اسلام آباد:سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی۔
صحافی نے سوال کیا کہ رانا ثناء اللہ صاحب کہہ رہے ہیں کہ اگر تمام جج صاحبان کی عمر بڑھا دی جائے تو آپ بھی ایکسٹینشن لینے پر متفق ہیں؟ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ رانا ثنااللہ صاحب کو میرے سامنے لے آئیں۔اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ رانا ثناء اللہ صاحب کو میرے سامنے لے آئیں ۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، جسٹس منصور علی شاہ صاحب اور اٹارنی جنرل موجود تھے، اس میٹنگ میں رانا ثناء اللہ موجود نہیں تھے، بتایا گیا تمام چیف جسٹسز کی مدت ملازمت میں توسیع کر رہے ہیں، میں نے کہا کہ باقیوں کی کر دیں میں صرف اپنے لئے قبول نہیں کروں گا، مجھے تو یہ نہیں پتہ کہ کل میں زندہ رہوں گا بھی یا نہیں۔
چھ ججز کے خط کا معاملہ سماعت کے لئے مقرر نہ ہونے سے متعلق سوال پر چیف جسٹس نے کہا کہ چھ ججز کے خط کا معاملہ کمیٹی نے مقرر کرنا ہے، جسٹس مسرت ہلالی طبعیت کی ناسازی کے باعث نہیں آرہی تھیں اس وجہ سے بنچ نہیں بن پا رہا تھا۔
نئے عدالتی سال کے اہداف سے متعلق سوال کے جواب میں چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کیس منیجمنٹ سسٹم میں بہتری لائیں گے، کرنے کیلئے بہت کچھ ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اس بات کی وضاحت کر چکے ہیں کہ چیف جسٹس اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتے۔
جمعرات, جولائی 9, 2026
بریکنگ نیوز
- متنازعہ قانون سازی کا معاملہ، وزیراعلیٰ کی سپیکر کو تمام پارلیمانی لیڈرز کا اجلاس بلانے کی ہدایت
- شارجہ سے کراچی آنے والے نجی کمپنی کے لاپتہ کارگو طیارے کا ملبہ مل گیا، عملے کی تلاش کیلئے ریسکیو آپریشن جاری
- سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو ریاست کی پوری طاقت سے کچل دیا جائے گا، فيلڈ مارشل
- وزیراعظم کی زیرِ صدارت گلگت بلتستان کے لیے 100 میگاواٹ شمسی توانائی منصوبے پر جائزہ اجلاس
- بلوچستان میں 4روز کے دوران جوابی کارروائیاں ،54 دہشتگرد ہلاک، 42 سیکیورٹی اہلکار شہید، ترجمان پاک فوج
- بلوچستان میں فورسز کا آپریشن؛ فتنۃ الہندوستان کے 19 دہشتگرد جہنم واصل
- وفاقی کابینہ نے حج پالیسی اور پلان برائے 30-2027 کی منظوری دے دی
- وفاقی کابینہ نے پاسکو کو ختم کرنے کی منظوری دیدی

