اسلام آباد:سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی۔
صحافی نے سوال کیا کہ رانا ثناء اللہ صاحب کہہ رہے ہیں کہ اگر تمام جج صاحبان کی عمر بڑھا دی جائے تو آپ بھی ایکسٹینشن لینے پر متفق ہیں؟ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ رانا ثنااللہ صاحب کو میرے سامنے لے آئیں۔اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ رانا ثناء اللہ صاحب کو میرے سامنے لے آئیں ۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، جسٹس منصور علی شاہ صاحب اور اٹارنی جنرل موجود تھے، اس میٹنگ میں رانا ثناء اللہ موجود نہیں تھے، بتایا گیا تمام چیف جسٹسز کی مدت ملازمت میں توسیع کر رہے ہیں، میں نے کہا کہ باقیوں کی کر دیں میں صرف اپنے لئے قبول نہیں کروں گا، مجھے تو یہ نہیں پتہ کہ کل میں زندہ رہوں گا بھی یا نہیں۔
چھ ججز کے خط کا معاملہ سماعت کے لئے مقرر نہ ہونے سے متعلق سوال پر چیف جسٹس نے کہا کہ چھ ججز کے خط کا معاملہ کمیٹی نے مقرر کرنا ہے، جسٹس مسرت ہلالی طبعیت کی ناسازی کے باعث نہیں آرہی تھیں اس وجہ سے بنچ نہیں بن پا رہا تھا۔
نئے عدالتی سال کے اہداف سے متعلق سوال کے جواب میں چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کیس منیجمنٹ سسٹم میں بہتری لائیں گے، کرنے کیلئے بہت کچھ ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اس بات کی وضاحت کر چکے ہیں کہ چیف جسٹس اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتے۔
بدھ, فروری 4, 2026
بریکنگ نیوز
- پاکستان اور قازقستان کے درمیان پیٹرولیم، ریلوے اور مصنوعی ذہانت سمیت کئی شعبوں میں تعاون پر اتفاق، متعدد ایم او یوز پر دستخط
- اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت
- وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کا ضلع کرم کا دورہ، متاثرین کے لیے امدادی پیکیج میں نمایاں اضافہ
- لکی مروت:دہشت گردوں کا گھر پر حملہ، کانسٹیبل دستگیر اہلِ خانہ کے سامنے شہید
- میرٹ پر روزگار کی فراہمی میرا قومی فرض تھا، عدالت نے مجھے باعزت بری کیا: انور سیف اللہ خان
- غلام احمد بلور کی سیاست سے کنارہ کشی: پشاور میں اے این پی کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا؟
- یاسمین جعفری مرحومہ میری آئیڈیل تھیں: خالدہ یاسمین
- انڈر 19 ورلڈ کے پہلے سیمی فائنل میں آسٹریلیا کو شکست، انگلینڈ نے فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا

