Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, ستمبر 1, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 21 دہشت گرد ہلاک، فائرنگ کے تبادلے میں 6 اہلکار شہید
    • مصباح الحق قومی ٹیم کی سلیکشن کمیٹی سے مستعفی، انگلینڈ سے کھلاڑیوں کی واپس کے فیصلے پر ناراضی کا ظہار
    • پاکستان 27-2026 کیلئے ایس سی او سربراہ اجلاس کی صدارت سنبھالے گا، وزیراعظم شہبازشریف نے اعلامیے پر دستخط کردیئے
    • استنبول اجلاس، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، معاہدے کو ’’مکہ دفاع اتحاد‘‘ کا نام بھی دے دیا گیا
    • سی ایس ایس 2026 کا تحریری نتیجہ جاری، کامیابی کا تناسب صرف 2.74 فیصد رہا
    • عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے موقف کی تائید کردی،بڑا فیصلہ جاری
    • سندھ کے 22 سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کی سنگین صورتحال، رپورٹ میں بڑے انکشافات
    • پشاور: پولیس مقابلے میں بین الصوبائی گینگ کے 4 بدنام زمانہ ڈاکو ہلاک
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » کوئلہ کانوں میں شانگلہ کے مزدوروں کی بے آواز کہانی
    اہم خبریں جنوری 25, 2025

    کوئلہ کانوں میں شانگلہ کے مزدوروں کی بے آواز کہانی

    Facebook Twitter Email
    Shangla Miners Trapped in Death Traps
    شانگلہ کے کوئلہ کان مزدوروں کی زندگی: حادثات کا شکار اور حکومت کی خاموشی
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان دنیا کے بڑے کوئلہ پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، اور یہاں کی کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی حالت تشویشناک ہے۔ خاص طور پر شانگلہ کے مزدوروں کی ہلاکتوں اور حادثات کی بڑھتی ہوئی شرح نے نہ صرف اس علاقے کے عوام کو مایوس کیا ہے بلکہ پورے ملک کی توجہ بھی اس سنگین مسئلے پر مرکوز کر دی ہے۔

    پاکستان کے مختلف صوبوں بشمول خیبرپختونخوا، بلوچستان، اور پنجاب میں کوئلہ کانوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ ان میں خیبرپختونخوا کے ہنگو، اورکزئی ایجنسی اور بلوچستان کے علاقوں جیسے دُکی، مچھ، بولان اور ہرنائی شامل ہیں، جہاں ہزاروں مزدور کام کرتے ہیں۔ ان مزدوروں کی بڑی تعداد شانگلہ سے تعلق رکھتی ہے اور یہ ضلع پاکستان کے معدنیات کے شعبے میں لیبر فراہم کرنے والا واحد ضلع ہے۔ لیکن اس صنعت کی ترقی کی قیمت ان مزدوروں کی جانوں کی صورت میں ادا کی جا رہی ہے۔

    شانگلہ کے مزدوروں کی مشکلات اور حادثات کی وجوہات

    شانگلہ کے مزدوروں کی زندگی خطرات سے بھری ہوئی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 1990 سے 2023 تک، پاکستان میں کوئلہ کانوں میں حادثات میں 1 لاکھ 55 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے 7 ہزار کا تعلق شانگلہ سے ہے۔ ان میں زیادہ تر نوجوان شامل ہیں جن کی عمریں 15 سے 30 سال کے درمیان ہوتی ہیں۔ ان حادثات میں اکثر ایک ہی خاندان کے کئی افراد بھی جاں بحق ہو جاتے ہیں، جیسا کہ 2011 میں بلوچستان میں ہونے والے ایک دھماکے میں 42 شانگلہ کے مزدوروں کی موت واقع ہوئی تھی۔

    یہ حادثات عموماً زہریلی گیسوں کے اخراج، میتھین گیس کے دھماکوں اور کانوں کے منہدم ہونے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ ان حادثات میں فوری طور پر ریسکیو کا کوئی انتظام نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے جاں بحق ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، کانوں میں حفاظتی انتظامات کی کمی، مزدوروں کی عدم تربیت، اور چیک اینڈ بیلنس کا فقدان بھی ان حادثات کی بڑھتی ہوئی شرح کا سبب بن رہا ہے۔

    قانونی حیثیت اور حکومتی ذمہ داریاں

    پاکستان میں کوئلہ کان کنی قانونی ہے، مگر اکثر کانیں غیر قانونی طور پر یا بغیر مناسب لائسنس کے چلائی جاتی ہیں۔ مائن اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ کے مطابق، کانوں میں حفاظتی تدابیر نہ ہونے پر متعلقہ مینیجرز اور ٹھیکے داروں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے، جس میں قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم، ان قوانین پر عمل درآمد کی کمی کی وجہ سے حادثات کی تعداد میں کمی نہیں آ رہی۔

