ان میں فوجی تنصیبات کے ساتھ ساتھ تعلیمی ادارے، اسکولز اور طبی مراکز بھی شامل تھے، جس سے انسانی بحران مزید شدت اختیار کر گیا۔

    معاشی طور پر ایران کو اس جنگ کے نتیجے میں تقریباً 100 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا، جو عالمی تجارت کی ایک نہایت اہم گزرگاہ ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اس ٹیکس کو عمان کے ساتھ بھی شیئر کرے گا، کیونکہ یہ گزرگاہ دونوں ممالک کے درمیان واقع ہے۔ اگر اس منصوبے پر مکمل عمل درآمد ہوتا ہے تو ایران آئندہ 2 برسوں میں اپنے جنگی نقصانات پورے کرنے کی پوزیشن میں آ سکتا ہے۔

    جنگ سے قبل ایران کی معیشت کا حجم تقریباً 4 سو ارب ڈالر تھا، جو اس تنازع کے باعث تقریباً دس فیصد تک سکڑ گیا۔ ایران روزانہ 14 لاکھ بیرل تیل برآمد کرتا ہے، جس سے اسے سالانہ تقریباً 70 ارب ڈالر کی آمدن حاصل ہوتی ہے۔ اگر جنگ بندی ایک مستقل امن معاہدے میں تبدیل ہو جاتی ہے تو ایران نہ صرف اپنی معیشت کو بحال کر سکتا ہے بلکہ تیزی سے ترقی کی راہ پر بھی گامزن ہو سکتا ہے۔

    یہ تمام صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جدید دور میں جنگ کے مقابلے میں سفارتکاری کہیں زیادہ مؤثر اور طاقتور ہتھیار بن چکی ہے۔ پاکستان کی یہ کامیاب سفارتی کوشش نہ صرف خطے میں امن کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کے مثبت تشخص کو بھی مضبوط کرتی ہے۔

    اگر یہ جنگ بندی دیرپا امن میں تبدیل ہو جاتی ہے تو یہ اکیسویں صدی کی ایک نمایاں سفارتی کامیابی کے طور پر یاد رکھی جائے گی، جس میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleوزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے وفود کو مذاکرات کیلئے اسلام آباد مدعو کرلیا
    Next Article پاکستان اور یورپی یونین کا رابطہ، امن کے لیے سفارتی کوششوں پر اتفاق
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف

    اکتوبر 22, 2026

    پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    اکتوبر 22, 2026

    واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد

    اکتوبر 22, 2026

    Comments are closed.

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف

    اکتوبر 22, 2026

    پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    اکتوبر 22, 2026

    واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد

    اکتوبر 22, 2026

    خیبرپختونخوا میں گونر کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض

    اکتوبر 22, 2026

    بلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل سٹیل ملز فعال، یومیہ 500 ٹن سریا تیار کرنے کی صلاحیت

    اکتوبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.