پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج نے خیبر پختونخوا کے ایم ون موٹروے کو شدید متاثر کر دیا ہے، جہاں صوابی انٹرچینج پر دھرنا جاری ہے ،سابق وزیراعظم کی رہائی اور ان کی آنکھوں کے علاج کے لیے الشفاء ہسپتال منتقلی کے مطالبے پر کارکنوں نے موٹروے بلاک کر رکھا ہے، جس سے ہزاروں مسافر پریشان ہیں ۔
صوابی: اس احتجاج کے سبب وفاقی وزیر برائے کشمیر امور و شمالی علاقہ جات امیر مقام صوابی میں ٹوپی کے قریب غازی روڈ پر ٹریفک جام میں پھنس گئے ۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ وہ غازی روڈ پر کئی گھنٹوں سے زائد وقت تک پھنسے رہے، جہاں ہزاروں گاڑیاں کھڑی ہیں۔ انہوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "بچے اور مریض شدید تکلیف میں ہیں، یہ احتجاج عوام کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے ۔”
امیر مقام نے مطالبہ کیا کہ احتجاج کرنے والے فوری طور پر شاہراہیں کھولیں تاکہ انسانی جانوں کو خطرہ نہ ہو، ان کے مطابق یہ صورتحال ناقابل برداشت ہے، کیونکہ ایمرجنسی کیسز کو راستہ نہیں مل رہا ۔
ایک دلخراش واقعے میں صوابی انٹرچینج پر روڈ بلاک کی وجہ سے ایمبولینس میں ایک خاتون کا انتقال ہو گیا، جس نے عوامی غم و غصہ بڑھا دیا ۔
پی ٹی آئی کارکنوں نے اعلان کیا ہے کہ عمران خان کی طبی منتقلی تک دھرنا جاری رہے گا، احتجاج دوسرے دن بھی جاری ہے، جس سے پشاور، مردان، صوابی اور اسلام آباد کی طرف ٹریفک متاثر ہے ۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان رابطے جاری ہیں، اور ڈاکٹروں کا پینل عمران خان کا معائنہ کر رہا ہے ۔

