اسلام آباد:سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی۔
صحافی نے سوال کیا کہ رانا ثناء اللہ صاحب کہہ رہے ہیں کہ اگر تمام جج صاحبان کی عمر بڑھا دی جائے تو آپ بھی ایکسٹینشن لینے پر متفق ہیں؟ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ رانا ثنااللہ صاحب کو میرے سامنے لے آئیں۔اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ رانا ثناء اللہ صاحب کو میرے سامنے لے آئیں ۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، جسٹس منصور علی شاہ صاحب اور اٹارنی جنرل موجود تھے، اس میٹنگ میں رانا ثناء اللہ موجود نہیں تھے، بتایا گیا تمام چیف جسٹسز کی مدت ملازمت میں توسیع کر رہے ہیں، میں نے کہا کہ باقیوں کی کر دیں میں صرف اپنے لئے قبول نہیں کروں گا، مجھے تو یہ نہیں پتہ کہ کل میں زندہ رہوں گا بھی یا نہیں۔
چھ ججز کے خط کا معاملہ سماعت کے لئے مقرر نہ ہونے سے متعلق سوال پر چیف جسٹس نے کہا کہ چھ ججز کے خط کا معاملہ کمیٹی نے مقرر کرنا ہے، جسٹس مسرت ہلالی طبعیت کی ناسازی کے باعث نہیں آرہی تھیں اس وجہ سے بنچ نہیں بن پا رہا تھا۔
نئے عدالتی سال کے اہداف سے متعلق سوال کے جواب میں چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کیس منیجمنٹ سسٹم میں بہتری لائیں گے، کرنے کیلئے بہت کچھ ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اس بات کی وضاحت کر چکے ہیں کہ چیف جسٹس اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتے۔
پیر, فروری 16, 2026
بریکنگ نیوز
- آزاد کشمیر میں بڑی تبدیلی،کیپٹن (ر) لیاقت علی نئے آئی جی تعینات، نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔
- ضلع ٹانک گومل میں ایف سی ساؤتھ کی پوسٹوں پر مبینہ کواڈکاپٹر حملہ، دو جوان شہید
- پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، انڈیکس 4936 پوائنٹس گر گئی
- حکومت نے پیٹروليم مصنوعات کے نرخ میں بڑا اضافہ کردیا، نوٹیفکیشن جاری
- پی ٹی آئی احتجاج کے سبب وفاقی وزیر امیر مقام صوابی موٹروے پر 8گھنٹے سے زائد پھنسے رہے، بطور احتجاج راستوں کی بندش پر شدید تنقید
- ضلع باجوڑ کی تحصیل سالارزئی میں مارٹر گولہ پھٹنے سے ایک بچہ جاں بحق، متعدد زخمی
- موٹروے پولیس کی ایمانداری کی مثال، 53 لاکھ روپے بحفاظت مالک کے حوالے
- رہنما پی ٹی آئی مراد سعید نے سینیٹ رکنیت سے استعفیٰ دیدیا

