Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, مارچ 4, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان سے تاجکستان کے سفیر کی ملاقات، نئے تجارتی راستوں کے حوالے سے گفتگو
    • حکومتِ پاکستان کا 1 ارب ڈالر اے آئی فنڈ، ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت
    • برطانوی ہائی کورٹ کا میجر (ر) عادل راجہ کے خلاف ہتکِ عزت کیس میں تفصیلی فیصلہ، بھاری جرمانہ برقرار
    • ضلع کرم کی سرحدی پٹی بوڑکی اور خرلاچی پر فائرنگ، جوابی کارروائی میں حملہ آوروں کو بھاری نقصان
    • پاک افغان سرحد پر جھڑپیں اور ایران پر امریکی-اسرائیلی حملہ: تازہ ترین مصدقہ صورتحال
    • رمضان شادمان اور احمد شیر کا پکوان عارف قاضی کے بنئیے مہمان
    • امریکا کے ایران میں وسیع حملے، ہزاروں اہداف تباہ، ایران کی جانب سے 500 میزائل داغے گئے
    • پاک افغان سرحد پر بلوچستان میں پاک فوج کی سخت جوابی کارروائی، 50 سے زائد مقامات پر آپریشن جاری
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پولیس کی خلاف ورزیاں اور عوامی آگاہی
    بلاگ

    پولیس کی خلاف ورزیاں اور عوامی آگاہی

    فروری 3, 2025Updated:فروری 3, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Police Brutality Laws Tightened
    پولیس کی خلاف ورزیاں اور عوامی آگاہی
    Share
    Facebook Twitter Email

    پولیس آرڈر 2002 کا سیکشن 156 ڈی مطابق کسی بھی شخص پر تشدد کرنا جرم ہے۔کسی شخص (ملزم یا مجرم) پر تشدد کرنے والے پولیس افسر یا اہلکار کو 5 سال تک قید کی سزا اور جرمانہ کیا جائے گا۔پولیس قوانین کہتے ہیں کہ ایسے افسر یا اہلکار کو نوکری سے بھی برخواست کیا جائے گا

    تعزیراتِ پاکستان و  دیگر قوانین کے تحت پولیس کو شہریوں پر تشدد کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ پولیس اہلکاروں کو قانون کے مطابق شہریوں کے ساتھ برابری اور عزت سے پیش آنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر پولیس کسی شہری پر غیر قانونی طور پر تشدد کرتی ہے، تو یہ ایک سنگین جرم سمجھا جاتا ہے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

    پاکستان میں پولیس کے خلاف تشدد اور زیادتی کی کئی مثالیں سامنے آ چکی ہیں، خاص طور پر سوشل میڈیا پر اس طرح کے واقعات کی رپورٹس نے عوامی غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ اعتراف جرم کروانے کے لیے پولیس کے روایتی تشدد کے طریقے اب غیر قانونی قرار پائے ہیں۔

    پولیس کے تشدد کے خلاف آئینی تحفظات

    پاکستان کے آئین کے مختلف دفعات شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں۔ آئین کی دفعہ 9 کے مطابق کسی شہری کو غیر قانونی طور پر جیل میں ڈالنا یا اس پر تشدد کرنا غیر آئینی ہے۔ پولیس ایکٹ 1861 کے تحت پولیس کو تشدد یا زیادتی کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ مزید برآں، تعزیراتِ پاکستان میں بھی تشدد کے خلاف واضح قوانین موجود ہیں۔

    پولیس کی خلاف ورزیاں اور عوامی آگاہی

    پولیس اہلکاروں کی جانب سے تشدد کے واقعات میں دفعہ  342 کے تحت شہریوں کو زبردستی اعتراف کرانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ اسی طرح، دفعہ  348 کے مطابق غیر قانونی حراست یا بے جا حراست میں رکھنا اور دفعہ  345 کے تحت جسمانی تشدد کر کے تفتیش کرنا پولیس کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں۔ شہریوں کو اپنے حقوق کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ وہ ان قوانین سے فائدہ اٹھا سکیں اور پولیس کے ہاتھوں تشدد سے بچ سکیں۔

    پولیس کے تشدد سے بچاؤ کے لیے عوامی رہنمائی

    عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے آئینی حقوق سے آگاہ ہوں اور اگر پولیس تشدد کرتی ہے تو ایف آئی آر درج کروانے، عدالت میں شکایت کرنے یا انسانی حقوق کمیشن میں درخواست دینے کا حق رکھتے ہیں۔ شہریوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ قانون کے مطابق پولیس کے ہاتھوں تشدد کے واقعات پر سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

    پولیس کے تشدد کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری

    اگرچہ پولیس کو شہریوں کی گرفتاری اور تفتیش کرنے کا اختیار حاصل ہے، مگر انہیں یہ اختیار قانون کے مطابق استعمال کرنا ہوتا ہے۔ شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ پولیس کے ہاتھوں تشدد اور اموات کے واقعات اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک ہم جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے تفتیش کے طریقے بہتر نہیں بنائیں گے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleچیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ججز ٹرانسفر  کے معاملے کو خوش آئند قرار دیديا
    Next Article جنید اکبر کا امتحان
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    امن کی کنجی کابل کے ہاتھ میں !

    فروری 22, 2026

    غربت کی نئی لہر اور معیشت کا کڑا امتحان

    فروری 21, 2026

    رہائی فورس کا اعلان،سیاسی وفاداری یا تصادم کا حتمی فیصلہ ؟

    فروری 20, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان سے تاجکستان کے سفیر کی ملاقات، نئے تجارتی راستوں کے حوالے سے گفتگو

    مارچ 4, 2026

    حکومتِ پاکستان کا 1 ارب ڈالر اے آئی فنڈ، ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

    مارچ 4, 2026

    برطانوی ہائی کورٹ کا میجر (ر) عادل راجہ کے خلاف ہتکِ عزت کیس میں تفصیلی فیصلہ، بھاری جرمانہ برقرار

    مارچ 4, 2026

    ضلع کرم کی سرحدی پٹی بوڑکی اور خرلاچی پر فائرنگ، جوابی کارروائی میں حملہ آوروں کو بھاری نقصان

    مارچ 4, 2026

    پاک افغان سرحد پر جھڑپیں اور ایران پر امریکی-اسرائیلی حملہ: تازہ ترین مصدقہ صورتحال

    مارچ 4, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.