اسلام آباد:سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی۔
صحافی نے سوال کیا کہ رانا ثناء اللہ صاحب کہہ رہے ہیں کہ اگر تمام جج صاحبان کی عمر بڑھا دی جائے تو آپ بھی ایکسٹینشن لینے پر متفق ہیں؟ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ رانا ثنااللہ صاحب کو میرے سامنے لے آئیں۔اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ رانا ثناء اللہ صاحب کو میرے سامنے لے آئیں ۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، جسٹس منصور علی شاہ صاحب اور اٹارنی جنرل موجود تھے، اس میٹنگ میں رانا ثناء اللہ موجود نہیں تھے، بتایا گیا تمام چیف جسٹسز کی مدت ملازمت میں توسیع کر رہے ہیں، میں نے کہا کہ باقیوں کی کر دیں میں صرف اپنے لئے قبول نہیں کروں گا، مجھے تو یہ نہیں پتہ کہ کل میں زندہ رہوں گا بھی یا نہیں۔
چھ ججز کے خط کا معاملہ سماعت کے لئے مقرر نہ ہونے سے متعلق سوال پر چیف جسٹس نے کہا کہ چھ ججز کے خط کا معاملہ کمیٹی نے مقرر کرنا ہے، جسٹس مسرت ہلالی طبعیت کی ناسازی کے باعث نہیں آرہی تھیں اس وجہ سے بنچ نہیں بن پا رہا تھا۔
نئے عدالتی سال کے اہداف سے متعلق سوال کے جواب میں چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کیس منیجمنٹ سسٹم میں بہتری لائیں گے، کرنے کیلئے بہت کچھ ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اس بات کی وضاحت کر چکے ہیں کہ چیف جسٹس اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتے۔
منگل, جون 23, 2026
بریکنگ نیوز
- ایرانی صدرمسعود پزشکیان ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے
- 2018 کے الیکشن نتائج پر بننے والی تحریک انصاف کی حکومت جائز تھی تو ہماری حکومت بھی جائز ہے، وزیر اعظم شہبازشریف
- پاکستانی کیپٹل مارکیٹ پر کمپنیوں کا اعتماد مزید مستحکم، ایک اور آئی پی او منظور
- فٹبال کا عالمی کپ: ناروے، ارجنٹینا اور فرانس کی شاندار فتوحات
- قومی اسمبلی نے فنانس بل 2026 کثرتِ رائے سے منظور کرلیا
- ایبٹ آباد: ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال سے 17 روزہ نومولود اغوا، پولیس اور انتظامیہ متحرک
- مظفرآباد میں پاکستان زندہ باد ریلی کا انعقاد، کشمیری عوام نے کالعدم ایکشن کمیٹی کا بیانیہ مسترد کر دیا
- ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا دورہ پاکستان، سیکیورٹی کے سخت انتظامات

