Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, ستمبر 8, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس
    • شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح
    • پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی
    • سٹاک ایکسچینج: عام شہریوں کی شرکت سے معاشی ترقی تیز ہو سکتی ہے، یوسف رضا گیلانی
    • ویمنز ایشیا کپ: آئی سی سی نے قومی ٹیم کی کپتان فاطمہ ثناء پرجرمانہ عائد کردیا
    • خیبر پختونخوا میں عدالتوں کے ایک دن کے بائیکاٹ سےعوام کے 12 کروڑ روپے ضائع ہوتے ہیں، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ
    • بھارت کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول کیلئے اپنے وعدے پورے کرے، پاکستان
    • مادرِ وطن کا دفاع مقدس امانت ہے، ثابت قدمی سے نبھاتے رہیں گے: ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پولیس کی خلاف ورزیاں اور عوامی آگاہی
    بلاگ فروری 3, 2025

    پولیس کی خلاف ورزیاں اور عوامی آگاہی

    Facebook Twitter Email
    Police Brutality Laws Tightened
    پولیس کی خلاف ورزیاں اور عوامی آگاہی
    Share
    Facebook Twitter Email

    پولیس آرڈر 2002 کا سیکشن 156 ڈی مطابق کسی بھی شخص پر تشدد کرنا جرم ہے۔کسی شخص (ملزم یا مجرم) پر تشدد کرنے والے پولیس افسر یا اہلکار کو 5 سال تک قید کی سزا اور جرمانہ کیا جائے گا۔پولیس قوانین کہتے ہیں کہ ایسے افسر یا اہلکار کو نوکری سے بھی برخواست کیا جائے گا

    تعزیراتِ پاکستان و  دیگر قوانین کے تحت پولیس کو شہریوں پر تشدد کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ پولیس اہلکاروں کو قانون کے مطابق شہریوں کے ساتھ برابری اور عزت سے پیش آنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر پولیس کسی شہری پر غیر قانونی طور پر تشدد کرتی ہے، تو یہ ایک سنگین جرم سمجھا جاتا ہے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

    پاکستان میں پولیس کے خلاف تشدد اور زیادتی کی کئی مثالیں سامنے آ چکی ہیں، خاص طور پر سوشل میڈیا پر اس طرح کے واقعات کی رپورٹس نے عوامی غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ اعتراف جرم کروانے کے لیے پولیس کے روایتی تشدد کے طریقے اب غیر قانونی قرار پائے ہیں۔

    پولیس کے تشدد کے خلاف آئینی تحفظات

    پاکستان کے آئین کے مختلف دفعات شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں۔ آئین کی دفعہ 9 کے مطابق کسی شہری کو غیر قانونی طور پر جیل میں ڈالنا یا اس پر تشدد کرنا غیر آئینی ہے۔ پولیس ایکٹ 1861 کے تحت پولیس کو تشدد یا زیادتی کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ مزید برآں، تعزیراتِ پاکستان میں بھی تشدد کے خلاف واضح قوانین موجود ہیں۔

    پولیس کی خلاف ورزیاں اور عوامی آگاہی

    پولیس اہلکاروں کی جانب سے تشدد کے واقعات میں دفعہ  342 کے تحت شہریوں کو زبردستی اعتراف کرانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ اسی طرح، دفعہ  348 کے مطابق غیر قانونی حراست یا بے جا حراست میں رکھنا اور دفعہ  345 کے تحت جسمانی تشدد کر کے تفتیش کرنا پولیس کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں۔ شہریوں کو اپنے حقوق کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ وہ ان قوانین سے فائدہ اٹھا سکیں اور پولیس کے ہاتھوں تشدد سے بچ سکیں۔

    پولیس کے تشدد سے بچاؤ کے لیے عوامی رہنمائی

    عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے آئینی حقوق سے آگاہ ہوں اور اگر پولیس تشدد کرتی ہے تو ایف آئی آر درج کروانے، عدالت میں شکایت کرنے یا انسانی حقوق کمیشن میں درخواست دینے کا حق رکھتے ہیں۔ شہریوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ قانون کے مطابق پولیس کے ہاتھوں تشدد کے واقعات پر سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

    پولیس کے تشدد کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری

    اگرچہ پولیس کو شہریوں کی گرفتاری اور تفتیش کرنے کا اختیار حاصل ہے، مگر انہیں یہ اختیار قانون کے مطابق استعمال کرنا ہوتا ہے۔ شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ پولیس کے ہاتھوں تشدد اور اموات کے واقعات اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک ہم جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے تفتیش کے طریقے بہتر نہیں بنائیں گے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleچیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ججز ٹرانسفر  کے معاملے کو خوش آئند قرار دیديا
    Next Article جنید اکبر کا امتحان
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس

    ستمبر 7, 2026

    شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح

    ستمبر 7, 2026

    پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی

    ستمبر 7, 2026

    سٹاک ایکسچینج: عام شہریوں کی شرکت سے معاشی ترقی تیز ہو سکتی ہے، یوسف رضا گیلانی

    ستمبر 7, 2026

    ویمنز ایشیا کپ: آئی سی سی نے قومی ٹیم کی کپتان فاطمہ ثناء پرجرمانہ عائد کردیا

    ستمبر 7, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.