اسلام آباد:سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی۔
صحافی نے سوال کیا کہ رانا ثناء اللہ صاحب کہہ رہے ہیں کہ اگر تمام جج صاحبان کی عمر بڑھا دی جائے تو آپ بھی ایکسٹینشن لینے پر متفق ہیں؟ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ رانا ثنااللہ صاحب کو میرے سامنے لے آئیں۔اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ رانا ثناء اللہ صاحب کو میرے سامنے لے آئیں ۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، جسٹس منصور علی شاہ صاحب اور اٹارنی جنرل موجود تھے، اس میٹنگ میں رانا ثناء اللہ موجود نہیں تھے، بتایا گیا تمام چیف جسٹسز کی مدت ملازمت میں توسیع کر رہے ہیں، میں نے کہا کہ باقیوں کی کر دیں میں صرف اپنے لئے قبول نہیں کروں گا، مجھے تو یہ نہیں پتہ کہ کل میں زندہ رہوں گا بھی یا نہیں۔
چھ ججز کے خط کا معاملہ سماعت کے لئے مقرر نہ ہونے سے متعلق سوال پر چیف جسٹس نے کہا کہ چھ ججز کے خط کا معاملہ کمیٹی نے مقرر کرنا ہے، جسٹس مسرت ہلالی طبعیت کی ناسازی کے باعث نہیں آرہی تھیں اس وجہ سے بنچ نہیں بن پا رہا تھا۔
نئے عدالتی سال کے اہداف سے متعلق سوال کے جواب میں چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کیس منیجمنٹ سسٹم میں بہتری لائیں گے، کرنے کیلئے بہت کچھ ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اس بات کی وضاحت کر چکے ہیں کہ چیف جسٹس اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتے۔
ہفتہ, اکتوبر 17, 2026
بریکنگ نیوز
- پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں شاندار پاسنگ آؤٹ پریڈ کا انعقاد، کیڈٹس وطن عزیز کے دفاع کے لیے پُرعزم
- بلوچستان کے مختلف اضلاع میں ترقیاتی کام تیزی سے جاری، نصیر آباد میں 74 کروڑ سے زائد لاگت کے 78 منصوبے مکمل
- دالبندین میں فورسز کا کامیاب آپریشن، 2 مطلوب دہشتگرد ہلاک
- گورنر خیبرپختونخوا کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ نے سکول واقعے کے شہداء کے لواحقین میں امدادی چیک تقسیم کر دیے
- پاک چین مشترکہ فوجی مشق قراقرم 2026 سنکیانگ میں جاری
- اپر کرم اور غوز گڑھی میں افغان طالبان کی بلااشتعال فائرنگ، پاک فوج کا بھرپور جواب
- خیبرپختونخوا میں خستہ حال سرکاری سکول، سابقہ حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت
- سی ٹی ڈی اور سکیورٹی فورسزکا لکی مروت میں آپریشن،کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ ہلاک