    محکمۂ معدنیات کی جانب سے سیفٹی اور مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جا رہے، اور نہ ہی مزدوروں کی حالت زار پر کوئی توجہ دی جا رہی ہے۔ شانگلہ کے مزدوروں کو نہ تو اچھے علاج کی سہولتیں میسر ہیں اور نہ ہی ان کے بچوں کے لیے تعلیمی ادارے موجود ہیں۔

    مزدوروں کا معاشی حالات اور متبادل روزگار کی ضرورت

    شانگلہ کے بیشتر لوگ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور اپنی زندگی کے لیے کوئلے کی کانوں میں مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ ان مزدوروں کی اجرت دوسرے علاقوں کے مزدوروں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے، جو تقریباً 60 سے 70 ہزار ماہانہ تک پہنچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس خطرناک کام کو ترجیح دیتی ہے، لیکن جب وہ حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں تو ان کے خاندان غربت میں ڈوب جاتے ہیں اور ان کا کوئی کفیل نہیں رہتا۔

    مقامی سیاسی شخصیات ہر سال ان سے ووٹ تو لیتی ہیں، مگر ان کی زندگی کے معیار میں کوئی بہتری نہیں لائی جا رہی۔ شانگلہ میں نہ تو مزدوروں کے لیے صحت کی سہولتیں ہیں اور نہ ہی ان کے بچوں کے لیے اسکولز۔

    جدید معدنیات نکالنے کے طریقے اور پاکستان کا بحران

    جدید دنیا میں معدنیات نکالنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مشینری کا استعمال کیا جا رہا ہے جس سے حادثات کی شرح میں کمی آئی ہے۔ خودکار مشینیں، ڈرونز، اور ریموٹ کنٹرول آلات کا استعمال مزدوروں کی حفاظت کو یقینی بناتا ہے، لیکن پاکستان میں ابھی بھی کان کنی کے قدیم طریقوں کا استعمال ہو رہا ہے جس کے باعث حادثات کا سلسلہ جاری ہے۔

    پاکستان میں کوئلہ کان کنی کے شعبے میں نہ صرف حفاظتی تدابیر کی کمی ہے بلکہ اس صنعت کے مزدوروں کے حقوق اور حالت زار پر بھی حکومت کی توجہ نہیں دی جا رہی۔ ان حادثات کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ کان کنی کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے، مزدوروں کی تربیت کو یقینی بنایا جائے، اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے۔ اس کے علاوہ، شانگلہ جیسے علاقوں میں مزدوروں کے لیے متبادل روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ وہ اپنی زندگی کے خطرات سے بچ سکیں اور بہتر مستقبل کی جانب قدم بڑھا سکیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleعلی امین گنڈاپور کو پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی صدارت سے ہٹادیا گیا
    Next Article دوسرا ٹیسٹ، ویسٹ انڈیز اور پاکستان کی ٹیمیں ایک ہی دن آوٹ ہو گئیں
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    مصباح الحق قومی ٹیم کی سلیکشن کمیٹی سے مستعفی، انگلینڈ سے کھلاڑیوں کی واپس کے فیصلے پر ناراضی کا ظہار

    ستمبر 1, 2026

    سی ایس ایس 2026 کا تحریری نتیجہ جاری، کامیابی کا تناسب صرف 2.74 فیصد رہا

    اگست 31, 2026

    سندھ کے 22 سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کی سنگین صورتحال، رپورٹ میں بڑے انکشافات

    اگست 31, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 21 دہشت گرد ہلاک، فائرنگ کے تبادلے میں 6 اہلکار شہید

    ستمبر 1, 2026

    مصباح الحق قومی ٹیم کی سلیکشن کمیٹی سے مستعفی، انگلینڈ سے کھلاڑیوں کی واپس کے فیصلے پر ناراضی کا ظہار

    ستمبر 1, 2026

    پاکستان 27-2026 کیلئے ایس سی او سربراہ اجلاس کی صدارت سنبھالے گا، وزیراعظم شہبازشریف نے اعلامیے پر دستخط کردیئے

    ستمبر 1, 2026

    استنبول اجلاس، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، معاہدے کو ’’مکہ دفاع اتحاد‘‘ کا نام بھی دے دیا گیا

    اگست 31, 2026

    سی ایس ایس 2026 کا تحریری نتیجہ جاری، کامیابی کا تناسب صرف 2.74 فیصد رہا

    اگست 31, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.