چین، پاکستان اور افغانستان کے نمائندوں نے یکم سے 7 اپریل تک سنکیانگ کے شہر ارومچی میں ایک ہفتہ طویل غیر رسمی مذاکرات کیے، تینوں ممالک کے وفود میں خارجہ امور، دفاع اور سیکیورٹی سے متعلق اداروں کے نمائندے شامل تھے ۔
ارومچی: افغان اور پاکستانی فریق نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے منشور اور پُرامن بقائے باہمی کے پانچ اصولوں کی پاسداری کرتے ہیں، اختلافات کو جلد از جلد حل کرنے کے لیے پرعزم ہیں، افغانستان-پاکستان تعلقات میں بہتری کے لیے کام کریں گے، اور ایسے اقدامات سے گریز کریں گے جو صورتحال کو مزید بگاڑ یا پیچیدہ بنا سکتے ہیں ۔
دونوں فریقین نے مذاکرات کے میزبان ملک کے طور پر چین کی ثالثی کی کوششوں اور بہترین انتظامات کو سراہا اور اس کا شکریہ ادا کیا ۔
انہوں نے چین کے منصفانہ اور متوازن مؤقف اور بھرپور کوششوں کو بھی سراہا، تینوں فریقین نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کے مسائل کے حل کے لیے ایک جامع منصوبے پر بات چیت جاری رکھنے اور اہم و ترجیحی امور کی نشاندہی پر اتفاق کیا ۔
تمام فریقین کا ماننا تھا کہ ارومچی عمل بامعنی ہے، اور انہوں نے رابطے اور مکالمے کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا ۔

