اسلام آباد:سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی۔
صحافی نے سوال کیا کہ رانا ثناء اللہ صاحب کہہ رہے ہیں کہ اگر تمام جج صاحبان کی عمر بڑھا دی جائے تو آپ بھی ایکسٹینشن لینے پر متفق ہیں؟ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ رانا ثنااللہ صاحب کو میرے سامنے لے آئیں۔اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ رانا ثناء اللہ صاحب کو میرے سامنے لے آئیں ۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، جسٹس منصور علی شاہ صاحب اور اٹارنی جنرل موجود تھے، اس میٹنگ میں رانا ثناء اللہ موجود نہیں تھے، بتایا گیا تمام چیف جسٹسز کی مدت ملازمت میں توسیع کر رہے ہیں، میں نے کہا کہ باقیوں کی کر دیں میں صرف اپنے لئے قبول نہیں کروں گا، مجھے تو یہ نہیں پتہ کہ کل میں زندہ رہوں گا بھی یا نہیں۔
چھ ججز کے خط کا معاملہ سماعت کے لئے مقرر نہ ہونے سے متعلق سوال پر چیف جسٹس نے کہا کہ چھ ججز کے خط کا معاملہ کمیٹی نے مقرر کرنا ہے، جسٹس مسرت ہلالی طبعیت کی ناسازی کے باعث نہیں آرہی تھیں اس وجہ سے بنچ نہیں بن پا رہا تھا۔
نئے عدالتی سال کے اہداف سے متعلق سوال کے جواب میں چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کیس منیجمنٹ سسٹم میں بہتری لائیں گے، کرنے کیلئے بہت کچھ ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اس بات کی وضاحت کر چکے ہیں کہ چیف جسٹس اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتے۔
جمعہ, جنوری 9, 2026
بریکنگ نیوز
- بھارت نے مئی کی جھڑپوں میں تیسری قوت سے سیزفائر کیلئے درخواست کی تھی، پاکستان
- آسٹریلیا نے ایشیز سیریز 1-4 سے اپنے نام کرلی
- بنوں لنک روڈ پر ہنگو پولیس کی گاڑی پر فائرنگ، تین اہلکار زخمی
- قومی سلامتی پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی جاری رہے گی، فیلڈ مارشل عاصم منیر
- وادی تیراہ میں عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والوں کی گاڑی کو حادثہ، 3 افراد جاں بحق، 2 زخمی
- بجلی صارفین کیلئے خوشخبری، فی یونٹ 93 پیسے سستی، نوٹیفکیشن جاری
- صدر مملکت، وزیر اعظم اور قائد مسلم لیگ ن پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا اعلامیہ
- پاکستان نے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں سری لنکا کو 6 وکٹوں سے ہراکر سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کرلی

