Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, اکتوبر 14, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • سہیل آفریدی مذاکرات کے آخر میں مراد سعید سے فیصلے کیوں لے رہے تھے؟ محسن نقوی کا انکشاف
    • یورپ کی جانب غیر قانونی مائیگریشن میں 64 فیصد کمی، یورپی کمشنر کی پاکستان کے اقدامات کی تعریف
    • پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ میں مزید دو لیور ٹرانسپلانٹ کامیاب
    • وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی آئی ایف سی کے نائب صدر سے ملاقات، ریکوڈک منصوبے پر تعاون کا جائزہ
    • حکومت غربت کے خاتمے اور پائیدار ترقی کے لیے پُرعزم ہے، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال
    • خیبرپختونخوا میں آئی ٹی سمیت تمام شعبوں میں ترقی یقینی بنائیں گے، وفاقی وزیر شزہ فاطمہ
    • خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ، ایمرجنسی کا فیصلہ ناگزیر تھا، وفاقی وزراء
    • ملتان میں رحمان بابا ایکسپریس کی 14 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 6 مسافر جاں بحق، 30 سے زائد زخمی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پولیس کی خلاف ورزیاں اور عوامی آگاہی
    بلاگ فروری 3, 2025

    پولیس کی خلاف ورزیاں اور عوامی آگاہی

    Facebook Twitter Email
    Police Brutality Laws Tightened
    پولیس کی خلاف ورزیاں اور عوامی آگاہی
    Share
    Facebook Twitter Email

    پولیس آرڈر 2002 کا سیکشن 156 ڈی مطابق کسی بھی شخص پر تشدد کرنا جرم ہے۔کسی شخص (ملزم یا مجرم) پر تشدد کرنے والے پولیس افسر یا اہلکار کو 5 سال تک قید کی سزا اور جرمانہ کیا جائے گا۔پولیس قوانین کہتے ہیں کہ ایسے افسر یا اہلکار کو نوکری سے بھی برخواست کیا جائے گا

    تعزیراتِ پاکستان و  دیگر قوانین کے تحت پولیس کو شہریوں پر تشدد کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ پولیس اہلکاروں کو قانون کے مطابق شہریوں کے ساتھ برابری اور عزت سے پیش آنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر پولیس کسی شہری پر غیر قانونی طور پر تشدد کرتی ہے، تو یہ ایک سنگین جرم سمجھا جاتا ہے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

    پاکستان میں پولیس کے خلاف تشدد اور زیادتی کی کئی مثالیں سامنے آ چکی ہیں، خاص طور پر سوشل میڈیا پر اس طرح کے واقعات کی رپورٹس نے عوامی غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ اعتراف جرم کروانے کے لیے پولیس کے روایتی تشدد کے طریقے اب غیر قانونی قرار پائے ہیں۔

    پولیس کے تشدد کے خلاف آئینی تحفظات

    پاکستان کے آئین کے مختلف دفعات شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں۔ آئین کی دفعہ 9 کے مطابق کسی شہری کو غیر قانونی طور پر جیل میں ڈالنا یا اس پر تشدد کرنا غیر آئینی ہے۔ پولیس ایکٹ 1861 کے تحت پولیس کو تشدد یا زیادتی کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ مزید برآں، تعزیراتِ پاکستان میں بھی تشدد کے خلاف واضح قوانین موجود ہیں۔

    پولیس کی خلاف ورزیاں اور عوامی آگاہی

    پولیس اہلکاروں کی جانب سے تشدد کے واقعات میں دفعہ  342 کے تحت شہریوں کو زبردستی اعتراف کرانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ اسی طرح، دفعہ  348 کے مطابق غیر قانونی حراست یا بے جا حراست میں رکھنا اور دفعہ  345 کے تحت جسمانی تشدد کر کے تفتیش کرنا پولیس کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں۔ شہریوں کو اپنے حقوق کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ وہ ان قوانین سے فائدہ اٹھا سکیں اور پولیس کے ہاتھوں تشدد سے بچ سکیں۔

    پولیس کے تشدد سے بچاؤ کے لیے عوامی رہنمائی

    عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے آئینی حقوق سے آگاہ ہوں اور اگر پولیس تشدد کرتی ہے تو ایف آئی آر درج کروانے، عدالت میں شکایت کرنے یا انسانی حقوق کمیشن میں درخواست دینے کا حق رکھتے ہیں۔ شہریوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ قانون کے مطابق پولیس کے ہاتھوں تشدد کے واقعات پر سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

    پولیس کے تشدد کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری

    اگرچہ پولیس کو شہریوں کی گرفتاری اور تفتیش کرنے کا اختیار حاصل ہے، مگر انہیں یہ اختیار قانون کے مطابق استعمال کرنا ہوتا ہے۔ شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ پولیس کے ہاتھوں تشدد اور اموات کے واقعات اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک ہم جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے تفتیش کے طریقے بہتر نہیں بنائیں گے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleچیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ججز ٹرانسفر  کے معاملے کو خوش آئند قرار دیديا
    Next Article جنید اکبر کا امتحان
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    خیبرپختونخوا میں سیاسی و آئینی کشمکش: گورنر راج اور ایمرجنسی میں فرق اور صدر مملکت کے اختیارات!

    اکتوبر 5, 2026

    جب عوامی آوازیں دبتی ہیں، تو ریاستیں لرزتی ہیں. تحریر: قریش خٹک

    ستمبر 22, 2026

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    سہیل آفریدی مذاکرات کے آخر میں مراد سعید سے فیصلے کیوں لے رہے تھے؟ محسن نقوی کا انکشاف

    اکتوبر 13, 2026

    یورپ کی جانب غیر قانونی مائیگریشن میں 64 فیصد کمی، یورپی کمشنر کی پاکستان کے اقدامات کی تعریف

    اکتوبر 13, 2026

    پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ میں مزید دو لیور ٹرانسپلانٹ کامیاب

    اکتوبر 13, 2026

    وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی آئی ایف سی کے نائب صدر سے ملاقات، ریکوڈک منصوبے پر تعاون کا جائزہ

    اکتوبر 13, 2026

    حکومت غربت کے خاتمے اور پائیدار ترقی کے لیے پُرعزم ہے، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال

    اکتوبر 13, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.