اسلام آباد:سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی۔
صحافی نے سوال کیا کہ رانا ثناء اللہ صاحب کہہ رہے ہیں کہ اگر تمام جج صاحبان کی عمر بڑھا دی جائے تو آپ بھی ایکسٹینشن لینے پر متفق ہیں؟ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ رانا ثنااللہ صاحب کو میرے سامنے لے آئیں۔اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ رانا ثناء اللہ صاحب کو میرے سامنے لے آئیں ۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، جسٹس منصور علی شاہ صاحب اور اٹارنی جنرل موجود تھے، اس میٹنگ میں رانا ثناء اللہ موجود نہیں تھے، بتایا گیا تمام چیف جسٹسز کی مدت ملازمت میں توسیع کر رہے ہیں، میں نے کہا کہ باقیوں کی کر دیں میں صرف اپنے لئے قبول نہیں کروں گا، مجھے تو یہ نہیں پتہ کہ کل میں زندہ رہوں گا بھی یا نہیں۔
چھ ججز کے خط کا معاملہ سماعت کے لئے مقرر نہ ہونے سے متعلق سوال پر چیف جسٹس نے کہا کہ چھ ججز کے خط کا معاملہ کمیٹی نے مقرر کرنا ہے، جسٹس مسرت ہلالی طبعیت کی ناسازی کے باعث نہیں آرہی تھیں اس وجہ سے بنچ نہیں بن پا رہا تھا۔
نئے عدالتی سال کے اہداف سے متعلق سوال کے جواب میں چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کیس منیجمنٹ سسٹم میں بہتری لائیں گے، کرنے کیلئے بہت کچھ ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اس بات کی وضاحت کر چکے ہیں کہ چیف جسٹس اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتے۔
منگل, مارچ 17, 2026
بریکنگ نیوز
- وزیراعظم کی قازقستان کے صدر سے ٹیلی فونک گفتگو؛ کامیاب آئینی ریفرنڈم پر مبارکباد
- نائب وزیراعظم اور آذربائیجان کے وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ،خطے کی حالیہ صورتحال پر تبادلہ خیال
- حکومت کا منی لانڈرنگ و ہنڈی مافیا کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا فیصلہ
- وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری اقدامات پر جائزہ اجلاس
- خیبر پختونخوا میں تیز ہواؤں اور بارش کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا
- اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغان طالبان قیادت پر سفری اور مالی پابندیاں عائد کر دیں
- متحدہ عرب امارات پر حملوں میں ایک اور پاکستانی جاں بحق
- افغانستان میں دہلی کی مداخلت اور پاکستان.. تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

