اسلام آباد:سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی۔
صحافی نے سوال کیا کہ رانا ثناء اللہ صاحب کہہ رہے ہیں کہ اگر تمام جج صاحبان کی عمر بڑھا دی جائے تو آپ بھی ایکسٹینشن لینے پر متفق ہیں؟ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ رانا ثنااللہ صاحب کو میرے سامنے لے آئیں۔اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ رانا ثناء اللہ صاحب کو میرے سامنے لے آئیں ۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، جسٹس منصور علی شاہ صاحب اور اٹارنی جنرل موجود تھے، اس میٹنگ میں رانا ثناء اللہ موجود نہیں تھے، بتایا گیا تمام چیف جسٹسز کی مدت ملازمت میں توسیع کر رہے ہیں، میں نے کہا کہ باقیوں کی کر دیں میں صرف اپنے لئے قبول نہیں کروں گا، مجھے تو یہ نہیں پتہ کہ کل میں زندہ رہوں گا بھی یا نہیں۔
چھ ججز کے خط کا معاملہ سماعت کے لئے مقرر نہ ہونے سے متعلق سوال پر چیف جسٹس نے کہا کہ چھ ججز کے خط کا معاملہ کمیٹی نے مقرر کرنا ہے، جسٹس مسرت ہلالی طبعیت کی ناسازی کے باعث نہیں آرہی تھیں اس وجہ سے بنچ نہیں بن پا رہا تھا۔
نئے عدالتی سال کے اہداف سے متعلق سوال کے جواب میں چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کیس منیجمنٹ سسٹم میں بہتری لائیں گے، کرنے کیلئے بہت کچھ ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اس بات کی وضاحت کر چکے ہیں کہ چیف جسٹس اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتے۔
منگل, اگست 11, 2026
بریکنگ نیوز
- کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا کو نشان امتیاز (ملٹری) سے نواز دیا گیا
- پنجگور میں خفیہ اطلاع پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 5 دہشت گرد ہلاک
- بلوچستان کے مسائل کا حل علیحدگی پسندی یا تشدد نہیں، سینیٹر انوارالحق کاکڑ
- پشاور ہائیکورٹ کا افغان صحافیوں کو ملک بدر نہ کرنے کا حکم، وفاقی حکومت کو 60 دن میں فیصلہ کرنے کی ہدایت
- راولپنڈی: مال روڈ پر فائرنگ کرنے والا ملزم سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ہلاک
- بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہوئی تو جمعرات کو پورا پاکستان ڈی چوک بنادیں گے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
- اسلام آباد ہائیکورٹ نے ججز تعیناتی کی سمری منظور نہ ہونے پر صدر مملکت اور وزیراعظم کو نوٹس جاری کردیا
- حرمین شریفین کا تحفظ پاکستان کے عوام اور مسلح افواج کیلئے اہم فریضہ ہے، وزیراعظم شہبازشریف

