قدرتی آفات کے وقت کسی قوم کی اصل طاقت اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ وہ اپنے عوام کی حفاظت کس طرح کرتی ہے۔ پنجاب میں آنے والے حالیہ سیلاب نے جہاں تباہی اور مایوسی کو جنم دیا، وہیں ایک ایسی کہانی بھی سامنے آئی جس میں جذبہ، قربانی اور یکجہتی جھلکتی ہے۔ اس کہانی کے مرکزی کردار پاک فوج کے جوان تھے، جنہوں نے نہ صرف بروقت امدادی کارروائیاں کیں بلکہ سکھ برادری کے دل بھی جیت لیے۔
جب پانی نے گاؤں، کھیت اور حتیٰ کہ مقدس مقامات تک کو اپنی لپیٹ میں لیا، تو سب سے پہلے پاک فوج کے جوان متاثرہ علاقوں میں پہنچے۔ کہیں فوجی ہیلی کاپٹر فضا میں منڈلا رہے تھے، کہیں کشتیاں مصیبت زدہ خاندانوں کو نکال رہی تھیں، اور کہیں جوان کمر تک پانی میں کھڑے ہو کر لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچا رہے تھے۔ سکھ رہنماؤں نے اس جذبے کو "انسانیت سے بڑھ کر خدمت” قرار دیا۔
پاکستانی سکھ رہنما رمیش سنگھ اروڑہ نے اپنے بیان میں کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ جہاں بھی ضرورت ہوگی، فوج کے ہیلی کاپٹر دستیاب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی جوانوں نے اس وقت تک اپنی ذمہ داری نبھائی جب تک آخری متاثرہ شخص کو بحفاظت منتقل نہیں کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کرتارپور کے دورے نے دنیا بھر کے سکھوں کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ یہ صرف ایک علامتی قدم نہیں بلکہ ایک پیغام تھا کہ پاک فوج اپنے عوام اور اقلیتوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے۔
دیگر سکھ رہنماؤں نے بھی کہا کہ صرف 24 گھنٹوں میں کیے گئے اقدامات اپنی مثال آپ ہیں۔ خاص طور پر کرتارپور صاحب میں فوری انتظامات نے دنیا بھر کے سکھ یاتریوں کے دل جیت لیے۔ ان کے مطابق پاکستان میں اقلیتوں کو جو عزت، احترام اور تحفظ ملتا ہے، وہ دنیا کے کسی اور خطے میں میسر نہیں۔
سکھ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پاک فوج اور سکھ برادری کا رشتہ ایسا ہے جو گوشت اور ناخن کی مانند ہے، اور یہ تعلق ہمیشہ قائم رہے گا۔ آج دنیا بھر کے سکھ محبت اور عقیدت کے ساتھ پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں، اور یہ جذبات پاکستان کے لیے ایک سرمایہ ہیں۔