اسلام آباد:سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی۔
صحافی نے سوال کیا کہ رانا ثناء اللہ صاحب کہہ رہے ہیں کہ اگر تمام جج صاحبان کی عمر بڑھا دی جائے تو آپ بھی ایکسٹینشن لینے پر متفق ہیں؟ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ رانا ثنااللہ صاحب کو میرے سامنے لے آئیں۔اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ رانا ثناء اللہ صاحب کو میرے سامنے لے آئیں ۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، جسٹس منصور علی شاہ صاحب اور اٹارنی جنرل موجود تھے، اس میٹنگ میں رانا ثناء اللہ موجود نہیں تھے، بتایا گیا تمام چیف جسٹسز کی مدت ملازمت میں توسیع کر رہے ہیں، میں نے کہا کہ باقیوں کی کر دیں میں صرف اپنے لئے قبول نہیں کروں گا، مجھے تو یہ نہیں پتہ کہ کل میں زندہ رہوں گا بھی یا نہیں۔
چھ ججز کے خط کا معاملہ سماعت کے لئے مقرر نہ ہونے سے متعلق سوال پر چیف جسٹس نے کہا کہ چھ ججز کے خط کا معاملہ کمیٹی نے مقرر کرنا ہے، جسٹس مسرت ہلالی طبعیت کی ناسازی کے باعث نہیں آرہی تھیں اس وجہ سے بنچ نہیں بن پا رہا تھا۔
نئے عدالتی سال کے اہداف سے متعلق سوال کے جواب میں چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کیس منیجمنٹ سسٹم میں بہتری لائیں گے، کرنے کیلئے بہت کچھ ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اس بات کی وضاحت کر چکے ہیں کہ چیف جسٹس اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتے۔
جمعہ, جولائی 3, 2026
بریکنگ نیوز
- مہمند میں دوران گشت پولیس موبائل پر فائرنگ،ایڈیشنل ایس ایچ او سمیت 2 اہلکار شہید، ڈرائیور زخمی
- خیبر پختونخوا میں بارشوں اور سیلابی پانی کی تباہ کاریاں، 7 افراد جاں بحق، 19 زخمی
- پی ٹی آئی کا کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی حمایت کا اعلان، آزاد کشمیر انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ
- بنوں: گورنمنٹ گرلز سکول میں بارودی مواد کا دھماکا، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا
- خیبر پختونخوا: سرکاری دفاتر کی ریفریشمنٹ کے لیے 37 کروڑ روپے مختص، بجٹ پر سوالات اٹھ گئے
- خیبر پختونخوا سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلےکے جھٹکے، شدت 5.3 ریکارڈ
- پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردی کےخلاف کارروائیوں سے متعلق بھارت کا بےبنیاد بیان مسترد کردیا
- خیبرپختونخوا:آسمانی بجلی گرنے کے مختلف واقعات، 2 بچے جاں بحق، مدرسے کی چھت گرنے سے 20 سے زائد طالبات زخمی

