اسلام آباد:سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی۔
صحافی نے سوال کیا کہ رانا ثناء اللہ صاحب کہہ رہے ہیں کہ اگر تمام جج صاحبان کی عمر بڑھا دی جائے تو آپ بھی ایکسٹینشن لینے پر متفق ہیں؟ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ رانا ثنااللہ صاحب کو میرے سامنے لے آئیں۔اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ رانا ثناء اللہ صاحب کو میرے سامنے لے آئیں ۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، جسٹس منصور علی شاہ صاحب اور اٹارنی جنرل موجود تھے، اس میٹنگ میں رانا ثناء اللہ موجود نہیں تھے، بتایا گیا تمام چیف جسٹسز کی مدت ملازمت میں توسیع کر رہے ہیں، میں نے کہا کہ باقیوں کی کر دیں میں صرف اپنے لئے قبول نہیں کروں گا، مجھے تو یہ نہیں پتہ کہ کل میں زندہ رہوں گا بھی یا نہیں۔
چھ ججز کے خط کا معاملہ سماعت کے لئے مقرر نہ ہونے سے متعلق سوال پر چیف جسٹس نے کہا کہ چھ ججز کے خط کا معاملہ کمیٹی نے مقرر کرنا ہے، جسٹس مسرت ہلالی طبعیت کی ناسازی کے باعث نہیں آرہی تھیں اس وجہ سے بنچ نہیں بن پا رہا تھا۔
نئے عدالتی سال کے اہداف سے متعلق سوال کے جواب میں چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کیس منیجمنٹ سسٹم میں بہتری لائیں گے، کرنے کیلئے بہت کچھ ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اس بات کی وضاحت کر چکے ہیں کہ چیف جسٹس اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتے۔
منگل, جون 2, 2026
بریکنگ نیوز
- دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف ديدیا
- بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 17 دہشت گرد ہلاک
- نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ کا رابطہ، خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال
- بھارت کی ریاستی دہشت گردی، منی پور میں متعدد مکانات نذر آتش، حکومت کی جانب سے عوامی حقوق کی پامالی
- وزیرداخلہ محسن نقوی اور گورنر فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال
- وزیراعظم شہبازشریف اور یورپی یونین کی نمائندہ کایا کالاس کی ملاقات، یورپی یونین کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری بڑھانے کے عزم کا اعادہ
- سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے لیے شعبہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں، وزیراعظم شہباز شریف
- ایران امریکہ جنگ بندی میں پاکستان کے ثالثی کردار کی دنیا معترف، یورپی یونین کی جانب سے بھرپور انداز میں سراہا گیا

